رات کا آخری پہر تھا۔ اچانک موبائل پر الارم کی آواز گونجی تو میری آنکھ کھل گئی۔ چند لمحوں تک نیم خوابیدہ حالت میں آواز سنتا رہا، پھر یاد آیا کہ یہ الارم مشتاق صاحب نے فجر کی نماز کے لیے وقت پر بیدار ہونے کی غرض سے لگایا تھا۔ مگر شاید نیند اس وقت کچھ زیادہ ہی گہری تھی۔ مشتاق صاحب نہ اٹھ سکے۔ موبائل کچھ دیر تک اپنی ذمہ داری نبھاتا رہا اور بالآخر تھک ہار کر خاموش ہوگیا۔
میں نے لحاف ذرا سا سرکا کر باہر جھانکا۔ کمرے میں ابھی اندھیرا پھیلا ہوا تھا۔ یوں لگ رہا تھا جیسے صبح آنے میں ابھی خاصی دیر ہو۔
پھر نہ جانے کتنی دیر بعد آنکھ کھلی تو دیکھا کہ منظر بدل چکا تھا۔ مشتاق صاحب اپنے بستر پر بیٹھے شوکت شفیع صاحب کے ساتھ گفتگو میں محو تھے، جب کہ شبیر بانہالی اپنے بستر سے غائب تھے۔ اندازہ ہوا کہ موصوف اٹیچڈ واش روم میں ہوں گے۔ دوسری طرف پروفیسر شفیع سنبھلی صاحب ابھی تک لحاف میں دبکے بیٹھے تھے۔
شبیر بانہالی کی واپسی تک میں نے بھی سوچا کہ اس موقع کو غنیمت جانتے ہوئے تازہ دم ہو لیا جائے۔ چنانچہ میں راہداری میں واقع واش روم کی طرف چل پڑا۔ کشمیر کی خنک صبح میں ٹھنڈے پانی سے نہانے کے بعد گرم کمبل میں سمٹ جانے کا جو لطف ہے، اس سے وہی شخص بخوبی واقف ہو سکتا ہے جس نے کبھی اس تجربے سے خود کو گزارا ہو۔
واپس آیا تو کمرے کا نقشہ بدل چکا تھا۔ شبیر بانہالی نے سب کے بستر سمیٹ کر ایک طرف کر دیے تھے۔ کمرہ خاصا کشادہ ہوگیا تھا اور کھڑکیوں سے چھن کر آنے والی روشنی نے ماحول میں ایک نئی رونق پیدا کردی تھی۔
اسی دوران پروفیسر شفیع سنبھلی واش روم سے نکلے اور جائے نماز تلاش کرنے لگے۔
مشتاق صاحب نے مسکراتے ہوئے کہا:
’’سنبھلی صاحب! پار والے کمرے میں جائے نماز آپ کا انتظار کر رہی ہے۔‘‘
’’اچھا!‘‘ سنبھلی صاحب نے اس طرف کا رخ کرتے ہوئے کہا، ’’میں سمجھا شاید یہیں کہیں ہوگی۔‘‘
’’وہیں مل جائے گی، آپ بے فکر ہوکر جائیں،‘‘ مشتاق صاحب نے ہنستے ہوئے کہا۔
پروفیسر صاحب نماز کے لیے چلے گئے۔
ابھی چند لمحے ہی گزرے تھے کہ دروازہ کھلنے کی آواز آئی۔ دو پٹوں پر مشتمل وہ خوب صورت دروازہ، جس پر نفیس کشیدہ کاری کی گئی تھی، صبح کی روشنی میں اور بھی دلکش دکھائی دے رہا تھا۔ درمیان میں لگے رنگین شیشوں پر پھولوں کی کیاریاں بنی ہوئی تھیں اور باہر کی روشنی ان شیشوں سے چھن کر اندر آ رہی تھی۔
دروازے سے معراج صاحب اندر داخل ہوئے۔ ان کے ہاتھوں میں ایک بڑی سی ٹرے تھی۔ ان کے پیچھے ان کی ننھی سی پیاری بیٹی بھی کیٹل اٹھائے چلی آ رہی تھی۔ اسے دیکھ کر محسوس ہوا جیسے باپ کی میزبانی میں بیٹی بھی اپنا حصہ ڈالنے چلی آئی ہو۔ اس چھوٹے سے منظر میں ایک ایسی معصوم اپنائیت تھی جو کسی رسمی تواضع سے زیادہ دل کو چھوتی ہے۔
کچھ ہی دیر میں دسترخوان بچھ گیا۔ کشمیری اخروٹ، دیسی مکھن، مکئی کی روٹیاں، تندوری روٹیاں اور بڑے بڑے پیالوں میں بھاپ اڑاتی نمکین چائے۔ صبح کے اس ناشتے کا منظر واقعی دیکھنے سے تعلق رکھتا تھا۔ رات بھر کی تھکن اور سفر کی مشقت جیسے دسترخوان کے گرد بیٹھتے ہی پس منظر میں چلی گئی۔
شبیر بانہالی اور میں نے اخروٹوں کی طرف ہاتھ بڑھایا، مگر اخروٹ بھی ایسے تھے کہ آسانی سے ہتھیار ڈالنے کے لیے تیار نہیں تھے۔
میں نے ایک اخروٹ دانتوں میں دبایا اور کچھ زور لگایا، مگر ناکام رہا۔
شبیر صاحب نے میری طرف دیکھا اور مسکرا دیے۔
’’کیا ہوا؟‘‘ انہوں نے پوچھا۔
میں نے کہا، ’’لگتا ہے آج اخروٹ نہیں، دانت آزمائے جا رہے ہیں۔‘‘
شبیر صاحب ہنس پڑے۔ ’’لائیے، مجھے دیں۔‘‘
انہوں نے اخروٹ لیا، دانتوں میں دبایا اور چند لمحوں بعد چٹاخ کی آواز کے ساتھ اخروٹ ٹوٹ گیا۔
میں نے حیرت سے کہا، ’’واہ! آپ کے دانت تو مضبوط ہیں۔‘‘
وہ مسکرائے اور بولے، ’’سالک صاحب! اخروٹ کھانے کے لیے صرف دانت ہی نہیں، ارادے بھی مضبوط ہونے چاہئیں۔‘‘
یہ سنتے ہی شوکت شفیع ہنسنے لگے۔ بات میں مزاح بھی تھا اور شبیر صاحب کی خود اعتمادی بھی۔ چند ہی منٹوں میں اخروٹ توڑ توڑ کر ان کے سخت خول ہمارے سامنے جمع ہونے لگے۔ چٹاخ کی آواز، گریاں چبانے کی مدھم چرچراہٹ اور نمکین چائے کی پیالیوں کی کھنک نے صبح کی خاموشی میں ایک عجیب سا سنگیت گھول دیا تھا۔
دسترخوان پر چائے کا دور چل رہا تھا اور اس کے ساتھ ہی گفتگو نے بھی ایک نیا رخ اختیار کر لیا۔
مشتاق احمد مشتاق کشمیری زبان کی معاصر صورتِ حال پر روشنی ڈال رہے تھے۔ ان کی گفتگو میں ماضی کے تجربات کا حوالہ بھی تھا اور حال کے حوالے سے کچھ اہم سوالات بھی۔ وہ کشمیری زبان کی تدریس کے سفر کو یاد کرتے ہوئے اس بات کی طرف توجہ مبذول کرا رہے تھے کہ وقت کے ساتھ تعلیمی اداروں میں کشمیری زبان کی تدریس کے مواقع تو بڑھے، لیکن اس کے ساتھ وابستہ علمی و ادبی ذمہ داریوں کا جائزہ لینا بھی ضروری ہے۔
انھوں نے پروفیسر شفیع سنبھلی صاحب سے مخاطب ہوکر کہا:
’’سنبھلی صاحب! آپ کو شاید یاد ہوگا کہ کالجوں میں کشمیری زبان کے فروغ کے لیے ابتدا میں تین ایڈہاک اسامیاں کریٹ کی گئی تھیں۔ ان پر پروفیسر بشر بشیر، پروفیسر مجروح رشید اور پروفیسر نسیم شفائی تعینات ہوئے۔ بعد میں جب مستقل اسامیوں پر تقرریوں کا مرحلہ آیا تو ان تینوں میں سے صرف پروفیسر بشر بشیر صاحب مستقل ہو سکے، جب کہ فریدہ وانی اور غلام نبی بٹ بھی مستقل تقرری حاصل کرنے والوں میں شامل ہوئے۔ پروفیسر نسیم شفائی ویٹنگ لسٹ میں تھیں۔ بعدازاں جب چوتھی اسامی کریٹ ہوئی تو ان کے مستقل ہونے کی راہ بھی ہموار ہوگئی۔‘‘
ماضی کے ان واقعات کا ذکر کرنے کے بعد مشتاق صاحب نے اپنی گفتگو کو ایک وسیع تر تناظر میں آگے بڑھایا:
’’میرے خیال میں اس پورے معاملے کو صرف اسامیوں اور تقرریوں کی تعداد تک محدود کرکے نہیں دیکھنا چاہیے۔ اصل اہمیت اس بات کی بھی ہے کہ ان مواقع سے وابستہ لوگوں نے کشمیری زبان و ادب کے لیے کیا خدمات انجام دیں۔ اس دور میں زبان و ادب سے وابستگی محض تدریسی ذمہ داری تک محدود نہیں تھی، بلکہ اس کے ساتھ ایک ادبی جذبہ اور اپنی زبان کے لیے کچھ کرنے کا احساس بھی موجود تھا۔ ملازمت اپنی جگہ اہم تھی، لیکن زبان و ادب کی خدمت بھی ان کی ترجیحات میں شامل تھی۔ یہی وجہ ہے کہ تدریس کے ساتھ ساتھ بعض اساتذہ نے اپنی علمی و ادبی سرگرمیوں کے ذریعے بھی کشمیری زبان و ادب کو آگے بڑھانے میں اہم کردار ادا کیا۔‘‘
مشتاق صاحب کی گفتگو کا رخ اب ماضی سے حال کی طرف مڑ چکا تھا۔ ان کی باتوں میں ایک اہم سوال پوشیدہ تھا۔ وقت کے ساتھ کشمیری زبان کی تدریس کے لیے اسامیوں میں اضافہ ہوا، تو کیا علمی و ادبی سرگرمیوں میں بھی اسی تناسب سے وسعت پیدا ہوئی؟ کیا تدریسی مواقع میں اضافے کے ساتھ تحقیق، تنقید، تخلیق اور ادبی تربیت کے میدانوں میں بھی کوئی نمایاں پیش رفت ہوئی؟
پروفیسر شفیع سنبھلی صاحب نے مشتاق احمد مشتاق کی بات کی تائید کرتے ہوئے کہا:
’’آج کالجوں میں کشمیری زبان پڑھانے کے لیے تقریباً ستر پروفیسر صاحبان تعینات ہیں، لیکن سوال یہ ہے کہ اس کے تناسب سے زبان و ادب کو کتنا فائدہ پہنچ رہا ہے؟ چند افراد کی علمی و ادبی خدمات یقیناً قابلِ قدر ہیں، مگر مجموعی طور پر وہ سرگرمی دکھائی نہیں دیتی جس کی توقع اتنی بڑی تعداد میں اساتذہ سے کی جانی چاہیے۔‘‘
گفتگو میں ایک نیا زاویہ سامنے آیا۔ اب بحث اس بات پر مرکوز تھی کہ تدریسی ذمہ داریوں کے ساتھ علمی و ادبی سرگرمیوں کو کس طرح آگے بڑھایا جاسکتا ہے۔ اسی دوران شوکت شفیع بھی گفتگو میں شریک ہوئے۔ انھوں نے اپنے تجربے کی روشنی میں کہا:
’’مجھے محسوس ہوتا ہے کہ ہم نے ملازمتوں کے مواقع تو بڑھا دیے، لیکن ان سے وابستہ علمی و ادبی ذمہ داریوں کو وہ اہمیت نہیں دی جس کی ضرورت تھی۔ اساتذہ کا کام محض نصاب پڑھانا نہیں، بلکہ تحقیق کرنا، طلبہ کی علمی رہنمائی کرنا اور زبان و ادب کی ترقی میں اپنا حصہ ڈالنا بھی ہے۔ اصل خوشی اسامیوں کی تعداد پر نہیں، بلکہ ان سے وابستہ افراد کی ایسی علمی و ادبی خدمات پر ہونی چاہیے جنھیں آنے والی نسلیں یاد رکھیں۔‘‘
شوکت شفیع کی بات نے گفتگو کے بنیادی نکتے کو مزید واضح کردیا تھا۔ مسئلہ محض اسامیوں کی تعداد یا تدریسی اداروں میں کشمیری زبان کی موجودگی کا نہیں تھا، بلکہ اس بات کا تھا کہ ان مواقع کو زبان و ادب کی ترقی کے لیے کس حد تک استعمال کیا جارہا ہے۔
گفتگو میں ایک سنجیدگی پیدا ہوگئی تھی۔ اخروٹوں کے خول دسترخوان پر جمع ہو رہے تھے اور نمکین چائے کے پیالے بار بار بھرے جا رہے تھے، مگر ہماری توجہ اب کشمیری زبان و ادب کے مستقبل کی طرف منتقل ہوچکی تھی۔ میں خاموشی سے سب کی باتیں سن رہا تھا۔ ملازمت، تدریس، تحقیق اور ادبی ذمہ داری کے درمیان تعلق پر ہونے والی اس گفتگو نے مجھے بھی سوچنے پر مجبور کردیا تھا۔ آخر کسی زبان کی ترقی کا انحصار صرف اس بات پر تو نہیں ہوتا کہ اسے پڑھانے والے کتنے اساتذہ موجود ہیں، بلکہ اس پر بھی ہوتا ہے کہ وہ اپنی علمی صلاحیتوں اور تخلیقی توانائیوں سے اس زبان کے ادبی سرمائے میں کتنا اضافہ کرتے ہیں۔ یہی وہ سوال تھا جو اس محفل کی گفتگو سے میرے ذہن میں ابھر کر سامنے آیا۔
اسی دوران شبیر بانہالی نے مشتاق احمد مشتاق کی طرف رخ کیا اور پوچھا:
’’مشتاق صاحب! آپ نے کس دور میں کشمیری زبان میں ایم اے کیا تھا؟ اس وقت شعبۂ کشمیری کا علمی ماحول کیسا تھا؟‘‘
مشتاق صاحب نے نمکین چائے کا ایک گھونٹ لیا اور ماضی کی طرف لوٹتے ہوئے بولے:
’’شبیر صاحب! میں نے 1984ء میں ایم اے کیا۔ اس زمانے میں پروفیسررحمان راہی، پروفیسر شفیع شوق اور پروفیسر رشید نازکی جیسی شخصیات سے علمی استفادے کے مواقع ملے۔ ان اساتذہ کے اپنے اپنے علمی اور ادبی زاویے تھے، لیکن ان سے حاصل ہونے والی ایک اہم بات یہ تھی کہ ادب کو محض ایک محدود دائرے میں رکھ کر نہیں دیکھا جا سکتا۔ اس کے پیچھے تاریخ، فلسفہ، تہذیب اور دوسری زبانوں کی علمی روایتیں بھی ہوتی ہیں۔
گیسٹ فیکلٹی کے طور پر پروفیسر مرغوب بانہالی، پروفیسر بدری ناتھ کلا اور پروفیسر گلشن مجید جیسے اساتذہ بھی پڑھاتے تھے۔ ان مختلف علمی پس منظر رکھنے والی شخصیات سے استفادے کا موقع ملنا ہمارے لیے اہم تھا۔‘‘
ان کی بات سے مجھے احساس ہوا کہ کسی شعبے کا علمی ماحول صرف نصاب اور کلاس روم تک محدود نہیں ہوتا۔ اس ماحول کی وسعت کا اندازہ اس بات سے بھی ہوتا ہے کہ وہاں طلبہ کو کتنی مختلف فکری روایتوں سے روشناس ہونے کا موقع ملتا ہے اور وہ اپنے مضمون کو کتنے وسیع تناظر میں دیکھنا سیکھتے ہیں۔
پروفیسر شفیع سنبھلی صاحب نے گفتگو کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا:
’’کشمیری شعبے کی علمی و ادبی ترقی کے حوالے سے پروفیسر رحمان راہیؔ کا دور سنہرے حروف سے لکھے جانے کے لائق ہے۔ انہوں نے شعبے کو محض تدریس اور نصابی ضروریات تک محدود نہیں رکھا، بلکہ تحقیق، تصنیف اور اشاعت کے ذریعے اسے ایک نئی علمی شناخت عطا کی۔ساتھ ہی “انہار “کے نام سے ایک ادبی و تحقیقی مجلے کا اجرا بھی عمل میں لایا، جو آج بھی شائع ہو رہا ہے۔یہ تمام اقدامات اس بات کی نشان دہی کرتے ہیں کہ پروفیسر راہیؔ نے شعبے کو محض ایک تدریسی ادارہ نہیں، بلکہ کشمیری زبان و ادب کی تحقیق، ترویج اور اشاعت کا ایک فعال مرکز بنانے میں اہم کردار ادا کیا۔‘‘
اس گفتگو نے شعبۂ کشمیری کے ماضی اور حال کے درمیان ایک گہرا تقابلی سوال کھڑا کر دیا تھا۔ ایک زمانہ تھا جب یہ شعبہ علمی و ادبی تابندگی سے منور تھا۔ تحقیق و تصنیف کی سرگرمیاں اسے ایک نمایاں شناخت عطا کر رہی تھیں اور اس سے وابستہ اہلِ علم کی کاوشوں سے نئی امیدیں وابستہ تھیں۔ مگر آج محسوس ہوتا ہے کہ اس کی وہ چمک ماند پڑ چکی ہے۔ کبھی جس شعبے کی علمی روشنی دور تک دکھائی دیتی تھی، اب وہاں پہلے جیسی تابانی نظر نہیں آتی۔ سوال یہ تھا کہ آخر وقت کے ساتھ ایسا کیا بدلا کہ شعبۂ کشمیری اپنی شانِ رفتہ بحال نہ کر سکا؟
شعبۂ کشمیری کے حوالے سے گفتگو جاری تھی کہ شاکر شفیع دروازے پر نمودار ہوئے۔ ان کے چہرے پر تھکن کے آثار نمایاں تھے۔ یوں لگتا تھا جیسے موصوف نے رات بھر آنکھ ہی نہ جھپکی ہو۔
آتے ہی انہوں نے میری طرف دیکھ کر کہا، ’’سالک! امید کرتا ہوں کہ آپ سب نے رات بھر آرام کیا ہوگا۔‘‘
شبیر بانہالی نے مسکراتے ہوئے فوراً جواب دیا، ’’شاکر صاحب! جہاں سالک ہو، وہاں آرام ہو ہی نہیں سکتا!‘‘
ان کے اس جملے پر سبھی ہنس پڑے۔ میں بھی اپنی ہنسی نہ روک سکا۔ شبیر صاحب نے ایک ہی جملے میں میری رات بھر کی بیداری اور گفتگو کے شوق کو موضوعِ مزاح بنا دیا تھا۔
شاکر شفیع نے بھی مسکراتے ہوئے ایک لطیف بات کہی، ’’آرام تو ہر رات گھر میں کر ہی لیتے ہیں، لیکن ایسی محفلیں اور ایسے موقعے بار بار کہاں ملتے ہیں!‘‘
ان کی بات کی سبھی نے تائید کی۔ واقعی، گھر کی نیند اور آرام اپنی جگہ، لیکن اہلِ علم و ادب کی ایسی صحبتیں زندگی میں بار بار کہاں نصیب ہوتی ہیں؟ کبھی ایک جملہ، کبھی کسی بزرگ کی یاد، کبھی کسی علمی بحث کا نیا رخ اور کبھی دوستوں کی بے تکلف ہنسی۔۔یہی تو وہ چیزیں ہیں جو ایسی محفلوں کو یادگار بنا دیتی ہیں۔
اسی دوران مجھے خیال آیا کہ شاکر شفیع کی جیکٹ ابھی تک میرے پاس تھی۔ موسم بھی اب خاصا بہتر ہو گیا تھا، اس لیے میں نے جیکٹ اتار کر انہیں واپس کردی۔
شاکر شفیع کمرے سے نکلتے ہی بولے، ’’آپ سبھی اب ہائر سیکنڈری اسکول پہنچ جائیے، وہاں کانفرنس کے دوسرے دن کی کارروائی شروع ہونے والی ہے۔‘‘
ہم ابھی ان کی ہدایت پر عمل کرنے ہی والے تھے کہ معراج صاحب لپٹن چائے لے کر حاضر ہوگئے۔ ان کے ساتھ بڑے بڑے کوکونٹ بھی تھے۔ چائے کا نام سنتے ہی طبیعت میں تازگی کا احساس ہوا، لیکن میری نگاہ جیسے ہی کوکونٹ پر پڑی، منہ میں پانی بھر آیا۔ میں شاید چائے پینے سے معذرت کر لیتا، مگر ان گول گول کوکونٹ نے مجھے روک لیا۔
انہیں دیکھتے ہی بچپن کی کئی یادیں ذہن میں تازہ ہوگئیں۔ بعض چیزیں بظاہر کتنی معمولی ہوتی ہیں، مگر ان سے وابستہ یادیں انسان کے اندر ایک پوری دنیا آباد کیے رکھتی ہیں۔ کوکونٹ کو دیکھ کر مجھے اپنے بچپن کے وہ دن یاد آئے جب ایسی چیزیں خوشی کا باعث بنتی تھیں۔ لمحہ بھر کے لیے یوں محسوس ہوا جیسے وقت کی گرد میں دبے ہوئے دن اچانک میرے سامنے آ کھڑے ہوئے ہوں۔ اس وقت ان کوکونٹ کی کشش صرف ان کے ذائقے میں نہیں تھی، بلکہ ان یادوں میں بھی تھی جو ان کے ساتھ لوٹ آئی تھیں۔
ہم نے لپٹن چائے کی چسکیوں اور کوکونٹ کے ذائقے سے لطف اٹھایا۔ معراج صاحب کی اس محبت بھری تواضع نے صبح کی مصروفیت میں ایک خوش گوار وقفہ پیدا کردیا۔ چائے ختم ہوئی تو ہم نے ان سے رخصت لی اور کانفرنس کے دوسرے دن کی کارروائی میں شریک ہونے کے لیے ہائر سیکنڈری اسکول حاجن کی طرف چل پڑے۔ (جاری )

