یونین ٹری ٹری جموں وکشمیر میں صدیوں سے پرانی ایک درگاہ کہ جس میں برصغیر ھندوپاک کی ممتاز علمی و روحانی شخصیت جناب حضرت شیخ نورالدین ولی ریشی اویسی کشمیری رح اور آپ کے دس بڑے خلیفوں کی مرقدیں موجود ہے۔ یہ درگاہ سرینگر سے محض 30، کلو میٹر کی دوری پر چرارشریف نامی ایک تاریخی قصبہ اور منفرد مقام رکھنے والی جگہ پر فیض وعام کے لئے مخصوص وموجود ھے۔ زمانہ شیخ العالم میں اس جگہ کا نام ژارن تھا۔ لیکن سال 842، ھ کے دوران اپنی حیات مبارکہ کے 63، سال مکمل کرنے کے بعد بانی تحریک ریشیان کشمیر جناب، شیخ نورالدین ولی ریشی رح، نے جب روپہ ون مرکزی صدر مقام پر جنت نصیب کی تب، اسوقت موجود دوسرے موجود روحانی بزرگوں،عالموں، ریشیوں اور سادات نے، سلطان کشمیر بڈشاہ کی موجودگی میں حسب وصیت، ھی باغ، نزدیک مسجد سنگرم ڈار ر کے مقام پر اعزاز اور احترام کے ساتھ مدفون کیا۔ جس کے بعد آہستہ آہستہ دوسرے بڑے اور اپنے اپنے وقت کے ریشی حضرات بھی وفات کے بعد اسی جگہ آسودہ ہوتے رھئے۔ تاہم سلطان وقت ذین العابدین بڈشاہ صاحب نے ھی یہاں اولین مرقد عالیہ تعمیر کروانے کی سحادت حاصل کی۔
برصغیر کے نامور قلمکاروں، مورخوں اور دوسرے تاریخ نگاروں نے اتفاق کیا ہے کہ
مرقد مبارک حضرت علمدار ملک کشمیر رح، سب سے پہلے شھمیری حکومت،کے دوران سلطان کشمیر، ذین العابدین بڈشاہ صاحب نے سال 842،ھ میں انتہائی چاہت اور ولولے کے ساتھ آراستہ کیا۔ علاوہ ازیں موصوف نے پہلے سے موجود مسجد شیخ العالم کے عقب میں ایک تاریخی خانقاہ بھی قائیم کی تھی۔ لیکن چک دور حکمرانی کے دوران سلطان یعقوب شاہ چک کے دور میں۔خانقاہ۔ دوسرے نزدیکی تعمیرات کے ساتھ ایک آتشی حادثہ کے نذر ہونے کے بعد شہید ہوگئے تو چک حکمران کی نگرانی میں وسعت نظری اور شاہان شان ڈیزائین کے ساتھ یہ تعمیرات اسوقت کے فن وتعمیر کے مطابق بہت جلد دوبارہ تعمیر کئے گئے۔ مغل دور کے دوران اسوقت ضرورت کے مطابق وسعت اور نئے تعمیرات بنائے گئے۔ قلعہ اور سرائے خاص طور قابل زکر تھا۔
لیکن بدقسمتی سے افغان دورہ اقتدار کے دوران ایک دوسرے ناگہانی حادثہ کے بعد صوبیدار( مرکزی گورنر) عطاء محمد خان نے نہایت کم قلیل وقت کے دوران مذید وسعت اور قدامت سے تاریخی خانقاہ کو ایک نئے پرکشش انداز اور جدیدیت بخشتے ہویئے پھر درگاہ چرارشریف سے بھی گھاس اور مٹی ھٹواکر۔ لکڑی سے بنے پلیٹیں، جسے کشمیری میں سنگل کہتے ہے۔ چھت پر لگوائی۔ یہاں تک کہ اس عاشق علمدار ملک کشمیر نے شیخ العالم رح کے نام پر سکہ بھی جاری کیا۔ تذکرہ نویس لکھتے ھے کہ سکھ دور حکمرانی سے قبل یہ خانقاہ افغان گورنر عطا محمد خان ۱۹ویں صدی کے آغاز (تقریباً ۔1809ء سے 1818ء) میں کشمیر کا افغان (درانی) گورنر تھا۔ اگرچہ بعض افغان حکمرانوں نے اپنے دورِ حکومت (“افغان درانی دور”) میں کشمیر کی مذہبی عمارتوں کی مرمت، تجدید یا توسیعی کام کروایا تھا تجزیہ نگاروں نےاندازہ قایم کیا چار باموں یا۔ منقش میناروں سے اراستہ، یہ طرز تعمیر قدیم فن تعمیر کی حثیت میں پہلے سے اپنی اصل ھیت میں موجود تھی۔ تاریخ اور تحقیق سے عیان ھے کہ جب بعد کے عرصے میں افغان گورنر نے درگاہ کے احاطہ، دیوار، کھاردرواہ، باب البام الدین، کو سرنو مرمت کروائی۔ تب چھت ہر موجود چار میں سے دو مینار کم کئے۔ باقی اپنی ھیت میں چھوڑا۔ اس طرز سے درگاہ اسوقت بے مثال دیکتی تھی۔ لیکن خانقاہ کی دوسری منزل کو اور زیادہ قدامت بخشی۔چھتوں پہ سنگل لگوائی۔جبکہ خانقاہ خود تعمیر کروائی تھی ۔حضرت شیخ نورالدین رح،( ریشی ،اویسی، کشمیری )کے نام پر کشمیر کی تاریخ کا پہلا سکہ رائج کیا۔ تحقیق کے بعد سامنے ایا کہ یہ عمارت کشمیر کے مخصوص لکڑی چندن، دیور سندل، کے طرزِ تعمیر (جس میں ڈھلوان دار چھت اور اہرامی مینار شامل ہیں) اور ڈھلوان چھت کے موسمی تبدیلی سے مقابلہ کرنے کے لئے مٹی اور گھاس لگوائی جاتی تھی۔ سکھ دور حکومت میں غیر ملکی مصوروں نے دونوں تاریخی مقامات کے پھر سے خاکے بنایئے اور مذید ضرورتوں کو ترجیح دیلوائی۔ اسکے بعد دوسرے حکمرانوں کے دور میں بھی ان مقامات کو نت نئے انداز، اور منفرد نوعیت سے وسعت ملتی رھی۔ مہاراجوں، میں شامل ہر راجے نے نہ صرف درگاہ اور خانقاہ وغیرہ کو بلکہ مغل دور حکمرانی سے ریت رہی کہ قصبہ چرارشریف کے میکنوں کی ضرورت کا بھی خیال رکھا گیا۔ عقیدتمندوں کے لئے ہردور سے سرائے مسافر خانہ اور، پارکیں، مقامی بستی کی طرح، آہستہ آہستہ بڑھتی رھی لوگ اتے رھئے اور ملک ہندوستان کی آزادی تک تمام اعلی حکمرانوں نے اس شہر کی خوب آرائش پر دھیان دیا۔ اسکے بعد عوامی دور حکمرانی کے دوران اسوقت کے وزیراعظم بخشی غلام محمد نے قصبہ چرارشریف اور درگاہ علمدار ملک کشمیر رح پر خوب توجہ دی۔ نیا مسافر خانہ، چھتوں پہ ٹین کی چادریں لگواکر زائین کے لئے کنکریٹ بلڈنگیں۔ دکانات، حال، اور دفتریں بالکل نئے انداز اور طرز پر، تعمیر کروائے۔ بخشی مرحوم نے قلعہ بازار کی شان رفتہ بحال کرنے کے لئے قلعہ کے نیچے دکانات بنواکر ،مسلم وقف بورڈ چرارشریف کے لئے امدنی کے نئے حربے پیدا کرنے کے علاوہ دونوں تلابوں کو سر نو وسعت دیکر بڑھایا زائیرین کے لئیے عارضی قرار گاہ بنوائی۔اور احاطہ درگاہ کو وسعت دینے کے لئے مزار ٹینگ اور کمہار محلہ کے نیچے ٹیلوں کی شکل میں موجود پہاڈیوں کو مشین سے ہموار کروایا۔ سرینگر چرارشریف سڑک کو تکیہ ناگام کے مقام سے دوسری سمت دیکر اسے ٹریفک امدرفت کے لئے آسان بنانے میں اھم رول ادا کیا۔ اس وجہ سے اج تک بخشی تعمیرات کی تاریخ اور ہر ایک کام کی مضبوطی،کے مطلق مثالیں دی جاتی ہیں۔ حالانکہ مرحوم شیخ محمد عبداللہ صاحب نے اپنے دور میں ثابات لائین یعنی بنوایا۔ خانقاہ اور حمام کے درمیان درسگاہ کے لئے بڑی ایک حال بنوائی۔دونوں تاریخی تلابوں کی مرمت کروائی۔ لیکن باوجود اسکے پہلے سے موجود بخشی تعمیرات میں مذید کوئی اضافہ نہیں کرسکے۔ اسکے 20 سال بعد سانحہ چرارشریف وقوع پذیر ھوا تو مرکزی حکومت کے تعاون سے تاریخی مقامات جدید طرز کے ساتھ فوری طور از سر نو نئے ایک ماڈل اور منفرد طریقے سے تعمیر کئے گئے قلعہ بازار کے اس طرف ثابات کے نیچے درجنوں دکانات بنائے گئے۔ لیکن حمام کی جگہ ھموار کرکے یہ زمین بھی خانقاہ اور زیارت عالیہ کے صحن کے ساتھ ملائی گئی۔ زیارت سنگرم ڑار رح کو قریب 600، سال بعد صحن وجوار میں شامل کیا گیا۔ نیا بس اڈہ تعمیر کرنے کے علاوہ نصب بستی یہاں سے تین کلومیٹر دور شفٹ کئے گئے۔ تاکہ نئی دلفریب درگاہ اور تاریخی خانقاہ وغیرہ اور زیادہ نکھار پاسکیں۔ لیکن عام زائیر کے چرارشریف میں ٹھہرنے کے لئے کوئی عمارت یا جدید سہولیات سے آراستہ کوئی ایک تعمیر وجود نہیں پاسکی حالانکہ تب تک کم سے کم یہاں کے ریشی حضرات ضرورت مندوں کو گھر لیاکرتے تھے۔ عوام نے بار ہا۔ یہاں سب سے زیادہ ضروت بیت الزائیرین اور رہائشی کواٹر فورا تعمیر کرنے کے لئے فاروق عبداللہ سے لیکر موجودہ ایل جی انتظامیہ تک درخواستیں کیں۔
لیکن کدہ نے توجہ نہیں کی۔ اس دوران2220۔کے دوران مرکزی حکومت نے جموں و کشمیر وقف بورڈ کو تحویل میں لیا تب مذید امیدیں وابستہ ہونے لگئیں۔ اسی کشمکش کے دوران خوش قسمتی سے۔ سال،2023،
کے دوران،جب ڈاکٹر سید درخشاں اندرابی صاحبہ کے سپرد کیا تو موصوفہ نے دوسری زیارت گاھوں کی طرح درگاہ چرارشریف کی طرف بھی خاص توجہ دینے ضرورت محسوس کی۔ موصوفہ نے سب سے پہلے اندرونی مرمت کروائی۔ اسکے بعد مشرقی اور جنوبی اطراف سے دو عالیشان داخلی کنوپیاں خوبصورتی سے تعمیر کروایئے۔ جنھوں نے پہلی مرتبہ رونق بخشی۔ تاریخی تلاب کلان کو زیب نظر بنوایا۔ نفل ٹینگ کے ایک حصے کو بیرونی قبضے سے ازاد کروایا۔ دکانات اور، زرعی امدنیوں میں اضافہ کروایا۔ اندرونی نظام کو وقف کنٹرول میں کردیا۔ محکمہ اثار قدیمہ اور ھیر ٹیج کو راہ راست پر لاکر ان سے بھی اھم کام کروایئے کہ یہ موجودہ نئے تعمیرات اور وسعت کاریاں وادی بھر میں ریکارڈ قایم کرنے کے لئے کافی ھے۔ مغل دور کے بعد پہلی مرتبہ زائیرین کے لئے قیام گاھیں، تعمیر ہوگئیں۔ چرارشریف انے والئے زائیروں کو ہوٹل یا دور ونزدیک دوسرے کسی گیسٹ ھاوس یا تھری سٹار ہوٹل میں قرار کرنے کے لئے
پریشانی کا سامنا نہیں کرنا پڑھیگا۔ تین منزلوں پہ مشتمل بیت الزائیرین پہلی بار تیار ہوگیا۔ دن بھر انے والئے زائیرین بغیر مذہب وملت کچھ دیر گزارنے کے لئے زیارت کے گرد موجود ڈی کلاس، مہمان خانوں میں، گھر کی طرح ارام کرسکتے۔ چرارشریف کی زیارت پر انے والئے ھر قسم کے ملکی یا غیر ملکی عقیدت مند کے لئے جدید طرز تعمیر سے تیار، ضرورت کا ساز وسامان وقف بورڈ نے انکے اسی عطیہ کی لاگت سے تیار کئے ھے۔ جو عطیہ گذشتہ۔ برابر چالیس سالوں سے شاید غائیب ہی ہوتا تھا۔ ڈاکٹر سید درخشاں اندرابی صاحبہ نے اھلیان چرارشریف کے ہر ایک جایز مطالبے کو پہلے سنا پھر مقرر وقت کے اندر اندر کھڑا کروایا۔ واقعی اج باشندگان چرارشریف
سابقہ حکومتوں کے دوران قایم مسلم وقف بورڈ اور انکے سربراھان سے خرچہ اور امدنی کے متعلق، خطرناک قسم کے سولات کی بوچھاڈ کرنا چاہتے ہے۔ قدرتی طور یہ نمایندہ چرارشریف میں بخشی دور سے لیکرصاب تک کی ہر ایک تعمیر کا چشم دید گواہ ھے۔ جسکے اپنے من میں بھی گذشتہ اوقاف کے درجنوں الگ الگ ازیکیٹو افسروں اور چیر مینوں کو کچہرے میں کھڑا کرنے کی تیاری کررھا ھے کہ اگر امدنی میں نصب کمی تھی تب کم سے کم اس نصب رقم سے بھی کوئی نہ کوئی ایک نئی تعمیر کھڑا کرسکتے تھے۔ لیکن اس قدر بڑی اور خاص کوئی ترقی بخشی دور کے بعد نظر نہیں آئی۔ کیونکہ وہ بھی وقت تھا جب وقف بورڈ میں، نذرانے کے طور ملنے والئے اچھے خاصے بھیڑ( شیپ) کی باقاعدہ وصولیابی کے بدلے ریکارڈ میں صرف کھال درج کی جاتی تھی۔
اج زیارت پاکیں، باب السنگرام ڑار، داخلی دروازوں کی نئی تعمیرات کے لئے ھدایت دی، ظاہر سی بات ہے کہ ابتک چرارشریف اپنے والئے لاکھوں عقیدت مندوں نے 1977 سے اج تک اربوں کا چندہ پیش کیا۔ لیکن گزشتہ چار سال سے جتنی رقم درگاہ کیمپس پر خرچ ھوئی۔ اس سے کم قریب رقم مقامی وقف یونٹ نے مختلف ذرایعہ سے جمع کی تھی۔ باوجود اسکے میڈم درخشان اندرابی۔خلعت چرارشریف حاصل کرنے کی سحادت انشاءاللہ تعالی ضرور نصیب کریگی۔ جو کشمیر کی تاریخ میں جدیدیت کے ساتھ مکمل اور عالیشان ایسے نت نئے تعمیرات کھڑے کرواکر درگاھوں کے تاریخ ساز تعمیرات کا واحد ایک ریکارڈ قایم کرنے کی کامیاب کوشش تسلیم کی جایئگی۔
سنڈے سٹوری
