اپنے قائم کردہ تین نکات پر تفصیلی گفتگو کی اجازت ملنے کے بعد میں نے کچھ دیر توقف کیا۔ میں چاہتا تھا کہ بات محض ایک سوال کی صورت میں نہ رہ جائے، بلکہ اس کے پیچھے موجود سیاق وسباق بھی سب کے سامنے آئے۔ کمرے میں ایک عجیب سی خاموشی تھی۔ سب کی نظریں میری طرف تھیں۔
شبیر بانہالی نے جوس کا گلاس ایک طرف رکھتے ہوئے سوال میری طرف داغ دیا:
’’سالک صاحب،پہلے کشمیری تہذیب و تمدن کی شروعات کے بارے میں کچھ بتاءیں ؟‘‘
میں نے کھنکھارتے ہوئے کہا:
’’یہ سوال بظاہر بہت سادہ ہے، لیکن اگر ہم اس کی تہہ میں جائیں تو اس کے اندر کئی اور سوال پوشیدہ ہیں۔ وادیٔ کشمیر میں باقاعدہ انسانی آبادکاری کے واضح آثار نیو لیتھک دور (New Stone Age) تک پہنچتے ہیں۔ برزہوم، غفکَرال، کانسپُورہ اور وادی کے دوسرے آثارِ قدیمہ ہمیں بتاتے ہیں کہ یہاں تقریباً تین ہزار قبل مسیح میں انسانی بستیاں موجود تھیں۔‘‘
شبیر بانہالی نے کچھ لمحے خاموش رہنے کے بعد قدرے حیرت سے میری طرف دیکھا اور کہا:
’’یعنی تین ہزار قبلِ مسیح؟‘‘
پھر جیسے اپنے ہی سوال کا جواب ذہن میں حساب لگا کر انہوں نے کہا:
’’اس کا مطلب تو یہ ہوا کہ یہ زمانہ آج سے تقریباً پانچ ہزار سال پہلے کا ہے!‘‘
میں نے مسکراتے ہوئے کہا:
’’جی شبیر صاحب! اور یہی تو اس معاملے کی دلچسپ بات ہے۔ برزہوم سے ملنے والے آٹیفیکٹس (Artifacts) اور دیگر آثارِ قدیمہ سے یہ اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مقام اپنے عروج کے ایک اہم دور سے گزر رہا تھا۔ ”
مشتاق احمد مشتاق اور ڈاکٹر شفیع سنبھلی کی دلچسپی دیکھ کر مجھے بات کرنے میں مزہ آرہا تھا۔ کسی نے کیا خوب کہا ہے کہ اگر اچھا سامع مل جائے تو بات کرتے وقت قدرت بھی معاون ہوتی ہے۔
میں نے سلسلۂ گفتگو آگے بڑھایا:
’’برزہوم کے آثار سے یہ بھی معلوم ہوتا ہے کہ وقت کے ساتھ رہائش، اوزار سازی، خوراک کے حصول اور معاشرتی زندگی کے طریقوں میں تبدیلیاں آتی گئیں۔ یوں کشمیر کی قدیم انسانی آبادی محض چند بکھرے ہوئے افراد کا مجموعہ نہیں تھی، بلکہ ایک ایسی معاشرتی زندگی کی طرف بڑھ رہی تھی جس کے آثار آج بھی زمین کی تہوں میں محفوظ ہیں۔‘‘
شوکت شفیع نے فوراً بات پکڑ لی:
’’سالک، یہاں ایک بنیادی سوال پیدا ہوتا ہے۔ برزہوم میں رہنے والے لوگ کہاں سے آئے تھے؟‘‘
میں نے مسکراتے ہوئے کہا:
’’ہمیں اس سوال کا براہِ راست جواب نہیں ملتا۔ اس دور کا کوئی ایسا تحریری ریکارڈ ہمارے سامنے موجود نہیں جس کی بنیاد پر ہم اعتماد کے ساتھ یہ کہہ سکیں کہ ان لوگوں نے کہاں سے ہجرت کرکے کشمیر کو اپنا مسکن بنایا۔ البتہ آثارِ قدیمہ، مادی ثقافت اور مختلف علاقوں سے ملنے والی مماثلتوں کی بنیاد پر کئی نظریات ضرور سامنے آئے ہیں۔‘‘
’’مثلاً؟‘‘ مشتاق احمد مشتاق نے فوراً پوچھا۔
’’مثلاً ایک زمانے میں یہ خیال پیش کیا جاتا رہا کہ کشمیر کے قدیم باشندوں کا تعلق وادیٔ سندھ اور اس سے وابستہ وسیع تر تہذیبی دنیا سے ہوسکتا ہے۔ اس تصور کی ایک وجہ کشمیر کا جغرافیائی محلِ وقوع بھی ہے۔کشمیر کوئی ایسی وادی نہیں جو اپنے آس پاس کی دنیا سے بالکل کٹی ہوئی ہو۔
شوکت شفیع نے سر ہلایا:
’’یعنی تم کشمیر کے قدیم باشندوں اور وادیٔ سندھ کی تہذیبی دنیا کے درمیان کسی ممکنہ تعلق کی بات کر رہے ہو؟‘‘
’’ہاں، لیکن اس تعلق کی نوعیت ابھی واضح نہیں۔ محض جغرافیائی قربت یا چند ثقافتی مماثلتوں کی بنیاد پر یہ نہیں کہا جا سکتا کہ کشمیر کے قدیم باشندے وادیٔ سندھ سے آئے تھے یا یہاں کی تہذیب نے وہاں سے اثرات قبول کیے تھے۔ ان امکانات کو سمجھنے کے لیے آثارِ قدیمہ کے شواہد کا جائزہ لینا ضروری ہے۔‘‘
یہاں تک پہنچتے پہنچتے کمرے میں موجود شفیع سنبھلی صاحب بھی پوری طرح گفتگو کی طرف متوجہ ہوچکے تھے۔
’’تو پھر برزہوم کو صرف مقامی تناظر میں دیکھنا غیر دانشمندی ہے ۔”
انہوں نے کہا۔
میں نے سنبھلی صاحب کی بات کی تاءید کرتے ہوءے بات کو آگے بڑھایا:
’’برزہوم کو وسیع تر جغرافیائی اور تہذیبی پس منظر میں دیکھنا ہوگا۔ ایک طرف وادیٔ سندھ کی تہذیب تھی، شمال مغرب میں افغانستان کے قدیم علاقے تھے، آگے وسطی ایشیا کے راستے تھے اور جنوب کی طرف برصغیر کے دوسرے خطے۔ ‘‘
شوکت شفیع نے قدرے شرارتی انداز میں کہا:
’’تو پھر ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ قدیم کشمیر ایک طرح کا چوراہا تھا؟‘‘
میں مسکرا پڑا:
’’چوراہا شاید ذرا بڑا دعویٰ ہوگا، لیکن جغرافیائی اعتبار سے اسے ایک رابطہ گاہ ضرور کہا جاسکتا ہے۔‘‘
محفل میں ہلکی سی مسکراہٹ پھیل گئی۔
شبیر بانہالی نے میری بات غور سے سنی، پھر بولے:
’’سالک صاحب، ایک بات سمجھ میں نہیں آ رہی۔ اگر کشمیر میں مختلف زمانوں میں باہر سے لوگ آتے رہے اور یہاں آباد ہوتے رہے، تو پھر ہم کس بنیاد پر کسی گروہ کو مقامی اور کسی کو باہر سے آنے والا قرار دیتے ہیں؟‘‘
میں نے مسکرا کر کہا:
’’بس، یہی وہ مقام ہے جہاں ہمیں ’مقامی‘ اور ’باہر سے آنے والے‘ کی اصطلاحوں کو ذرا احتیاط سے استعمال کرنا چاہیے۔ انسانی تاریخ میں یہ لکیر اتنی واضح نہیں ہوتی جتنی آج ہمیں دکھائی دیتی ہے۔ آخر دنیا کی کوئی بھی آبادی کسی خطے میں ازل سے موجود نہیں رہی۔ انسان ہمیشہ حرکت میں رہا ہے۔ ایک نسل ایک جگہ آباد ہوئی، اگلی نسل یا اس کا کوئی حصہ دوسری جگہ چلا گیا، راستے میں دوسرے گروہوں سے ملا اور پھر ایک نئی آبادی وجود میں آئی۔‘‘
مشتاق احمد مشتاق نے فوراً کہا:
’’یعنی کشمیر کے بارے میں بھی یہ کہنا مشکل ہوگا کہ فلاں لوگ یہاں کے اصل باشندے تھے اور فلاں باہر سے آئے؟‘‘
’’بالکل۔‘‘ میں نے کہا۔ ’’کم از کم ہزاروں سال پرانی تاریخ کے معاملے میں ایسی قطعی تقسیم سے ہمیں گریز کرنا چاہیے۔ زیادہ درست بات یہ ہے کہ مختلف ادوار میں مختلف انسانی گروہ اس خطے میں آتے رہے، یہاں آباد ہوتے رہے، ایک دوسرے کے ساتھ اختلاط کرتے رہے اور اپنی اپنی تہذیبی خصوصیات میں سے کچھ نہ کچھ یہاں چھوڑتے رہے۔‘‘
پروفیسر شفیع سنبھلی نے کہا:
’’تو پھر کشمیر کی قدیم آبادی کو بھی ایک مسلسل انسانی سفر کا حصہ سمجھنا چاہیے؟‘‘
’’میرے خیال میں یہی زیادہ منطقی بات ہے۔‘‘
میں نے جواب دیا:
’’اور شاید اسی لیے ’کشمیر کے لوگ کہاں سے آئے؟‘ کا جواب کسی ایک قوم یا ایک خطے کے نام سے دینا مشکل ہے۔ ہمیں مختلف ادوار، مختلف راستوں اور مختلف انسانی گروہوں کو الگ الگ دیکھنا ہوگا۔کسی دور میں ایک سمت سے لوگ آئے ہوں گے، کسی دوسرے دور میں دوسری سمت سے، اور پھر ان سب کے اختلاط سے وہ آبادی تشکیل پاتی گئی جسے ہم بعد میں کشمیری تہذیب کے نام سے پہچانتے ہیں۔‘‘
شوکت شفیع نے مسکراتے ہوئے کہا:
’’یعنی تاریخ میں کوئی بھی دروازہ صرف ایک طرف نہیں کھلتا؟‘‘
میں نے جواب دیا:
’’اور انسان بھی ایک ہی راستے سے سفر نہیں کرتا۔‘‘
شبیر بانہالی نے جوس کا گلاس نیچے رکھتے ہوئے کہا:
’’تو پھر ہمیں یہ کیسے سمجھ آءیے گا کہ لوگ کشمیر تک کیسے پہنچے؟‘‘
میں نے جواب دیا:
’’قدیم انسان کی نقل مکانی کو آج کے نقشے سے سمجھنا بھی درست نہیں۔ آج ہم ہندوستان، پاکستان، افغانستان اور وسطی ایشیا کو الگ الگ سیاسی خطوں کے طور پر دیکھتے ہیں، لیکن ہزاروں سال پہلے ایسی سرحدیں موجود نہیں تھیں۔ پہاڑی درے، دریا، چراگاہیں اور موسمی راستے ہی لوگوں کی نقل و حرکت کے اہم راستے تھے۔ انسان خوراک، پانی، چراگاہ، موسم یا دوسرے معاشرتی اسباب کی بنا پر ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہوتا تھا۔‘‘
کمرے میں ایک بار پھر خاموشی چھا گئی۔ شاید سب اپنی اپنی سوچ میں اس قدیم کشمیر کا نقشہ بنانے کی کوشش کر رہے تھے جس کے بارے میں ہم آج کھدائی سے ملنے والی چیزوں، انسانی باقیات اور دوسرے مادی شواہد کی مدد سے تصور قائم کرتے ہیں۔
میں نے اسی خاموشی کو توڑتے ہوئے کہا:
’’اور یہاں ایک اور دلچسپ پہلو سامنے آتا ہے۔ جب برزہوم میں لوگ آباد تھے، دنیا کے دوسرے خطوں میں بھی انسانی معاشرے اپنے اپنے انداز میں ترقی کے مختلف مراحل طے کر رہے تھے۔ میسوپوٹیمیا میں زراعت اور شہری تہذیب کی بنیادیں استوار ہو رہی تھیں، مصر میں دریائے نیل کے کنارے منظم آبادیاں پروان چڑھ رہی تھیں، جبکہ اناطولیہ میں بڑی نیو لیتھک آبادیاں سامنے آرہی تھیں۔ مشرقی ایشیا میں چین کے مختلف علاقوں میں بھی زرعی معاشرے ترقی کر رہے تھے۔ بعد کے زمانے میں وادیٔ سندھ میں ہڑپہ، موہنجودڑو اور دوسرے بڑے شہری مراکز وجود میں آئے۔‘‘
شوکت شفیع نے فوراً پوچھا:
’’یعنی کشمیر دنیا کی بڑی تہذیبوں کے ساتھ ساتھ پروان چڑھنے والی ایک قدیم تہذیب رہی ہے۔‘‘
’’ببے شک ”
میں نے مسکراتے ہوئے جواب دیا:
’’ہمیں صرف یہ دیکھنا ہوگا کہ ان تہذیبی مراکز کے ساتھ کشمیر کے واقعی روابط کے کیا آثار موجود ہیں۔ محض یہ حقیقت کہ مختلف علاقوں میں ایک ہی زمانے کے دوران تہذیبیں ترقی کررہی تھیں، براہِ راست تعلق ثابت نہیں کرتی۔ اس کے لیے ہمیں اوزاروں، مٹی کے برتنوں، تدفینی روایات، نباتاتی باقیات، جانوروں کی ہڈیوں، دھاتوں کے استعمال اور دوسرے مادی شواہد کو الگ الگ دیکھنا ہوگا۔‘‘
مشتاق احمد مشتاق نے مسکراتے ہوئے کہا:
’’یعنی اصل کہانی اب شروع ہوتی ہے؟‘‘
’’بالکل۔‘‘ میں نے بھی مسکرا کر کہا۔ ’’ابھی تو ہمیں یہ معلوم کرنا ہے کہ ان قدیم راستوں سے صرف لوگ گزرتے تھے یا ان کے ساتھ خیالات، زبانیں، اوزار اور تہذیبی تصورات بھی کشمیر تک پہنچتے تھے۔‘‘
اتنا کہہ کر میں نے ایک لمحے کے لیے توقف کیا۔
مجھے محسوس ہوا کہ گفتگو اب اس مقام پر پہنچ چکی ہے جہاں صرف یہ سوال کافی نہیں تھا کہ کشمیر کے لوگ کہاں سے آئے۔ایک اور سوال آہستہ آہستہ ہمارے سامنے کھڑا ہورہا تھا:
اگر لوگ آئے تو ان کے ساتھ زبان بھی آئی ہوگی؟
محفل میں اب کسی کو گھڑی دیکھنے کی جلدی نہیں تھی۔(جاری)
