پواڑہ، 16 اکتوبر: راجیہ سبھا کے معزز رکنِ پارلیمنٹ انجینئر غلام علی کھٹانہ نے آج ضلع کپواڑہ کا دورہ کیا اور ٹاؤن ہال کپواڑہ میں عوامی دربار کی صدارت کرتے ہوئے ترقیاتی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران مرکزی معاونت یافتہ اسکیموں کے نفاذ کا جائزہ لینے کے ساتھ ساتھ عوامی شکایات اور مسائل کی سماعت بھی کی گئی۔
عوامی دربار میں سابق ایم ایل سی سید رفیق شاہ، ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کمشنر کپواڑہ غلام رسول، چیف پلاننگ آفیسر، سپرنٹنڈنگ انجینئر روڈز اینڈ بلڈنگز، اسسٹنٹ کمشنر ڈیولپمنٹ، اسسٹنٹ کمشنر پنچایت، دیگر متعلقہ ضلعی افسران اور ضلع کپواڑہ کی معزز شخصیات نے شرکت کی۔
اس موقع پر رکنِ پارلیمنٹ نے مختلف محکموں کی کارکردگی کا شعبہ وار جائزہ لیا اور ترقیاتی کاموں کی پیش رفت، مرکزی معاونت یافتہ اسکیموں کے نفاذ اور عوامی فلاح و بہبود سے متعلق امور پر تبادلۂ خیال کیا۔
مختلف حلقوں سے تعلق رکھنے والے عوامی نمائندوں اور لوگوں نے بجلی، پینے کے پانی، سڑک رابطوں، ٹرانسپورٹ، راشن کی تقسیم، ٹیلی مواصلات، جنگلات سے متعلق معاملات اور دیگر بنیادی سہولیات کے حوالے سے متعدد مسائل پیش کیے۔ انجینئر غلام علی کھٹانہ نے عوامی شکایات کو بغور سنا اور کئی معاملات پر موقع پر ہی کارروائی کرتے ہوئے متعلقہ افسران کو ہدایت دی کہ عوامی مسائل کے فوری اور مؤثر حل کے لیے ضروری اقدامات کیے جائیں۔
جواب دہ اور عوام دوست انتظامیہ کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے رکنِ پارلیمنٹ نے افسران کو ہدایت دی کہ وہ عوام کے ساتھ قریبی رابطہ برقرار رکھیں، باقاعدگی سے فیلڈ دورے کریں اور لوگوں کی جائز شکایات کا مقررہ مدت کے اندر ازالہ یقینی بنائیں۔ انہوں نے اس بات پر بھی زور دیا کہ سرکاری اسکیموں کے فوائد حقیقی مستحقین تک پہنچنے چاہئیں اور ترقیاتی کاموں کو شفافیت اور مؤثر انداز میں مکمل کیا جانا چاہیے۔
رکنِ پارلیمنٹ نے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ ڈیولپمنٹ کمشنر کپواڑہ کو مزید ہدایت دی کہ عوامی دربار میں اٹھائے گئے مسائل کے حوالے سے متعلقہ افسران سے پیش رفت کی رپورٹیں حاصل کرکے دو ہفتوں کے اندر ایک جامع رپورٹ ان کے دفتر میں پیش کی جائے۔ انہوں نے مسائل کے حل کو یقینی بنانے کے لیے باقاعدہ نگرانی اور مسلسل پیروی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔
عوامی دربار عوام اور انتظامیہ کے درمیان براہِ راست رابطے کا ایک اہم ذریعہ ثابت ہوا، جس کے ذریعے مقامی مسائل کی نشاندہی کرنے اور ضلع کپواڑہ میں عوام دوست حکمرانی اور جامع ترقی کو فروغ دینے کی کوششوں کو تقویت ملی
