اختتامی نشست کے بعد جوں ہی میں ڈائس سے اتر رہا تھا، ایک بزرگ شخص میرے قریب آئے۔ ان کے چہرے پر ایک عجیب سی شفقت تھی۔ انہوں نے آگے بڑھ کر میرے ماتھے کو چوما اور بڑی محبت سے کہا، ’’برخوردار! تمہاری گفتگو نے میرا دل جیت لیا۔ ایک طویل عرصے کے بعد ایسی باتیں سننے کا موقع ملا۔‘‘ ان کے یہ الفاظ سن کر میں قدرے شرمندہ ہوگیا۔ میں نے نہایت ادب سے عرض کیا، ’’قبلہ! آپ نے تو مجھے شرمندہ کر دیا، مگر مہربانی کرکے اپنا تعارف تو کرائیے۔‘‘
وہ بزرگ، جن کی آنکھوں کی گہرائی اور چہرے کی متانت ہی بتا رہی تھی کہ صاحبِ دل اور صوفی مزاج انسان ہیں، ہلکا سا مسکرائے اور بولے، ’’میرا نام منور پروانہ ہے، بانڈی پورہ سے تعلق رکھتا ہوں۔‘‘ پھر ذرا توقف کے بعد جیسے اپنی بات کو سادگی میں لپیٹتے ہوئے کہا، ’’اور تھوڑی بہت صوفی شاعری بھی کر لیتا ہوں۔‘‘ ان کے لہجے میں نہ کوئی دعویٰ تھا، نہ اپنی شاعری کا اظہارِ تفاخر؛ بس ایک ایسی بے نیازی تھی جو شاید اسی وقت محسوس ہوتی ہے جب آدمی نے زندگی کو کتابوں سے زیادہ قریب سے پڑھا ہو۔
اتنے میں شبیر بانہالی میرے قریب آئے اور گلے ملتے ہوئے کہنے لگے:
’’سالک صاحب! آپ نے آج میرا دل جیت لیا۔‘‘
شبیر بانہالی کشمیری اور اردو دونوں زبانوں میں شاعری کرتے ہیں اور تحقیق کا بھی خاص شغف رکھتے ہیں۔ حال ہی میں وادیٔ چناب کے موضوع پر ایک ضخیم کتاب بھی تحریر کر چکے ہیں۔ شاید یہی تحقیقی مزاج تھا جس کی وجہ سے میری گفتگو کے دوران قائم کیے گئے سوال نے انہیں بھی اپنی طرف متوجہ کیا تھا۔
انہوں نے اپنی بات آگے بڑھاتے ہوئے کہا:
’’ہمارے بعض اساتذہ یہ کہتے آئے ہیں کہ کشمیری زبان کی تاریخ پانچ ہزار سال پرانی ہے، لیکن آپ نے ترتیب وار لَل دید سے قبل کشمیری زبان کی صورتِ حال پر گفتگو کرتے ہوئے ایک ایسا اہم سوال قائم کر دیا ہے جس نے مجھے بھی سوچنے پر مجبور کر دیا کہ اگر لَل دید سے پہلے کشمیری زبان کی تاریخ کے شواہد اس قدر واضح نہیں ہیں تو پھر پانچ ہزار سال پرانی زبان ہونے کا دعویٰ آخر کس بنیاد پر کیا جاتا ہے؟‘‘
شبیر بانہالی کی بات میں وزن تھا۔ شاید اسی لیے وہ یہ سوال براہِ راست مجھ سے مخاطب ہو کر کر رہے تھے کہ میں اس پر اپنی رائے دوں۔
میں نے ان کے سوال کو سمجھنے کی کوشش کی اور اپنی محدود سمجھ کے مطابق عرض کیا:
’’میرے خیال میں سب سے پہلے ہمیں دو چیزوں کے درمیان فرق کرنا ہوگا۔ کشمیری زبان کی تاریخ اور کشمیر کی تہذیبی تاریخ۔ دونوں کو ایک ہی چیز سمجھ لیا جائے تو تاریخ کی کئی گتھیاں سلجھنے کے بجائے مزید الجھ سکتی ہیں۔
یہ بات درست ہے کہ برزہوم کی کھدائی سے کشمیر میں انسانی آبادی کے بہت قدیم آثار ملے ہیں۔ برزہوم کے ابتدائی ثقافتی ادوار کو تقریباً تیسری ہزار قبل مسیح تک لے جایا جاتا ہے۔ وہاں سے رہائشی گڑھے، پتھر اور ہڈیوں کے اوزار، تدفین اور دوسری اشیا ملی ہیں، جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کشمیر میں ہزاروں سال پہلے انسانی آبادی موجود تھی۔
لیکن یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔ وہ لوگ کون تھے اور وہ کون سی زبان بولتے تھے؟
یہاں ہمیں ذرا رک کر چلنا ہوگا۔
آثارِ قدیمہ ہمیں یہ بتا سکتے ہیں کہ کوئی آبادی کہاں رہتی تھی، کس طرح کے گھر بناتی تھی، کیا کھاتی تھی، کون سے اوزار استعمال کرتی تھی، اپنے مردوں کو کس طرح دفن کرتی تھی اور اس کی معاشرتی زندگی کیسی تھی۔ لیکن صرف ان آثار کی بنیاد پر یہ فیصلہ نہیں کیا جا سکتا کہ وہ لوگ کون سی زبان بولتے تھے۔
برزہوم سے ہمیں ایسی کوئی تحریری شہادت نہیں ملی جس سے یہ ثابت ہو کہ وہاں رہنے والے لوگ پانچ ہزار سال پہلے وہی زبان بولتے تھے جسے آج ہم کشمیری زبان کہتے ہیں۔ حتیٰ کہ یہ بھی معلوم نہیں کہ ان کی زبان کی ساخت کیا تھی، وہ کس لسانی خاندان سے تعلق رکھتی تھی، یا بعد کی کشمیری زبان کے ساتھ اس کا براہِ راست کوئی لسانی رشتہ تھا یا نہیں۔
اس لیے برزہوم کی قدامت کو براہِ راست کشمیری زبان کی پانچ ہزار سالہ قدامت قرار دینا تاریخی طور پر محتاط دعویٰ نہیں ہوگا۔‘‘
میں نے کچھ توقف کے بعد اپنی بات آگے بڑھائی:
’’ہاں، ہم یہ ضرور کہہ سکتے ہیں کہ کشمیر کی انسانی اور تہذیبی تاریخ کئی ہزار سال پرانی ہے۔ برزہوم اس قدیم تہذیبی تسلسل کا ایک اہم archaeological evidence ہے۔ لیکن تہذیب کی عمر اور کسی مخصوص زبان کی عمر ایک ہی چیز نہیں ہوتیں۔
مثلاً ایک خطے میں ہزاروں سال سے لوگ آباد ہوں، تو یہ ضروری نہیں کہ ان تمام ادوار میں ان کی زبان بھی وہی رہی ہو۔ آبادیوں کی نقل مکانی ہوتی ہے، مختلف قوموں اور گروہوں کا اختلاط ہوتا ہے، زبانیں ایک دوسرے سے الفاظ لیتی ہیں، بعض زبانیں ختم ہو جاتی ہیں اور نئی لسانی صورتیں وجود میں آتی ہیں۔‘‘
اس لئے میرا ذاتی ماننا ہے کہ کشمیری زبان کی تشکیل کو سمجھنے کے لیے ہمیں برزہوم سے براہِ راست آج کی کشمیری زبان تک ایک سیدھی لکیر کھینچنے کے بجائے زبانوں کے ارتقا، نقل مکانی، لسانی میل جول اور تاریخی شواہد کو الگ الگ دیکھنا ہوگا۔‘‘
شبیر بانہالی میری بات بڑے غور سے سن رہے تھے۔ میں نے آخر میں کہا:
کشمیر کی تہذیبی تاریخ اور کشمیری زبان کی لسانی تاریخ دو الگ مگر باہم مربوط موضوعات ہیں۔
شبیر بانہالی نے میری بات کو ایک جملے میں سمیٹتے ہوئے کہا:
’’یعنی کشمیری کلچر اور کشمیری زبان، دونوں ایک ہی چیز نہیں ہیں؛ دونوں الگ موضوعات ہیں۔‘‘
میں نے اثبات میں سر ہلایا۔ مجھے لگا کہ شاید ہماری گفتگو کا سب سے اہم نکتہ یہی تھا کہ کشمیری تہذیب اور کشمیری زبان کے موضوع کو خلط ملط کرنے سے کتنے کنفوژن پیدا ہوتے ہیں ۔
ابھی ہماری گفتگو جاری ہی تھی کہ منور پروانہ صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا، ’’برخوردار! علم و ادب کی باتیں تو ہوتی رہیں گی، فی الحال کھانے کی فکر کرنی چاہیے۔‘‘ ان کی بات پر ہم تینوں بے اختیار مسکرا دیے۔ واقعی دن بھر کی نشستوں، گفتگو اور بحث و مباحثے کے بعد اب بھوک بھی اپنا حق مانگ رہی تھی۔
چنانچہ ہم تینوں آہستہ آہستہ شامیانے کی طرف بڑھنے لگے۔ راستے میں منور پروانہ صاحب نے بڑے پیار سے میرا نمبر اپنی ڈائری پر لکھااور کہا کہ اب فون پر بھی علم و ادب کی یہ گفتگو جاری رہے گی۔ ان کے لہجے میں ایسی اپنائیت تھی کہ یوں محسوس ہوا جیسے یہ ملاقات محض چند لمحوں کی نہیں، بلکہ ایک نئے ادبی رابطے کا آغاز ہے۔
شامیانے سے کھانے کی خوشبو ہوا میں گھل کر ہماری طرف آ رہی تھی، جبکہ میرے ذہن میں شبیر بانہالی کا وہ سوال ابھی تک گردش کر رہا تھا کہ آخر کشمیری زبان کی پانچ ہزار سالہ تاریخ کا دعویٰ کس بنیاد پر کیا جاتا ہے؟
ہم شامیانے کے قریب پہنچے تو مجھے محسوس ہوا کہ بے تکلف گفتگو میں بھی بعض اوقات بہت اہم باتیں سامنے آ جاتی ہیں۔(جاری)
