• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Friday, October 2, 2026
JKNS
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
JKNS | Jammu Kashmir News Service
No Result
View All Result
Home اردو خبریں

ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس ( 19)

محمد سلیم سالک by محمد سلیم سالک
October 2, 2026
in اردو خبریں
A A
ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس ( 19)
FacebookTwitterWhatsapp

پینل ڈسکشن کی سنجیدگی اور سامعین کی دلچسپی کا اندازہ اس بات سے لگایا جاسکتا ہے کہ سامعین میں کئی حضرات ایسے تھے جو گفتگو میں حصہ لینا چاہتے تھے، مگر وقت کی کمی اور صدرِ مجلس کی جانب سے پینل ڈسکشن کو مزید طول نہ دینے کی ہدایت کے باعث سب کو موقع دینا ممکن نہ تھا۔ تاہم، سامعین کی جانب سے اصرار کو دیکھتے ہوئے مشتاق احمد مشتاق کو اپنی بات رکھنے کی اجازت مرحمت کی گئی۔ یوں محسوس ہورہا تھا کہ موضوع نے حاضرین کو اس قدر متوجہ کرلیا تھا کہ وہ محض خاموش سامع بن کر رہنے کے بجائے بحث کا حصہ بننا چاہتے تھے۔
مشتاق احمد مشتاق نے لَل دید اور شیخ العالمؒ کے تشخص کے فکری پس منظر پر گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کشمیر میں ایک عرصے سے درون بینی اور غیب پر یقین کا رجحان موجود رہا ہے۔ لَل دید اور شیخ العالمؒ کے عہد میں بھی ایک بڑی فکری اور تہذیبی تبدیلی رونما ہورہی تھی، اور ان دونوں نے اپنے عہد کی اس تبدیلی کے ساتھ ہم آہنگ ہوتے ہوئے اسے اپنی زبان اور اپنے شعری اظہار میں پیش کیا۔
اپنی بات کی وضاحت کرتے ہوئے مشتاق صاحب نے کشمیری زبان کی روزمرہ بول چال سے ایک دلچسپ مثال دی۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم کشمیری میں ’’رود وولن‘‘ یا ’’تاپھ کرن‘‘ کہتے ہیں تو اس کے اردو مترادف بالترتیب ’’بارش ہوئی‘‘ اور ’’دھوپ نکلی‘‘ ہوں گے۔ بظاہر دونوں زبانوں میں بات ایک ہی ہے، لیکن مشتاق صاحب کے مطابق کشمیری الفاظ کے اندر ایک خاص نظریہ بھی پوشیدہ ہے؛ یعنی اس پورے عمل کے پیچھے کوئی ایسی قوت موجود ہے جو اسے چلا رہی ہے۔ ان کے نزدیک یہ کسی ایک فرد کا شعوری عقیدہ نہیں بلکہ کشمیریوں کے اجتماعی ذہن اور فطری رویے کا ایک حصہ رہا ہے۔
مشتاق صاحب کا کہنا تھا کہ یہی فطری اور ذہنی رویہ اسلام کے کشمیر میں پہنچنے سے پہلے بھی یہاں کی فکری روایت میں کسی نہ کسی شکل میں موجود تھا۔ بعد میں جب نئے مذہبی اور فکری تصورات یہاں پہنچے تو کشمیری شعرا نے انہیں اپنے مقامی تہذیبی مزاج کے ساتھ ہم آہنگ کیا اور اپنی زبان میں شعری اظہار عطا کیا۔ اسی تناظر میں لَل دید اور شیخ العالمؒ کے کلام کو دیکھا جائے تو ان کی شاعری کے پسِ پشت کشمیر کا وہ قدیم فکری مزاج بھی نظر آتا ہے جو درون بینی، غیب پر یقین اور کائنات کے پسِ پردہ کسی قوت کی موجودگی کے احساس سے عبارت رہا ہے۔
مشتاق صاحب کی بات سے جو نکتہ میری سمجھ میں آیا وہ یہی تھاکہ لل دید اور شیخ العالم کی شاعری کا اختصاص سمجھنے کے لئے چودھویں صدی سے قبل کشمیر میں موجود علمی و عقیدتی تصورات کو سمجھنے کی ضرورت ہے ۔ ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ میر طارق رسول نے صاحب صدر کو اپنی صدارتی تقریر مرحمت کرنے کی درخواست کی ۔ساتھ ہی ایک اہم نکتے کو بھی زیر بحث لانے کی التجا کی کہ لل دید اور شیخ العالم کے اسلوب کو عصر حاضر میں برتا جاتا ہے کہ نہیں ۔
پروفیسر ایاز رسول نازکی نے پہلے ادبی مرکز کمراز کے زعما کو مبارک بادی دی کہ اس طرح کے اہم موضوعات کو کانفرنس کا حصہ بنایاگیا ۔موضوع کے اعتبار سے کئی اہم باتیں زیر بحث رہیں لیکن میرا ذاتی ماننا ہے کہ لَل دید، شیخ العالم اور کشمیری تشخص کو تب تک نہیں سمجھا جاسکتا ہے جب تک اس دور کی تاریخ زیر نظر نہیں رہے گی ۔ باقی شعر و شاعری کے اسلوب اور طریقۂ اظہار میں وقت کے ساتھ تبدیلی آتی رہتی ہے۔ لَل دید کے عہد کا شعری ماحول آج موجود نہیں۔ موجودہ زمانہ عالمگیریت کا دور ہے، جہاں مختلف ادبی رجحانات اور اسالیب ایک دوسرے سے مسلسل متاثر ہورہے ہیں۔ اس لیے یہ ضروری نہیں کہ آج کے شعرا لَل دید کے مخصوص اسلوب سے اسی شدت کے ساتھ متاثر ہوں جس طرح ماضی کے شعرا ہوئے ہوں۔
البتہ ان کے مطابق لَل دید کی فکر، صوفیانہ بصیرت اور انسانی تجربات سے جڑے موضوعات آج بھی جدید شاعری کے لیے اہم حوالۂ فکر بن سکتے ہیں۔ مجھے ایاز صاحب کی یہ بات خاصی متوازن محسوس ہوئی کہ روایت کا زندہ رہنا ضروری ہے، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ نئی شاعری ہر حال میں پرانے اسلوب کی پابند ہوجائے۔
شاید اچھی گفتگو کی یہی خوبی ہوتی ہے کہ ہر سوال کا جواب فوراً نہیں ملتا۔ بعض سوال محفل ختم ہونے کے بعد بھی ذہن میں سفر کرتے رہتے ہیں اور انسان کو دوبارہ کتابوں، تاریخ اور اپنے تہذیبی ماضی کی طرف لے جاتے ہیں۔
پینل ڈسکشن اپنے اختتام کو پہنچی تو ڈائس سے اعلان ہوا کہ اب کانفرنس کی تیسری نشست شروع کی جائے گی، لہٰذا مہمانانِ گرامی اپنی نشستوں پر ہی براجمان رہیں۔ یہ کہتے ہوئے مائیک تیسری نشست کے ناظم، جناب منظور احمد شاہ کے حوالے کر دیا گیا۔
منظور احمد شاہ بحیثیت نیوز ریڈر اور اداکار پہلے ہی اپنی ایک منفرد شناخت رکھتے ہیں، لیکن ان کی شخصیت کا ایک اور دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ موصوف کمپیوٹر کمپوزنگ کے فن سے بھی بخوبی واقف ہیں۔ اس کا ایک بڑا ثبوت یہ ہے کہ انہوں نے نہایت قلیل مدت میں ’’پرو‘‘ کا گولڈن جوبلی نمبر کمپوز کرکے سب کو ورطۂ حیرت میں ڈال دیا۔
منظور احمد شاہ نے نشست کی صدارت کے لیے جناب مشتاق احمد مشتاق کو دعوت دی۔ مشتاق احمد مشتاق خود ایک کہنہ مشق افسانہ نگار ہیں اور ساہتیہ اکادمی اور کلچرل اکیڈمی ایوارڈ سے سرفراز ہو چکے ہیں۔ موصوف کو عقیدتی ادب سے خاص لگاؤ ہے اور اس کے ساتھ ساتھ وہ معاصر ادبی منظرنامے پر بھی گہری نظر رکھتے ہیں۔ سامعین نے پُرجوش تالیوں سے جناب مشتاق احمد مشتاق کا خیرمقدم کیا۔
اس کے بعد جناب امتیاز انجم، جو کے۔آئی۔ایس افسر ہونے کے ساتھ ساتھ ایک اچھے کشمیری شاعر بھی ہیں، اور جناب جاوید اقبال، مدیر شیرازہ کشمیری، کلچرل اکیڈمی، کو بحیثیتِ مہمانانِ ذی وقار ڈائس پر تشریف لانے کی دعوت دی گئی۔ اسی طرح کہنہ مشق کشمیری شاعر فیاض تلگامی اور قادرالکلام کشمیری شاعر سید عباس جوہر کو بھی ڈائس پر مدعو کیا گیا۔
اس نشست کا فارمیٹ قدرے مختلف تھا۔ اس میں دو تخلیقات پیش کی جانی تھیں، جن پر مقررہ ترتیب کے مطابق تنقیدی و تجزیاتی گفتگو کی جاتی۔ پہلے تخلیق کار اپنی تخلیق سامعین کے سامنے پیش کرتا، اس کے بعد ناقدین اور اہلِ ادب اس تخلیق کے مختلف پہلوؤں موضوع، اسلوب، زبان، فنی ساخت اور فکری جہتوں پر اپنی آرا پیش کرتے۔ یوں یہ نشست محض تخلیقات سننے تک محدود نہیں تھی بلکہ تخلیق اور تنقید کے باہمی رشتے کو بھی نمایاں کرنے والی تھی۔
ناظمِ نشست نے مائیک سنبھالتے ہوئے جناب فیاض تلگامی کو نعتِ رسولِ مقبول ﷺ پیش کرنے کی دعوت دی۔ فیاض صاحب نے نہایت عقیدت و محبت کے ساتھ نعتِ شریف کے اشعار پڑھنے شروع کیے۔ ابھی ان کے لبوں سے صرف تین اشعار ہی ادا ہوئے تھے کہ اچانک جامع مسجد حاجن سے نمازِ عشا کی اذان کی آواز فضا میں بلند ہوئی۔ نعت کے الفاظ اور اذان کی آواز جیسے ایک ہی لمحے میں ماحول کو عقیدت کے ایک نئے احساس سے بھر گئے۔ اذان کے احترام میں ناظمِ نشست نے فوراً تیسری نشست کو ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔ یوں یہ نشست اپنے باقاعدہ آغاز کے چند ہی منٹوں بعد رک گئی، اوربعض حاضرین نمازِ عشا کی ادائیگی کے لیے روانہ ہونے لگے۔(جاری)

Previous Post

Historic Moment for J&K As Irani Cup Returns To Srinagar After Nearly Four Decades

Next Post

Another J&K Assembly Session Ends — But What Did the Common Man Got?

محمد سلیم سالک

محمد سلیم سالک

Next Post
Day 2 Of J&K Assembly Begins With Demand For Sheikh Abdullah, July 13 Martyrs Holiday

Another J&K Assembly Session Ends — But What Did the Common Man Got?

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.