• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Saturday, October 10, 2026
JKNS
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
JKNS | Jammu Kashmir News Service
No Result
View All Result
Home اردو خبریں

ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس (27)

محمد سلیم سالک by محمد سلیم سالک
October 10, 2026
in اردو خبریں
A A
ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس (27)
FacebookTwitterWhatsapp

کھانا کھانے کے بعد اب رات بسر کرنے کا مرحلہ تھا۔ ہائی اسکول کی ایک بڑی عمارت میں مہمانوں کے لیے بستر لگا دیے گئے تھے۔ رات کافی گہری ہو چکی تھی اور اسکول کی عمارت تک پہنچنے کے لیے ہمیں کچھ فاصلے تک اندھیرے میں چلنا پڑا۔ دن کے وقت جس راستے سے گزرنا شاید بالکل معمولی بات ہوتی، اس وقت وہی راستہ اندھیرے کی وجہ سے کچھ مشکل محسوس ہو رہا تھا۔ آس پاس خاموشی تھی اور دور کہیں کہیں روشنی کے مدھم آثار دکھائی دے رہے تھے۔
ہم ابھی راستہ ہی تلاش کر رہے تھے کہ شوکت شفیع صاحب نے اپنے موبائل کی ٹارچ روشن کر لی۔ اس وقت موبائل کی وہ چھوٹی سی روشنی بھی ہمارے لیے کسی چراغ سے کم نہ تھی۔ وہ آگے آگے چلتے رہے اور میں ان کے ساتھ۔ کبھی روشنی دائیں طرف ڈالتے، کبھی بائیں طرف۔ کچھ دور چلنے کے بعد اندھیرے میں ایک بڑی سی عمارت کا دھندلا سا خاکہ دکھائی دیا۔ شوکت صاحب نے ٹارچ کی روشنی ذرا اوپر کی تو اندازہ ہوا کہ ہمارا مطلوبہ کمرہ اسی عمارت کی پہلی منزل پر ہے۔
عمارت کے قریب پہنچے تو سامنے تقریباً دس بارہ سیڑھیاں تھیں۔ اندھیرا اتنا تھا کہ ایک وقت میں ایک ہی سیڑھی دکھائی دیتی تھی۔ شوکت صاحب نے ٹارچ کی روشنی پہلی سیڑھی پر ڈالی، قدم رکھا، پھر اگلی سیڑھی پر روشنی کی۔ میں بھی ان کے پیچھے اسی احتیاط سے قدم بڑھاتا رہا۔ کبھی پاؤں رکھتے ہوئے یوں محسوس ہوتا جیسے سیڑھی ختم ہو گئی ہو، مگر اگلا قدم پھر ایک نئی سیڑھی پر پڑتا۔ چند لمحوں کے لیے ہماری پوری توجہ صرف اپنے قدموں اور موبائل کی اس مختصر سی روشنی پر مرکوز تھی۔ ایک ایک کرکے وہ دس بارہ سیڑھیاں طے کیں اور بالآخر ہم پہلی منزل پر پہنچ گئے۔
سامنے مطلوبہ کمرہ تھا، جہاں رات کا مشاعرہ بھی ہونا تھا۔ اندر داخل ہوئے تو ایک بڑے ہال نما کلاس روم میں پہلے ہی چند بستر بچھے ہوئے تھے۔ دیواروں کے ساتھ گدے اور ہلکے پھلکے لحاف رکھے تھے۔ چونکہ رات بھی وہیں بسر کرنی تھی، اس لیے ہم نے ایک ایک گدا اور لحاف لیا اور دیوار کے ساتھ اپنے بستر بچھا لیے۔
آہستہ آہستہ دوسرے مہمان بھی آنے لگے۔ کوئی ہاتھ میں اپنا بستر لیے داخل ہو رہا تھا، کوئی اپنے لیے جگہ تلاش کر رہا تھا اور کوئی پہلے سے موجود دوستوں کے قریب اپنا بستر بچھانے کی کوشش کر رہا تھا۔ کچھ ہی دیر میں وہ کشادہ ہال نما کمرہ مہمانوں سے بھرنے لگا۔ دن بھر جن لوگوں کو ہم مختلف نشستوں میں الگ الگ مقامات پر دیکھتے رہے تھے، اب سب ایک ہی چھت کے نیچے، ایک ہی فرش پر اپنے اپنے بستروں کے ساتھ جمع ہو رہے تھے۔ادبی محفل کا ایک اپنا ہی رنگ ہوتا ہے۔ دن میں لوگ کرسیوں پر بیٹھ کر اپنے اپنے مقام اور حیثیت کے مطابق گفتگو کرتے ہیں، لیکن رات کے اس طرح کے قیام میں سب فاصلے جیسے خود بخود سمٹ جاتے ہیں۔
ہم بھی اپنے بستروں پر نیم دراز ہو گئے اور کوئی ایک آدھ گھنٹہ اسی طرح ہلکی پھلکی گفتگو میں مصروف رہے۔ دن بھر کے واقعات،ملاقاتیں اور مختلف شخصیات کے بارے میں باتیں ہوتی رہیں۔ نیند ابھی آنکھوں سے کوسوں دور تھی اور کمرے میں بھی جگہ جگہ گفتگو کی مدھم آوازیں سنائی دے رہی تھیں۔
اسی دوران اچانک میری نظر دروازے کی طرف گئی۔وہاں ڈاکٹر رفیق مسعودی صاحب کھڑے نظر آئے۔انہوں نے ایک نظر پورے کمرے کا جائزہ لیا۔ شاید وہ یہ دیکھ رہے تھے کہ کون کہاں بیٹھا ہے اور کس کے لیے کہاں جگہ بن سکتی ہے۔ پھر ان کی نظر شوکت شفیع پر پڑی۔ انہوں نے اپنے مخصوص انداز اور اشارے سے شوکت صاحب کو اپنے قریب بلایا اور کچھ دیر ان سے بات کی۔ معلوم ہوا کہ شوکت صاحب کے لیے رات بسر کرنے کا انتظام کسی اور جگہ رکھا گیا تھا۔
میں خاموشی سے یہ سب دیکھ رہا تھا۔
اتنے میں شاکر شفیع کی نظر مجھ پر پڑی۔ شاید انہوں نے اندازہ کر لیا تھا کہ اگر شوکت صاحب دوسری جگہ جا رہے ہیں تو سالک کو بھی ان کے ساتھ ہی ہونا چاہیے۔ انہوں نے فوراً مجھے آواز دی:
’’سالک! ادھر آؤ، تمہیں ایک ضروری کام نپٹانے کے لیے میرے ساتھ چلنا ہے۔‘‘
میں نے ان کی طرف دیکھا۔ ان کے لہجے میں ایسی اپنائیت اور اصرار تھا کہ انکار کی کوئی گنجائش ہی نہیں تھی۔ میں فوراً اٹھ کھڑا ہوا۔
میں دل ہی دل میں سوچ رہا تھا کہ اگر شاکر شفیع مجھے نہ پکارتے تو شاید مجھے آج رات اسی ہال میں رہنا پڑتا۔ ڈاکٹر رفیق مسعودی کا شوکت شفیع کی طرف الگ سے اشارہ کرنا اور پھر انہیں اپنے ساتھ لے جانا، دیکھ کر مجھے بے اختیار انگریزی کا یہ محاورہ یاد آگیا “Blood is thicker than water” یعنی خون کا رشتہ آخر خون کا رشتہ ہوتا ہے۔
بہرحال، شاکر شفیع کی شفقت بھری نظر اور اپنے پن کے اس بے ساختہ اظہار نے مجھے اس صورتِ حال میں ایک الگ ہی طرح کی طمانیت دی۔ مجھے محسوس ہوا کہ بعض تعلقات کسی تعارف، تکلف یا وضاحت کے محتاج نہیں ہوتے۔ وقت آنے پر وہ خاموشی سے اپنا حق جتا ہی دیتے ہیں۔
جوں ہی میں اسکول کے کوریڈور میں پہنچا، گھپ اندھیرے کی وجہ سے بڑی مشکل سے پروفیسر شفیع سنبھلی اور مشتاق احمد مشتاق کو پہچان سکا۔ شاکر شفیع بھی ہمارے ساتھ تھے۔ سب کے چہروں سے اندازہ ہو رہا تھا کہ رات کے اس پہر اب اگلے مرحلے کی طرف روانگی کا وقت آ پہنچا ہے۔
اسکول کے احاطے میں پہنچتے ہی شاکر شفیع نے میری طرف دیکھ کر کہا:
’’سالک ۔۔تم گاڑی نکالو۔‘‘
میں نے فوراً گاڑی نکالی۔ پروفیسر شفیع سنبھلی آگے والی سیٹ پر بیٹھ گئے، جبکہ مشتاق احمد مشتاق اور شوکت شفیع پچھلی سیٹ پر جا بیٹھے۔ ابھی گاڑی اسٹارٹ ہونے ہی والی تھی کہ اچانک شبیر بانہالی میرے قریب آئے۔ انہوں نے قدرے اپنائیت سے کہا:
’’جناب سالک صاحب، ٹھہریے! میں بھی آپ کے ساتھ آ رہا ہوں۔‘‘
میں نے ان کے لیے دروازہ کھولا اور وہ بھی گاڑی میں سوار ہو گئے۔ یوں ہم شاکر شفیع صاحب کی گاڑی کے پیچھے پیچھے روانہ ہو گئے۔
رات کے تقریباً ساڑھے گیارہ بج چکے تھے۔
دن بھر لوگوں کی آمدورفت، گاڑیوں کی آوازوں، مباحثہ کی گہماگہمی، گفتگو اور ہنسی مذاق سے آباد رہنے والا حاجن اب رفتہ رفتہ خاموشی کی چادر اوڑھ رہا تھا۔ سڑک پر کہیں کہیں کسی دکان کے بند ہونے کے آثار نظر آتے، کسی مکان کی کھڑکی سے مدھم سی روشنی باہر آرہی ہوتی اور پھر اگلے ہی لمحے وہ بھی اندھیرے میں گم ہو جاتی۔ ہماری گاڑی کی ہیڈلائٹس سڑک کے ایک محدود حصے کو روشن کرتی ہوئی آگے بڑھ رہی تھیں، جب کہ اس روشنی کے دائرے سے باہر ہر طرف گہرا اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔
کبھی سامنے سے کوئی گاڑی آتی تو چند لمحوں کے لیے اس کی تیز روشنی ہماری آنکھوں کو چونکا دیتی اور پھر وہ گاڑی آگے نکل جاتی۔ پیچھے رہ جاتی وہی خاموش سڑک، وہی اندھیرا اور ہماری گاڑی کے آگے بڑھتے ہوئے پہیوں کی آواز۔
شاکر شفیع کی گاڑی آگے آگے تھی اور ہم اس کے پیچھے۔ رات کی تاریکی میں اس گاڑی کی پچھلی لائٹس ہمیں راستہ دکھا رہی تھیں۔ کبھی وہ روشنی کسی موڑ کے بعد اچانک ہماری نظروں سے اوجھل ہو جاتی اور ہم چند لمحوں کے لیے اس اندھیرے میں صرف سڑک کا اندازہ کرتے ہوئے آگے بڑھتے، پھر اگلے موڑ پر وہی سرخ روشنیاں دوبارہ دکھائی دیتیں۔
راستہ زیادہ طویل نہیں تھا، مگر رات کے اس پہر، اس گہری خاموشی میں، وہ چند منٹ بھی اپنے اندر ایک الگ کیفیت لیے ہوئے تھے۔ دن بھر کی مصروفیات کے بعد جیسے وقت بھی کچھ سست پڑ گیا تھا۔ گفتگو تقریباً نہ ہونے کے برابر تھی۔ ہر شخص شاید اپنے اپنے خیال میں تھا۔ کوئی دن بھر کے واقعات کو ذہن میں دہرا رہا ہوگا، کوئی اگلے دن کے پروگرام کے بارے میں سوچ رہا ہوگا اور شاید کوئی صرف اس انتظار میں تھا کہ جلد کسی آرام دہ جگہ پہنچ کر بستر پر لیٹ سکے۔
دو تین موڑ کاٹتے ہوئے تقریباً دس منٹ کے سفر کے بعد ہم ایک نسبتاً کشادہ گلی میں داخل ہوئے۔ شاکر شفیع صاحب کی گاڑی ہم سے کچھ آگے نکل چکی تھی، اس لیے اس کی روشنیاں گلی کے اندر آگے آگے دکھائی دے رہی تھیں۔
گلی میں داخل ہوتے ہی ماحول یکسر بدل گیا۔ دونوں طرف بلند و بالا مکان خاموشی سے کھڑے تھے۔ کھڑکیوں اور پردوں کے پیچھے جلتی بتیوں کی روشنی کہیں مدھم، کہیں قدرے تیز ہو کر گلی میں بکھر رہی تھی۔ رات اس قدر خاموش تھی کہ ہماری گاڑی کے انجن کی آواز بھی غیر معمولی طور پر نمایاں محسوس ہو رہی تھی۔ یوں لگتا تھا جیسے اس خاموش گلی میں ہماری آمد کا احساس صرف ہمیں نہیں، آس پاس کے بند دروازوں اور کھڑکیوں کو بھی ہو رہا ہو۔
شاکر صاحب راستے سے پوری طرح واقف تھے، اس لیے وہ بغیر کسی تردد کے آگے بڑھتے گئے۔ آخرکار ہماری گاڑی ایک بڑے مکان کے سامنے جا کر رک گئی۔
ہم نے بھی گاڑی وہیں روک دی۔
گاڑی سے اترتے ہی ہماری نظر اس مکان پر ٹھہر گئی، جہاں ہمیں رات بسر کرنی تھی۔ رات کے اندھیرے میں اس کی پوری ساخت تو واضح نہیں ہو رہی تھی، مگر بیرونی بناوٹ، کشادگی اور پھیلاؤ سے اندازہ ہو رہا تھا کہ یہ کوئی معمولی گھر نہیں بلکہ ایک وسیع و عریض، بنگلہ نما مکان ہے۔ شاکر شفیع پہلے ہی وہاں پہنچ چکے تھے اور ہمارے انتظار میں کھڑے تھے۔ انہوں نے آگے بڑھ کر ہمیں ساتھ لیا اور ہم ان کی رہنمائی میں اندر داخل ہوگئے۔سیڑھیاں چڑھتے ہوئے ہم پہلی منزل پر پہنچے۔ وہاں ایک کشادہ کمرہ تھا، جس میں پہلے ہی پانچ بستر قرینے سے بچھائے جا چکے تھے۔
دن بھر کے سفر کی تھکن کے بعد کمرے میں قرینے سے بچھے ہوئے بستر دیکھ کر ایک طرح کا اطمینان محسوس ہوا۔ مگر سب سے زیادہ خوشی اس بات کی ہوئی کہ کمرے کے ساتھ ہی ایک اٹیچ باتھ روم بھی موجود تھا۔ میں نے دل ہی دل میں اطمینان کا سانس لیا کہ کم از کم حاجتِ بشری کے لیے رات کے اس پہر سیڑھیاں اتر کر یا مکان سے باہر نکل کر کہیں جانے کی زحمت نہیں اٹھانی پڑے گی۔ میرے لیے یہ سہولت کسی نعمت سے کم نہ تھی، کیونکہ سفر کے دوران، خصوصاً کسی اجنبی جگہ پر رات بسر کرتے وقت، ایسی سہولتوں کی اہمیت کہیں زیادہ محسوس ہوتی ہے۔
ہم نے اپنے اپنے لیے ایک ایک بستر منتخب کیا اور نیم دراز ہو گئے۔ تبھی شاکر شفیع نے ہمارے ساتھ موجود مکان کے مالک سے تعارف کرایا۔ انہوں نے ہماری طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:
’’یہ معراج صاحب ہیں۔۔۔ اور میرے بہنوئی بھی ہیں۔‘‘
معراج صاحب نے بڑی محبت اور اپنائیت سے ہمارا استقبال کیا۔ ان کے انداز میں کسی اجنبی مہمان کے استقبال کی رسمی کیفیت نہیں تھی بلکہ ایسا محسوس ہو رہا تھا جیسے ہم کسی پرانے شناسا کے گھر آئے ہوں۔ رات کے اس پہر، بغیر کسی پیشگی تکلف کے، ہمارے لیے بستر کا انتظام، آرام دہ کمرہ اور قیام کی تمام ضروری سہولتیں موجود تھیں۔
اسی لمحے مجھے شاکر شفیع صاحب کی وہ بات بار بار یاد آنے لگی جو انہوں نے دن میں حاجن کے بارے میں کہی تھی کہ:
’’حاجن صرف ادب نواز ہی نہیں، مہمان نواز بھی ہے۔‘‘
دن کے وقت میں نے اس جملے کو شاید ایک عام سی بات سمجھ کر سنا تھا، مگر رات کے اس پہر اس جملے کا مفہوم میرے سامنے ایک عملی منظر کی صورت میں موجود تھا۔ ایک ادبی کانفرنس کے لیے آنے والے مہمان، رات کے تقریباً ساڑھے گیارہ بجے، ایک ایسے گھر میں پہنچتے ہیں جہاں ان کے لیے نہ صرف جگہ موجود ہے بلکہ بستر بچھے ہوئے ہیں، آرام کا انتظام ہے اور گھر کا مالک اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ انہیں خوش دلی سے قبول کر رہا ہے۔
میں بستر پر نیم دراز تھا اور میرے ذہن میں دن بھر کے کئی مناظر ایک ایک کرکے گزر رہے تھے۔ صبح سے اب تک ہم نے ادب کے بہت سے رنگ دیکھے تھے— گفتگو، نشستیں، ملاقاتیں، کتابیں، مباحثے اور اہلِ قلم کی محفلیں۔ لیکن اب رات کے اس آخری پہر میں ادب کا ایک اور رنگ میرے سامنے تھا۔۔۔” مہمان نوازی کا رنگ۔”
مجھے محسوس ہوا کہ کسی خطے کی ادبی شناخت صرف اس کے شاعروں، ادیبوں اور کتابوں سے نہیں بنتی۔ اس شناخت کے پیچھے وہاں کے لوگوں کا مزاج بھی ہوتا ہے، ان کا رویہ بھی، ان کی محبت بھی اور آنے والے مہمان کے لیے اپنے گھر کے دروازے کھول دینے کی روایت بھی۔
(جاری)

Previous Post

LG Sinha Orders Major Police Reshuffle in J&K: 100 Officers Transferred, Posted

Next Post

J&K Integral Part of India, Will Always Remain So: India Slams Pakistan at UN

محمد سلیم سالک

محمد سلیم سالک

Next Post
J&K Integral Part of India, Will Always Remain So: India Slams Pakistan at UN

J&K Integral Part of India, Will Always Remain So: India Slams Pakistan at UN

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.