• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Friday, October 9, 2026
JKNS
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
JKNS | Jammu Kashmir News Service
No Result
View All Result
Home اردو خبریں

ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس (26)

محمد سلیم سالک by محمد سلیم سالک
October 9, 2026
in اردو خبریں
A A
ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس (26)
FacebookTwitterWhatsapp

شوکت شفیع صاحب اور میں ایک ہی دسترخوان پر آمنے سامنے بیٹھے اپنی اپنی پلیٹوں میں کھانا کھا رہے تھے، مگر ہماری توجہ کھانے سے زیادہ ’’ملند پنہہ‘‘ کے موضوع پر مرکوز تھی۔ میں ایک لقمہ اٹھاتا اور ساتھ ہی ’’ملند پنہہ‘‘ کے بارے میں جو کچھ جانتا تھا، وہ شوکت صاحب کے ساتھ شیئر کرتا جاتا۔ گفتگو کے دوران اچانک میرے ذہن میں ایک خیال آیا۔ میں نے لقمہ روک کر شوکت صاحب کی طرف دیکھا اور گویا ہوا:
’’شوکت صاحب! کیا ہم بچپن سے یہ نہیں سنتے آئے ہیں کہ پہلے مرغی آئی یا انڈا؟‘‘
میری بات سنتے ہی شوکت صاحب ذرا چونکے، پھر مسکراتے ہوئے میری طرف دیکھا اور بولے:
’’یہ سوال تو ہم اس وقت کرتے ہیں جب کوئی ہمارے سامنے اپنی قابلیت کی دھاک بٹھانے کی کوشش کرتا ہے۔ ہم بھی فوراً یہ سوال داغ کر اس کی ساری قابلیت کا پول کھول دیتے ہیں۔‘‘
میں مسکرا دیا۔
’’لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ یہ محض ایک عام پہیلی نہیں۔ بلکہ “ملند پنہہ”کا ایک ضمنی موضوع ہے اور اس پہیلی میں ایک گہری فلسفیانہ بات بھی چھپی ہوئی ہے۔‘‘
شوکت صاحب نے فوراً میری طرف متوجہ ہوتے ہوئے کہا:
’’سالک! پہیلیاں مت بجھاؤ۔۔۔ کیا واقعی یہ ’ملند پنہہ‘ کے موضوع سے جڑتا ہے؟‘‘
’’جی ہاں، کم از کم اس کی مثال ضرور دی جا سکتی ہے۔ جب ہم کسی واقعے یا وجود کے آغاز کا سراغ لگاتے ہوئے یہ پوچھتے ہیں کہ اس کا سبب کیا تھا، تو سوال آگے بڑھتے بڑھتے ایک ایسے مقام پر پہنچ جاتا ہے جہاں سبب اور نتیجہ ایک دوسرے سے جڑے ہوئے دکھائی دیتے ہیں۔ بدھ فلسفے میں ’انحصارِ ظہور‘ (Dependent Origination) کا تصور بھی اسی وسیع تر فکری تناظر میں چیزوں کے باہمی انحصار کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔ اسے ایک دائرے کی طرح بھی سمجھ سکتے ہیں۔آپ جہاں سے سفر شروع کریں، اس سے پہلے ایک اور کڑی موجود نظر آتی ہے۔‘‘
شوکت صاحب نے چند لمحے میری طرف دیکھا۔ شاید ’’مرغی اور انڈے‘‘ کے ایک معمولی سے سوال نے ان کے ذہن میں بھی ایک نئی کھڑکی کھول دی تھی۔
ہماری پلیٹیں اب تقریباً خالی ہو چکی تھیں۔ رستہ، چکن کا ایک حصہ اور گوشت کا ٹکڑا ہم چٹ کر چکے تھے کہ اسی دوران شاکر شفیع شامیانے میں داخل ہوئے۔ وہ دسترخوانوں کے درمیان گھومتے ہوئے ایک ایک مہمان کا خیال رکھ رہے تھے۔ کسی کی پلیٹ خالی ہونے کو ہوتی تو فوراً کہتے:
’’اور لیجیے، اللہ کے فضل سے ابھی بہت کچھ موجود ہے۔‘‘
کسی کی پلیٹ میں گوشت کم نظر آتا تو کارکن کو اشارہ کرکے مزید کھانا لانے کے لیے کہتے۔ان کی نظر جب ہمارے دسترخوان پر پڑی تو وہ وہیں رک گئے۔ پہلے میری طرف دیکھا، پھر شوکت صاحب کی تقریباً خالی پلیٹ پر نظر ڈالی اور مسکراتے ہوئے بولے:
’’شوکت صاحب! مجھے پورا یقین ہے کہ سالک نے آپ کو باتوں میں الجھائے رکھا ہوگا اور آپ کی پلیٹ پر بھی ہاتھ صاف کر لیا ہوگا۔‘‘
ان کے برجستہ جملے پر ہم دونوں بے اختیار ہنس پڑے۔
شوکت صاحب نے میری طرف دیکھا اور کہا:
’’واقعی، گفتگو میں ایسے الجھے کہ کھانے کا بھی ہوش نہیں رہا۔‘‘
میں نے اپنی پلیٹ کی طرف دیکھا تو اندازہ ہوا کہ باتوں باتوں میں واقعی پلیٹ صاف ہو چکی تھی۔
شاکر شفیع نے جاتے جاتے میری طرف دیکھا:
’’سالک! کچھ اور لو گے؟ پھر نہ کہنا کہ حاجن والوں نے خاطر داری میں کمی رکھی۔‘‘
یہ کہتے ہوئے وہ آگے بڑھ گئے اور ہم دوبارہ اپنی گفتگو میں گم ہوگئے۔
دسترخوان کے دوسری طرف میری نظر منظور ہاشمی کے فرزند سرور ہاشمی اور اظہر ہاشمی پر پڑی۔ دونوں بھائی ایک ہی جگہ بیٹھے کھانا کھا رہے تھے۔ انہیں یوں ایک ساتھ دیکھ کر بے اختیار ان کے والد منظور ہاشمی کا خیال آ گیا۔ ایک لمحے کے لیے میری نظر سامنے بیٹھے دونوں بھائیوں سے ہٹ کر ماضی کی طرف چلی گئی۔
منظور ہاشمی محض ان دونوں کے والد ہی نہیں تھے، بلکہ ادبی مرکز کمراز کی ابتدائی تشکیل میں شامل ان شخصیات میں سے ایک تھے جنہوں نے اس تنظیم کی بنیاد مضبوط کرنے میں اپنا کردار ادا کیا ہے۔ کشمیری شاعری کی تاریخ میں بھی ان کا ایک معتبر مقام ہے۔ مرحوم کی ادبی وابستگی اور ادبی مرکز کمراز کے ابتدائی سفر میں ان کی شرکت ایسی حقیقت ہے جسے اس تنظیم کی تاریخ بیان کرتے ہوئے نظرانداز نہیں کیا جا سکتا۔
میں کچھ دیر تک دونوں بھائیوں کو دیکھتا رہا۔
ان کے درمیان زیادہ گفتگو نہیں ہو رہی تھی، مگر ایک خاموش سی بے تکلفی مسلسل قائم تھی۔ بڑا بھائی کبھی اپنے حصے کا گوشت کا ٹکڑا چھوٹے بھائی کی طرف بڑھا دیتا، کبھی چھوٹا بھائی بے تکلفی سے بڑے بھائی کی پلیٹ سے کچھ اٹھا لیتا۔ نہ رسمی شکریہ، نہ کسی وضاحت کی ضرورت۔ جیسے برسوں کے ساتھ نے ایک دوسرے کی ضرورت سمجھنے کی ایک ایسی زبان سکھا دی ہو جس میں الفاظ کی گنجائش ہی کم رہ جاتی ہے۔
یہ معمولی سا منظر مجھے دیر تک اپنی طرف کھینچتا رہا۔
اچانک خیال آیا کہ شاید منظور ہاشمی نے اپنی زندگی میں اپنے بیٹوں سے کبھی یہ ضرور کہا ہوگا کہ ادبی مرکز کمراز کا ساتھ نہ چھوڑنا۔ ممکن ہے انہوں نے یہ بات لفظوں میں نہ بھی کہی ہو، لیکن بعض باتیں کہنے کی ضرورت نہیں پڑتی۔ والدین اپنی زندگی سے جو کچھ منتقل کرتے ہیں، اولاد کبھی کبھی اسے الفاظ کے بجائے اپنے عمل سے آگے لے جاتی ہے۔
مجھے یوں لگا جیسے اس دسترخوان پر دو بھائیوں کے ساتھ ان کے والد کی یاد بھی بیٹھی ہو۔
ایک طرف وہ نسل تھی جس نے ادبی مرکز کمراز کی بنیاد مضبوط کرنے میں اپنا حصہ ڈالا تھا، اور دوسری طرف وہ نسل تھی جو آج کانفرنس میں موجود تھی۔ وقت گزر گیا تھا، چہرے بدل گئے تھے، مگر ایک نسبت ابھی باقی تھی۔
اس رات ایک معمولی سا دسترخوان میرے لیے اچانک ایک علامت بن گیا تھا۔ کھانے کے درمیان بیٹھے دو بھائی مجھے صرف ایک خاندان کی کہانی نہیں سنا رہے تھے۔ وہ خاموشی سے یہ بھی بتا رہے تھے کہ بعض ادبی رشتے خون کے رشتوں کی طرح نسلوں تک سفر کرتے ہیں۔
میں کچھ دیر تک انہیں دیکھتا رہا۔
پھر میری نظر واپس اپنی پلیٹ کی طرف گئی، اور نہ جانے کیوں ’’مرغی اور انڈے‘‘ والی گفتگو دوبارہ ذہن میں آ گئی۔ وہاں ہم آغاز کی تلاش میں تھے، اور یہاں ایک روایت کے تسلسل کو دیکھ رہے تھے۔
شاید زندگی بھی کچھ ایسی ہی ہے،کچھ سلسلے اپنے آغاز سے زیادہ اپنے جاری رہنے کی وجہ سے اہم ہوتے ہیں اور اس رات، حاجن کے اس شامیانے میں، ایک ہی دسترخوان پر ماضی اور حال واقعی ایک دوسرے کے روبرو بیٹھے محسوس ہو رہے تھے۔(جاری)

Previous Post

Gen Z Explores Kashmir’s Craft Heritage at Islamia College Srinagar

محمد سلیم سالک

محمد سلیم سالک

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.