• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Friday, October 16, 2026
JKNS
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
JKNS | Jammu Kashmir News Service
No Result
View All Result
Home Article

کھیل کے میدان میں کھلاڑی کی شناخت صلاحیت اور کھیل کے جذبے سے ہوتی ہے

تحریر:ارشاد رسول by تحریر:ارشاد رسول
October 16, 2026
in Article
A A
FacebookTwitterWhatsapp

قارئین،کھیل کی دنیا میں ایک عجیب کشش ہے جو مختلف زبانیں بولنے، الگ تہذیبوں سے تعلق رکھنے اور مختلف سماجی و معاشی حالات میں زندگی گزارنے والے لوگوں کو ایک جگہ جمع کردیتی ہے۔ میدانِ کھیل میں انسان کی شناخت اس کے علاقے، مذہب، زبان یا خاندانی پس منظر سے نہیں، بلکہ اس کی محنت، صلاحیت اور کھیل کے جذبے سے ہوتی ہے۔ فٹ بال کا میدان ہو، کرکٹ گراؤنڈ، باسکٹ بال کا کورٹ یا دوڑ کا میدان، ہر جگہ بنیادی اہمیت اس بات کو حاصل ہوتی ہے کہ کھلاڑی کس جذبے کے ساتھ مقابلے میں حصہ لے رہا ہے۔ کھیل ہمیں یہ سبق دیتے ہیں کہ اختلافات لازماً دوریاں پیدا نہیں کرتے، بلکہ مشترکہ مقصد کے لیے کام کیا جائے تو یہی فرق اجتماعی قوت میں تبدیل ہوسکتے ہیں۔ محلے میں کھیلتے بچوں سے لے کر فوجی یونٹوں کے درمیان ہونے والے مقابلوں اور اپنی قومی ٹیم کی حوصلہ افزائی کرنے والے ہزاروں تماشائیوں تک، سب کے جذبات میں ایک حیرت انگیز مماثلت پائی جاتی ہے۔ جوش، خوشی، فخر، شکست کا دکھ، دوبارہ کوشش کرنے کا عزم اور کسی بڑی اجتماعی شناخت سے وابستگی کا احساس کھیل کے ذریعے سب کو ایک دوسرے کے قریب لے آتا ہے۔کھیلوں کی سب سے نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ وہ انسانوں کے درمیان کھڑی بہت سی دیواروں کو عبور کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ کرکٹ کا ایک مقابلہ مختلف زبانیں بولنے والے لوگوں کو ایک مشترکہ جذبے میں باندھ سکتا ہے، جبکہ اولمپک کھیل دنیا بھر کے کھلاڑیوں کو ایک ہی پلیٹ فارم پر اپنی صلاحیتیں دکھانے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ اسی طرح کسی علاقے میں منعقد ہونے والا فٹ بال ٹورنامنٹ پورے محلے یا بستی کو ایک سرگرمی کے گرد جمع کرسکتا ہے۔ ایسے مواقع پر انفرادی اختلافات پس منظر میں چلے جاتے ہیں اور مشترکہ دلچسپی کو فوقیت حاصل ہوجاتی ہے۔ کسی ٹیم کی وردی کے رنگ لوگوں کو ایک دوسرے سے قریب کردیتے ہیں، جبکہ اسٹیڈیم میں لہراتا قومی پرچم ان لاکھوں افراد کے دلوں میں ایک ہی جذبہ پیدا کرسکتا ہے جو شاید زندگی میں کبھی ایک دوسرے سے نہ ملے ہوں۔ یہی کھیل کی وہ غیر معمولی سماجی قوت ہے جو اجنبی لوگوں کو بھی مشترکہ تجربے اور جذبات کے رشتے میں باندھ دیتی ہے۔قارئین ،ٹیم کے کھیلوں کی بنیاد باہمی تعاون پر قائم ہوتی ہے۔ کوئی کھلاڑی خواہ کتنا ہی باصلاحیت کیوں نہ ہو، وہ تنہا پوری ٹیم کی کامیابی یقینی نہیں بنا سکتا۔ ہر کھلاڑی کو اپنے ساتھیوں سے رابطہ رکھنے، ان پر اعتماد کرنے اور اپنی ذمہ داری سمجھنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ کھیل کے دوران یہ سیکھنے کو ملتا ہے کہ کہاں قیادت کرنی ہے، کہاں کسی دوسرے کا ساتھ دینا ہے، کب ذمہ داری قبول کرنی ہے اور کب ذاتی مفاد کے بجائے پوری ٹیم کی کامیابی کو ترجیح دینی ہے۔ یہ خوبیاں صرف کھیل کے میدان تک محدود نہیں رہتیں بلکہ عملی اور نجی زندگی میں بھی انسان کے کام آتی ہیں۔ مقابلے کے آخری لمحات میں اپنے ساتھی پر اعتماد کرنے والا کھلاڑی دراصل زندگی کے ان تقاضوں کو سمجھ رہا ہوتا ہے جہاں مشترکہ کوشش انفرادی صلاحیت سے زیادہ اہمیت اختیار کرلیتی ہے۔ کھیل انسان کو یہ حقیقت بھی سمجھاتے ہیں کہ اجتماعی کامیابی اکثر انفرادی کارکردگی سے کہیں زیادہ بڑی ہوتی ہے۔کھیلوں سے ملنے والے اہم ترین اسباق میں سے ایک کھیل کے آداب اور مخالف کے احترام کا جذبہ ہے۔ ہر مقابلے میں ایک ٹیم جیتتی ہے اور دوسری کو شکست کا سامنا کرنا پڑتا ہے، لیکن ہار ہمیشہ ناکامی کا نام نہیں ہوتی۔ شکست انسان کو اپنی کمزوریوں کا جائزہ لینے، حوصلہ برقرار رکھنے اور پہلے سے زیادہ محنت کے ساتھ واپس آنے کا موقع دیتی ہے۔ اسی طرح کامیابی انسان کو عاجزی اور انکساری سکھاتی ہے۔ سخت مقابلے کے بعد مخالف کھلاڑی سے ہاتھ ملانا، زخمی حریف کی مدد کرنا یا جیتنے والی ٹیم کی جانب سے دوسرے کھلاڑیوں کی کارکردگی کو سراہنا اس بات کا ثبوت ہے کہ مقابلے کے ساتھ احترام بھی برقرار رکھا جاسکتا ہے۔ میدان کے دوسری طرف موجود کھلاڑی محض حریف نہیں ہوتا، بلکہ اکثر وہی ہماری صلاحیتوں کو بہتر بنانے اور ہمیں اپنی حدوں سے آگے بڑھنے پر آمادہ کرتا ہے۔کھیل نسلوں کے درمیان تعلق مضبوط کرنے کا ذریعہ بھی بنتے ہیں۔ والدین اپنے بچوں کو وہ کھیل سکھاتے ہیں جن سے ان کی اپنی یادیں وابستہ ہوتی ہیں، جبکہ بزرگ اپنے زمانے کے مشہور مقابلوں اور نامور کھلاڑیوں کے قصے سناتے ہیں۔ نئی نسل اپنے تجربات اور یادیں تخلیق کرتے ہوئے ان روایات کو آگے بڑھاتی ہے جو کئی دہائیوں سے قائم ہوتی ہیں۔ بھارت میں کرکٹ اس تعلق کی ایک نمایاں مثال ہے۔ کسی اہم میچ کے دوران گھر کے بزرگ، والدین اور بچے ایک ساتھ بیٹھ کر مقابلہ دیکھتے ہیں، کھلاڑیوں کی کارکردگی پر بحث کرتے ہیں اور ہر چوکے، چھکے اور وکٹ پر اپنے جذبات کا اظہار کرتے ہیں۔ یوں کرکٹ محض تفریح نہیں رہتی، بلکہ مختلف نسلوں کے درمیان رابطے کی ایک مشترکہ زبان بن جاتی ہے۔کھیل ایسے مواقع بھی پیدا کرتے ہیں جو بعض افراد کو زندگی کے دوسرے شعبوں میں آسانی سے میسر نہیں آتے۔ میدان میں کسی کھلاڑی کی کارکردگی، اس کا نظم و ضبط اور مسلسل محنت اس کی پہچان بن سکتے ہیں۔ یہاں سماجی حیثیت کے مقابلے میں صلاحیت اور عزم زیادہ اہمیت رکھتے ہیں۔ خصوصاً نوجوانوں کے لیے کھیل خود اعتمادی، قیادت اور نظم و ضبط پیدا کرنے کے ساتھ ایسی دوستیاں قائم کرنے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں جو شاید عام حالات میں ممکن نہ ہوتیں۔ مختلف پس منظر سے تعلق رکھنے والے نوجوان جب ایک ٹیم میں کھیلتے ہیں تو وہ ایک دوسرے کو برابر کا ساتھی سمجھنا اور مل جل کر کام کرنا سیکھتے ہیں۔ اس طرح کھیل مضبوط اور مربوط معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔قارئین،مسلح افواج میں کھیلوں کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، کیونکہ فوجی زندگی میں جسمانی صحت، ذہنی مضبوطی، نظم و ضبط اور دباؤ کے دوران بہتر کارکردگی بنیادی تقاضے ہیں۔ کھیل ان خصوصیات کو پروان چڑھانے کا فطری ذریعہ ہیں۔ مختلف فوجی یونٹوں کے درمیان فٹ بال یا والی بال کا مقابلہ بظاہر ایک کھیل ہوتا ہے، لیکن اس کے ذریعے اہلکاروں میں باہمی اعتماد، رفاقت اور اجتماعی ذمہ داری کا احساس بھی مضبوط ہوتا ہے۔ مختلف ذمہ داریوں اور پس منظر سے تعلق رکھنے والے اہلکار جب ایک ساتھ کھیلتے، ایک دوسرے کی حوصلہ افزائی کرتے اور کامیابی یا شکست کا سامنا کرتے ہیں تو ان کے درمیان ایسے تعلقات استوار ہوتے ہیں جو پوری ٹیم کو مضبوط بناتے ہیں۔ اس اعتبار سے کھیل کا میدان فوجی زندگی کے اس اصول کی عملی تصویر پیش کرتا ہے کہ اجتماعی مفاد کو ذاتی مفاد پر ترجیح دی جائے۔بین الاقوامی کھیلوں کے بڑے مقابلوں میں کھیل کی متحد کرنے والی قوت سب سے زیادہ نمایاں ہوتی ہے۔ کسی اہم میچ کے دوران لاکھوں افراد روزمرہ اختلافات بھلا کر ایک ہی ٹیم کی حمایت میں جمع ہوجاتے ہیں۔ سڑکوں پر معمول کی سرگرمیاں کم ہوجاتی ہیں، دفاتر میں مقابلے کے نتائج زیرِ بحث آتے ہیں، خاندان ٹیلی وژن کے گرد جمع ہوتے ہیں اور اجنبی لوگ بھی ایک دوسرے کے ساتھ خوشی مناتے دکھائی دیتے ہیں۔ کسی کھلاڑی یا ٹیم کی کامیابی پورے ملک کے لیے فخر کا باعث بن سکتی ہے۔ اس اتحاد کی خوب صورتی یہ ہے کہ اس کے لیے سب لوگوں کا ایک جیسا سوچنا ضروری نہیں ہوتا؛ انہیں صرف ایک مشترکہ خوشی منانے کا موقع درکار ہوتا ہے۔کھیلوں کی اصل قدر صرف تمغوں، انعامات یا قائم کیے گئے ریکارڈوں سے نہیں ناپی جاسکتی۔ ان کی حقیقی اہمیت ان خوبیوں میں پوشیدہ ہے جو مقابلہ ختم ہونے کے بعد بھی انسان کے کردار کا حصہ بنی رہتی ہیں۔ باقاعدہ مشق اور

مسلسل محنت نظم و ضبط پیدا کرتی ہے، شکست کے بعد دوبارہ کھڑے ہونے کی ہمت حوصلہ مندی کو جنم دیتی ہے، جبکہ دوسروں کے ساتھ مل کر کام کرنا اجتماعی کامیابی کی اہمیت سمجھاتا ہے۔ کھیل قیادت کا سلیقہ سکھاتے ہیں، ذمہ داری قبول کرنے اور مشکل حالات میں ذہنی توازن برقرار رکھنے کی صلاحیت پیدا کرتے ہیں، اور مخالف کی عزت کرنے کا شعور بھی دیتے ہیں۔ سب سے بڑھ کر، مشترکہ محنت، جدوجہد، کامیابی اور شکست سے پیدا ہونے والی رفاقت لوگوں کے درمیان دیرپا تعلقات قائم کرتی ہے۔ یہی اسباق انسان کو بہتر کھلاڑی ہی نہیں، بلکہ ذمہ دار شہری، بااصول رہنما اور مضبوط معاشرے کا مفید فرد بھی بناتے ہیں۔کھیل محض دو ٹیموں کے درمیان جیت اور ہار کا مقابلہ نہیں، بلکہ انسانی صلاحیتوں کا جشن اور اجتماعی کوشش کی طاقت کا اظہار ہیں۔ یہ ہمیں سکھاتے ہیں کہ نفرت کے بغیر مقابلہ کیسے کیا جائے، غرور کے بغیر کامیابی کیسے حاصل کی جائے اور مایوسی کا شکار ہوئے بغیر شکست کو کیسے قبول کیا جائے۔ کھیل حریفوں کے درمیان دوستی، مختلف برادریوں کے درمیان قربت اور زندگی بھر یاد رہنے والے تجربات پیدا کرتے ہیں۔ ایک ایسی دنیا میں جہاں اختلافات اکثر تقسیم کا سبب بن جاتے ہیں، کھیل ایک سادہ مگر مؤثر راستہ دکھاتے ہیں: ایک ساتھ آئیں، ایک ساتھ کھیلیں، مل کر مقابلہ کریں اور مشترکہ خوشی منائیں۔ کیونکہ جب کھیل کی سیٹی بجتی ہے اور مقابلہ شروع ہوتا ہے تو سب سے اہم بات یہ نہیں رہتی کہ ہم کہاں سے آئے ہیں، کون سی زبان بولتے ہیں یا ہمارے درمیان کیا فرق ہے۔ اصل اہمیت اس جذبے کی ہوتی ہے جو ہمیں ایک دوسرے کے ساتھ کھڑا ہونے اور مشترکہ مقصد کے لیے آگے بڑھنے کی ترغیب دیتا ہے۔

Previous Post

پاکستانی زیرقبضہ کشمیر کے نوجوانوں کا مستقبل  ؟

تحریر:ارشاد رسول

تحریر:ارشاد رسول

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.