• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Saturday, October 24, 2026
JKNS
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
JKNS | Jammu Kashmir News Service
No Result
View All Result
Home اردو خبریں

ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس (41)

محمد سلیم سالک by محمد سلیم سالک
October 24, 2026
in اردو خبریں
A A
ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس (41)
FacebookTwitterWhatsapp

نشست کا آخری مقالہ ابھی پیش کیا جانا باقی تھا کہ اسی دوران شاکر شفیع نے ریاض الحسن کے کان میں کوئی بات کہی۔ ریاض الحسن نے اعلان کیا کہ اس عظیم الشان کانفرنس کے انعقاد میں جموں و کشمیر بینک کا جزوی تعاون بھی شامل رہا ہے۔ چونکہ بینک کے چیف منیجر جناب فیاض احمد گنائی کو ایک ضروری کام کے سلسلے میں جانا تھا، اس لیے ادبی مرکز کمراز کے صدر جناب محمد امین بٹ سے گزارش کی گئی کہ وہ فیاض صاحب کو ادارے کی جانب سے مومنٹو پیش کریں۔
اعلان ہوتے ہی پنڈال تالیوں سے گونج اٹھا۔ فیاض احمد گنائی کو مومنٹو پیش کیا گیا اور ساتھ ہی رسالہ ’پرو‘ کا تازہ شمارہ بھی بطورِ تحفہ دیا گیا۔ اس مختصر تقریب کے بعد ریاض الحسن نے تیسرے اور آخری مقالے کے لیے ڈاکٹر سوہن لعل کول کو دعوت دی، جنہیں کشمیری بھگتی شاعری کے موضوع پر اظہارِ خیال کرنا تھا۔
ڈاکٹر سوہن لعل کول میرے نزدیک کشمیری زبان کے ان ناول نگاروں میں نمایاں مقام رکھتے ہیں جنہوں نے محض ایک دہائی کے عرصے میں تقریباً بیس ناول لکھ کر کشمیری نثر کو وسعت بخشی۔ تاہم، میرے لیے یہ موقع اس اعتبار سے بھی اہم تھا کہ پہلی بار انہیں بحیثیتِ مقالہ نگار سننے کا موقع مل رہا تھا۔ وہ وسیع مطالعے کے حامل ہیں اور بالخصوص انگریزی ادب سے گہری دلچسپی رکھتے ہیں۔ میرے ذہن میں یہ اشتیاق تھا کہ ان کا یہ علمی و ادبی پس منظر کشمیری بھگتی شاعری کے مطالعے میں کس طرح منعکس ہوتا ہے۔
کول صاحب نے اپنی گفتگو کا آغاز ٹی۔ ایس۔ ایلیٹ کے اس معروف قول سے کیا:
“Dante and Shakespeare divide the modern world between them. There is no third.”
یعنی دانتے اور شیکسپیئر نے جدید دنیا کو اپنے درمیان اس طرح تقسیم کر رکھا ہے کہ ان کے بعد کسی تیسرے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
اس قول کے حوالے سے انہوں نے کشمیری عقیدتی شاعری کی طرف رخ کیا اور ایک ایسا خیال پیش کیا جو بظاہر چونکا دینے والا تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ کشمیری عقیدتی شاعری کے تناظر میں لل دید اور سہزانند، یعنی نند ریشی، کے بعد کسی تیسرے کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔ وہ اس بات سے واقف تھے کہ یہ دعویٰ اختلافِ رائے کو دعوت دے سکتا ہے، لیکن ان کے پاس اپنے موقف کے حق میں ایک ایسی دلیل تھی جس نے میری توجہ فوراً اپنی طرف کھینچ لی۔
انہوں نے کہا:
’’لل دید اور نند ریشی کے بعد وجود میں آنے والی عقیدتی شاعری کا تقریباً نوّے فیصد حصہ Repacking کے عمل کا نتیجہ ہے، یعنی پہلے سے موجود فکری اور روحانی تصورات کو نئے لفظی اور شعری پیکر میں پیش کرنا۔‘‘
یہ بات سنتے ہی میرے ذہن میں سوال ابھرا کہ کیا واقعی ان دونوں شاعروں نے کشمیری عقیدتی شاعری کے لیے فکری اور روحانی اظہار کی ایسی بنیاد فراہم کردی تھی جس سے آگے بڑھنا بعد کے شعرا کے لیے دشوار ہوگیا؟ کول صاحب کا دعویٰ محض دو شاعروں کی عظمت کے تعین تک محدود نہیں تھا، بلکہ اس کے ذریعے وہ روایت، تخلیقی انفرادیت اور شعری عظمت کے باہمی رشتے پر غور کرنے کی دعوت دے رہے تھے۔
اپنے موقف کی وضاحت کرتے ہوئے انہوں نے کہا:
’’موجودہ دور میں عقیدتی یا بھگتی روایت کا اظہار رفتہ رفتہ ایک رسمی عمل کی صورت اختیار کرتا جارہا ہے۔ عبادت گاہوں میں حاضری ہو یا شاعری میں عقیدت کا اظہار، بعض اوقات ان اعمال کی ظاہری صورت تو باقی رہتی ہے، لیکن ان کے پس منظر میں کارفرما داخلی کیفیت اور فکری وابستگی کمزور پڑنے لگتی ہے، جو کبھی ان کی اصل روح ہوا کرتی تھی۔ ادبی دنیا میں بھی بعض شعرا اپنی کتابوں کے ابتدائی صفحات میں عقیدتی یا بھگتی شاعری کے لیے جگہ مخصوص رکھتے ہیں، لیکن جب یہ شمولیت کسی گہری تخلیقی یا روحانی ضرورت کے بجائے محض روایت نبھانے کے لیے ہو تو رفتہ رفتہ ایک رسمی تکمیل بن کر رہ جاتی ہے۔‘‘
میرے پہلو میں بیٹھے گلزارجعفرصاحب نے ان کی بات کی تائید کرتے ہوئے میری طرف متوجہ ہوکر کہا:
’’سالک صاحب! کول صاحب کی بات میں وزن ہے۔ اب ہم عقیدت کو بھی ایک رسم کے طور پر نبھانے لگے ہیں۔ دل کی گہرائیوں سے عقیدتی شاعری کرنے والے اب خال خال ہی نظر آتے ہیں۔‘‘
اس کے بعد کول صاحب نے کشمیری بھگتی شاعری کے فلسفیانہ پس منظر کی طرف توجہ دلائی۔ ان کا کہنا تھا:
’’کشمیر کی فلسفیانہ روایت میں ابھینوگپت کی فکر اور فلسفۂ ترِیکا و شیو مت کے بنیادی تصورات کو سمجھنا بہت ضروری ہے، کیونکہ لل دید کی شاعری کو اس کے فکری پس منظر میں سمجھنے کا ایک راستہ یہیں سے کھلتا ہے۔ ان کے کلام کو محض عقیدت کے اظہار یا روحانی واردات کے تناظر میں دیکھنا کافی نہیں، بلکہ اس کے پس منظر میں کارفرما فلسفیانہ افکار سے واقفیت بھی ضروری ہے۔
اس نظامِ فکر میں ’چِت‘، ’پرکاش‘، ’وِمرش‘ اور ’سپند‘ جیسی اصطلاحات بنیادی اہمیت رکھتی ہیں۔ ’چِت‘ شعور کی حقیقت کو ظاہر کرتا ہے، ’پرکاش‘ اس کے روشن اور ظہور بخش پہلو کی طرف اشارہ کرتا ہے، جب کہ ’وِمرش‘ شعور کی اپنی ذات سے آگاہی کی قوت ہے۔ اسی طرح ’سپند‘ شعور کی داخلی اور تخلیقی حرکت کو سمجھنے کی ایک اہم اصطلاح ہے۔ ان تصورات کی روشنی میں لل دید کی شاعری میں پوشیدہ فکری گہرائی اور روحانی تجربے کو بہتر طور پر سمجھا جاسکتا ہے۔‘‘
ان اصطلاحات کی وضاحت سنتے ہوئے مجھے محسوس ہوا کہ کول صاحب محض فلسفیانہ تصورات سے آگاہ نہیں کر رہے، بلکہ لل دید کے کلام تک رسائی کے لیے ایک فکری راستہ بھی متعین کر رہے ہیں۔ اسی دوران گلزار جعفر صاحب نے میری توجہ ایک اہم نکتے کی طرف مبذول کرائی:
’’کول صاحب نے جن اصطلاحات کی طرف اشارہ دیا ۔ان پرغور کرتے ہوئے مجھے محسوس ہورہا کہ لل دید کے کلام کو محض عقیدتی شاعری کے عمومی دائرے میں رکھ کر پڑھنا ان کے فکری امکانات کو محدود کردے گا۔ ان کے ہاں باطنی تجربے، خود شناسی اور حقیقت کی تلاش کا جو رنگ دکھائی دیتا ہے، اسے کشمیر کی قدیم فلسفیانہ روایت کے تناظر میں بھی سمجھنے کی ضرورت ہے۔‘‘
ابھی گلزار صاحب کی بات مکمل بھی نہیں ہوءی تھی کہ کول صاحب نے وضاحت کی:
’’ابھینوگپت کے ہاں یہی جستجو فلسفیانہ استدلال اور دقیق اصطلاحات کے ذریعے سامنے آتی ہے، جب کہ لل دید کے کلام میں باطنی تجربے کا اظہار مقامی زبان کی بے ساختگی اور شعری تاثیر کے ساتھ ہوتا ہے۔ دونوں کے درمیان فکری تعلق کی نوعیت اور حدود کا تعین ایک الگ تحقیقی موضوع ہے، لیکن کشمیر کی فلسفیانہ روایت سے واقفیت لل دید کے فکری پس منظر کو سمجھنے میں مدد ضرور دیتی ہے۔‘‘
یہ گفتگو سنتے ہوئے میرے ذہن میں لل دید کی شاعری کے حوالے سے ایک اور سوال پیدا ہوا کہ کیا انہیں صرف ایک عقیدت مند شاعرہ سمجھنا کافی ہے، یا ان کے کلام میں انسانی شعور اور باطنی تجربے کی ایسی جہات بھی موجود ہیں جو انہیں اس محدود تعریف سے آگے لے جاتی ہیں؟
کول صاحب نے جیسے میرے دل کی بات سن لی اور وہ گویا ہوءے :
’’میرے نزدیک لل دید کی شاعری کا ایک اہم امتیاز یہ ہے کہ اس میں عقیدت محض کسی حاجت کی تکمیل کے لیے فریاد تک محدود نہیں رہتی۔ اس کا مرکز انسان کے باطن کی طرف مراجعت، خود شناسی اور اپنی حقیقت کی دریافت ہے۔ وہ انسان کو خارجی دنیا کی کششوں سے ہٹ کر اپنے اندر جھانکنے اور اپنے وجود کے سوالات سے روبرو ہونے کی دعوت دیتی ہیں۔ اسی تناظر میں شعور کی اعلیٰ سطح، جسے انگریزی میں Superconsciousness کہا جاتا ہے، کا تصور ہمارے لیے اہم ہوجاتا ہے۔ تاہم، لل دید کی روحانی کیفیت کو کسی ایک جدید اصطلاح میں مکمل طور پر سمیٹ دینا بھی درست نہیں ہوگا۔ ان کی شاعری کی معنویت ان کے اپنے عہد، فکری روایت، زبان اور باطنی تجربے کے مجموعے سے پیدا ہوتی ہے۔‘‘
اس ضمن میں انہوں نے لل دید کا ایک واکھ بھی پیش کیا:
گورن وونم کنے وژن
نبیر دوپنم اندر اژن
سے میے لل گوو واکھ تہ وژن
توے ہیوتم ننگے نژن
ان مصرعوں میں باطنی تجربے اور روحانی جستجو کی جو کیفیت محسوس ہوتی ہے، وہ لل دید کی شاعری کی انفرادیت کو نمایاں کرتی ہے۔ ان کی شخصیت کا ایک پہلو یوگنی کی حیثیت سے بھی سامنے آتا ہے اور ان کے کلام میں روحانی ریاضت کے آثار اسی تناظر میں اہمیت اختیار کرتے ہیں۔ یوگانند نے لل دید کو “Supreme Mistress of Yoga”، یعنی ’’یوگ کی عظیم ترین استاد‘‘، قرار دیا ہے۔ یہ تعبیر ان کی روحانی شخصیت اور یوگ کی روایت میں ان کے مقام کی طرف اشارہ کرتی ہے۔
لل دید کے بعد کول صاحب نے نند ریشی کا ذکر کیا:
’’نند ریشی کی شاعری میں بھی باطنی پاکیزگی، اخلاقی تربیت اور روحانی شعور نمایاں ہیں۔ ان کا ایک مشہور شروکھ ہے:
شو چھوی زٲویل زال واہرٲوتھ
تی چھوی مرونۍ تیرتھ کتھ
زندٕنے مرکھ اد ِکوِزِمرٔتھ
پانہ مننز پانۍ کٔڑ ویژارتھ کتھ
نند ریشی کے کلام میں عقیدت اور روحانی وابستگی کے ساتھ اخلاقی اصلاح اور انسانی کردار کی تعمیر کا پہلو بھی نمایاں ہے۔ ان کی شاعری کو کسی ایک مذہبی یا فکری خانے میں محدود کرنا مناسب نہیں۔ اس میں خود احتسابی، انسانی مساوات اور باطنی تطہیر جیسے موضوعات بھی اپنی جگہ رکھتے ہیں۔ یہی وسعت انہیں کشمیری روحانی روایت کی ایک اہم شخصیت بناتی ہے۔‘‘
کول صاحب کی گفتگو سے یہ بات واضح ہوتی جارہی تھی کہ کشمیری بھگتی شاعری کی معنویت صرف مذہبی موضوعات یا شعرا کے عقائد تک محدود نہیں، بلکہ اس میں انسانی تجربے، اخلاقی شعور اور فکری روایت کے مختلف پہلو بھی شامل ہیں۔ اسی تسلسل میں انہوں نے روپہ بھوانی کا ذکر کیا:
’’روپہ بھوانی کا ذکر اسی سلسلے کی ایک اہم کڑی ہے۔ لل دید کی طرح انہوں نے بھی باطن کی دنیا کو اپنی شاعری کا موضوع بنایا، لیکن ان کے ہاں روحانی تجربے کے اظہار میں مختلف لسانی اور تہذیبی اثرات کی نشان دہی کی جاتی ہے۔ ان کے کلام کے مطالعے سے یہ سمجھنے میں مدد ملتی ہے کہ کشمیری روحانی شاعری نے مختلف ادوار میں اپنے اظہار کے نئے امکانات کس طرح تلاش کیے۔ اس روایت میں سوامی بونہ کاک، سوامی لچھ کاک اور سوامی ٹکہ کاک جیسے نام بھی لیے جاتے ہیں۔ ان شخصیات کے کلام اور سوانحی حالات پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے، لیکن ان کا ذکر اس وسیع ادبی سلسلے کی طرف توجہ دلاتا ہے جس میں روحانی ریاضت، خدا سے وابستگی اور اخلاقی شعور کو شعری اظہار کا حصہ بنایا گیا۔‘‘
میں پہلی بار سوامی بونہ کاک، سوامی لچھ کاک اور سوامی ٹکہ کاک جیسے شعرا سے متعارف ہورہا تھا۔ ان کے ناموں سے واقفیت نے میرے لیے کشمیری بھگتی شاعری کے ایک ایسے گوشے کی طرف توجہ مبذول کرائی جس کے بارے میں میرا مطالعہ ابھی تشنہ تھا۔ اپنی کم علمی کا احساس بھی ہوا اور اس روایت کو مزید پڑھنے کی خواہش بھی پیدا ہوئی۔
کول صاحب نے اس سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے پرمانند اور پرکاش رام کا ذکر کیا:
’’پرمانند اور پرکاش رام بھگتی شاعری کے دو چمکتے ستارے ہیں، جنہوں نے کشمیری بھگتی شاعری میں مذہبی عقیدت، شعری تخیل اور فلسفیانہ فکر کو اپنے اپنے انداز میں یکجا کیا۔ پرمانند، جن کا اصل نام پنڈت نند رام بتایا جاتا ہے، کی شاعری میں رام اور کرشن سے عقیدت، یوگ، اخلاقی تعلیمات اور ویدانت کے تصورات نمایاں ہیں۔ ان کی تصانیف ’شیو لگن‘، ’رادھا سویم ور‘ اور ’سداما چرتھ‘ اس روایت کی اہم مثالوں میں شمار ہوتی ہیں۔ ان کے کلام کی معنویت صرف مذہبی قصوں کے بیان میں نہیں، بلکہ ان قصوں کے ذریعے محبت، خود احتسابی اور روحانی معرفت کے پہلوؤں کو سامنے لانے میں بھی ہے۔
پرکاش رام نے بالخصوص رام کتھا کو کشمیری زبان کے شعری مزاج اور مقامی تہذیبی احساس سے ہم آہنگ کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ان کی تصنیف ’رام اوتار چرتھ‘ کشمیری زبان میں رامائن کی روایت کا نمایاں نمونہ ہے، جب کہ ’لوکُس چرتھ‘ بھی ان سے منسوب اہم تصانیف میں شمار ہوتی ہے۔‘‘
گلزار جعفر صاحب نے کول صاحب کی بات کی تائید کرتے ہوئے مجھ سے کہا:
’’سالک صاحب! پرمانند اور پرکاش رام کے مطالعے سے دو مختلف صورتیں سامنے آتی ہیں۔ ایک طرف مذہبی عقیدت اور باطنی تجربہ شعری اظہار کا حصہ بنتے ہیں، دوسری طرف مذہبی قصے مقامی زبان اور عوامی شعری ذوق سے ہم آہنگ ہوتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں کشمیری زبان کو روحانی اور مذہبی موضوعات کے اظہار کے نئے امکانات میسر آتے ہیں۔‘‘
گلزار صاحب کی گفتگو سے میں خاصا متاثر ہوا۔ انہیں پرمانند اور پرکاش رام کے کلام پر اچھی خاصی نظر ہے اور وہ فیس بک پر اپنی ’’میراث‘‘ سیریز کے تحت بھی اس حوالے سے گفتگو کرتے رہتے ہیں۔ ایک طرف وہ دھیمی آواز میں مجھے ان دونوں شعرا کے متعلق آگاہی دے رہے تھے، تو دوسری طرف کول صاحب اپنی گرج دار آواز میں مقالے کے آخری حصے کی طرف بڑھ رہے تھے۔
انہوں نے کہا:
’’کشمیری بھگتی شاعری کی تاریخ دراصل صرف مذہبی عقائد کی شعری ترجمانی کی تاریخ نہیں، بلکہ زبان کے ارتقا، تہذیبی میل جول اور انسانی تجربے کے اظہار کی تاریخ بھی ہے۔ اس لیے شعرا نے مختلف روایات سے اخذ کرتے ہوئے اپنے لیے اظہار کے راستے تلاش کیے اور مقامی زبان کو ایسے موضوعات سے آشنا کیا جن کی معنویت اپنے مذہبی دائرے سے آگے بھی محسوس کی جاسکتی ہے۔ آخر میں کرشن جو رازدان اور ماسٹر زندکول کی بھگتی شاعری کا ذکر کرنا ضروری سمجھتا ہوں۔ ان شعرا کا تذکرہ اس طویل سلسلے کے ایک اور مرحلے کی طرف اشارہ کرتا ہے، جس میں عقیدت، روحانیت اور مقامی شعری روایت مختلف صورتوں میں سامنے آتی رہی۔ ان کے کلام کا تقابلی مطالعہ یہ سمجھنے میں مدد دے سکتا ہے کہ وقت کے ساتھ بھگتی شاعری کے موضوعات، اسالیب اور اظہار کے طریقوں میں کس نوعیت کی تبدیلیاں رونما ہوئیں۔‘‘
ڈاکٹر سوہن لعل کول کا مقالہ سنتے ہوئے میرے ذہن میں یہ بات مسلسل گردش کرتی رہی کہ کشمیری بھگتی شاعری کی اصل قوت اس کی روحانی گہرائی، فلسفیانہ بنیادوں، مقامی زبان اور شعری تاثیر کے باہمی امتزاج میں پوشیدہ ہے۔ لل دید اور نند ریشی جیسے شعرا کی عظمت کو سمجھنے کے لیے ان کے مذہبی رجحانات سے آگے بڑھ کر ان کے فکری اور باطنی تجربات کو بھی پیش نظر رکھنا ضروری ہے۔
گلزار جعفر صاحب نے میری اس الجھن کو مختصر مگر بامعنی انداز میں سمیٹتے ہوئے کہا:
’’میرے نزدیک اس روایت کی معنویت ان تمام پہلوؤں کے امتزاج میں ہے۔ اس کی روحانیت، فکری گہرائی، مقامی زبان اور شعری تاثیر ہی اس کی اصل قوت ہیں۔‘‘
ان کی بات نے میرے ذہن میں جاری بحث کو ایک واضح سمت دی۔ کول صاحب کے مقالے نے مجھے کشمیری بھگتی شاعری کے متعدد گوشوں پر ازسرِنو غور کرنے کا موقع فراہم کیا تھا۔ اس دوران اٹھنے والے سوالات نے یہ احساس بھی دلایا کہ ایک علمی مقالے کی افادیت صرف فراہم کردہ معلومات تک محدود نہیں ہوتی۔ اس کی اہمیت اس میں بھی ہے کہ وہ سامع کے ذہن میں نئے سوالات پیدا کرے اور اسے مزید مطالعے اور تحقیق کی طرف مائل کرے۔ شاید کسی ادبی نشست کی کامیابی کا ایک پیمانہ یہ بھی ہے کہ اس کے اختتام پر سامعین کے پاس صرف سنے ہوئے خیالات نہ ہوں، بلکہ سوچنے اور سمجھنے کے لیے نئے سوالات بھی موجود ہوں۔ (جاری)

Previous Post

Rajnath Singh Releases Land Warfare Doctrine, Calls for 20–30-Year Strategic Vision for Army

محمد سلیم سالک

محمد سلیم سالک

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.