نمازِ ظہر کے بعد پنڈال میں پھر سے چہل پہل شروع ہوگئی۔ وقفے کے دوران خالی ہونے والی کرسیاں آہستہ آہستہ پُر ہونے لگیں اور کچھ ہی دیر میں محفل کی رونق بحال ہوگئی۔ کتابوں کی رسمِ رونمائی اور دیگر ادبی سرگرمیوں کے بعد اب کانفرنس اپنے ایک اہم مرحلے میں داخل ہونے والی تھی۔ یہ وہ موقع تھا جب کشمیری زبان و ادب کے لیے انفرادی اور اجتماعی سطح پر خدمات انجام دینے والوں کی پذیرائی کی جانی تھی۔
مائیک پر شبنم تلگامی کی آواز ابھری تو حاضرین کی توجہ ایک بار پھر ڈائس کی طرف مبذول ہوگئی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اب اعزازات اور انعامات پیش کیے جائیں گے۔ اس کے ساتھ ہی انہوں نے ’’شرفِ کمراز‘‘ کی روایت کا مختصر تعارف پیش کرتے ہوئے کہا:
’’ادبی مرکز کمراز ہر سال اپنی سالانہ کانفرنس کے موقعے پر دو ’شرفِ کمراز‘ اعزازات عطا کرتا ہے۔ ان میں سے ایک کسی ایسی ممتاز ادبی شخصیت کو دیا جاتا ہے جس نے کشمیری زبان و ادب کی ترقی و ترویج میں نمایاں کردار ادا کیا ہو، جب کہ دوسرا کسی فعال ادبی تنظیم کی خدمات کے اعتراف میں پیش کیا جاتا ہے۔ اس طرح یہ اعزاز انفرادی ادبی ریاضت کے ساتھ اجتماعی جدوجہد کی بھی قدرشناسی کرتا ہے۔‘‘
اس کے بعد انہوں نے سال 2026ء کے انفرادی اعزاز کا اعلان کرتے ہوئے کہا:
’’خواتین و حضرات! مجھے یہ اعلان کرتے ہوئے بے حد مسرت ہو رہی ہے کہ اس سال کا ’شرفِ کمراز‘ کشمیری زبان و ادب کے ممتاز ادیب جناب عبدالاحد حاجنی کو عطا کیا جا رہا ہے۔ میں ان سے گزارش کرتا ہوں کہ اسٹیج پر تشریف لائیں۔ ساتھ ہی جناب غلام نبی شاکر سے درخواست ہے کہ وہ موصوف کی سندِ افتخار پڑھ کر سنائیں۔‘‘
غلام نبی شاکر ابھی اسٹیج کی طرف بڑھ ہی رہے تھے کہ میں نے اپنے پہلو میں بیٹھے شوکت شفیع صاحب سے دھیمے لہجے میں پوچھا:
’’شوکت صاحب! اب تک کن کن شخصیات کو ’شرفِ کمراز‘ سے نوازا جا چکا ہے؟‘‘
انہوں نے متانت سے جواب دیا:
’’سالک! میری دانست میں شرف کمراز جموں و کشمیر کے معتبر ادبی اعزازات میں شمار ہوتا ہے۔ پروفیسر رحمان راہی، غلام نبی گوہر، پروفیسر مرغوب بانہالی، مرزا عارف بیگ، پروفیسر محمد زماں آزردہ، پروفیسر رشید نازکی، اسیر کشتواڑی اور شہباز راجوروی جیسی قابلِ ذکر شخصیات اس اعزاز سے سرفراز ہو چکی ہیں۔‘‘
ہماری گفتگو جاری تھی کہ عبدالاحد حاجنی ڈائس کی طرف بڑھتے دکھائی دیے۔ ناسازیٔ صحت کے باعث ان کے لیے چلنا دشوار تھا۔ محمد امین بٹ اور شفیع شاکر نے فوراً آگے بڑھ کر انہیں سہارا دیا اور ایک مخصوص کرسی پر بٹھایا۔ یہ منظر اس بات کی یاد دہانی بھی تھا کہ ادبی زندگی کی طویل ریاضت انسان کو اعزازات سے تو نوازتی ہے، مگر عمر اور صحت کی اپنی مجبوریاں ہوتی ہیں۔
ادھر غلام نبی شاکر مائیک پر پہنچ چکے تھے۔ انہوں نے اپنے مخصوص انداز میں سندِ افتخار کی قرأت شروع کی:
’’یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہے کہ حاجن کشمیر کی ادبی و ثقافتی تاریخ میں ایک نمایاں مقام رکھتا ہے۔ یہ مردم خیز خطہ صدیوں سے علم و ادب، ثقافت و تمدن اور زندگی کے مختلف شعبوں سے وابستہ ممتاز شخصیات کی جنم بھومی رہا ہے۔ اسی سرزمین نے ایسے اہلِ علم و ادب کو جنم دیا جنہوں نے اپنی فکری بصیرت، تخلیقی صلاحیتوں اور علمی کاوشوں سے کشمیری زبان و ادب کے دامن کو مالامال کیا۔ انہی نامور شخصیات میں ایک قابلِ ذکر نام جناب عبدالاحد حاجنی کا ہے، جن کی علمی و ادبی خدمات کشمیری زبان و ادب کا اہم سرمایہ ہیں۔
جناب عبدالاحد حاجنی 1948ء میں حاجن میں پیدا ہوئے۔ انہیں پروفیسر محی الدین حاجنی اور جناب محمد احسن احسن جیسی علمی و ادبی شخصیات کی صحبت اور تربیت سے فیض یاب ہونے کا موقع ملا۔ ان بزرگوں کی علمی رہنمائی نے ان کی ادبی شخصیت کی تشکیل میں اہم کردار ادا کیا اور ان کے اندر کشمیری زبان و ادب سے گہری وابستگی اور اس کی خدمت کا جذبہ پیدا کیا۔
ان کی پہلی کتاب ’کاشرس ادبس پیٹھ اکھ نظر‘ 1972ء میں منظرِ عام پر آئی۔ اس کتاب کو اس کے علمی و ادبی معیار کے پیشِ نظر کشمیر یونیورسٹی کے نصاب میں شامل کیا گیا، جو ان کی علمی بصیرت اور کشمیری ادب کے سنجیدہ مطالعے کا اہم اعتراف تھا۔
جناب عبدالاحد حاجنی کی اب تک تقریباً بیس کتابیں شائع ہوچکی ہیں۔ ان کی تصانیف میں ’یتہ نور سری ارض و سما‘، ’اکھ یاد اکھ قیامت‘، ’رائے ترائے‘، ’ٹیوٹھ پزر‘، ’ہاوس‘ اور ’مولل میراث‘ خصوصی اہمیت رکھتی ہیں۔ ان کی تحریروں میں کشمیری زبان و ادب کے مختلف پہلوؤں، تہذیبی ورثے اور فکری روایتوں سے ان کی گہری وابستگی نمایاں ہے۔
ان کی ادبی خدمات کا ایک اہم پہلو اپنے بزرگوں اور پیش رو اہلِ قلم کے علمی و ادبی سرمائے کو محفوظ کرنا بھی ہے۔ اسی جذبے کے تحت انہوں نے جناب محمد احسن احسن کے شعری و نثری سرمایہ کو کتابی شکل میں شائع کیا۔ یہ کاوش کشمیری زبان کے ادبی ورثے کو محفوظ کرکے آئندہ نسلوں تک منتقل کرنے کی قابلِ قدر کوشش ہے۔
جناب عبدالاحد حاجنی نے کشمیری تاریخ و تحقیق کے میدان میں بھی اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا ہے۔ ساہتیہ اکادمی کے لیے کشمیر کے نامور مورخ حسن کھوہامی پر ان کا تحریر کردہ مونوگراف ان کی تحقیقی دلچسپی اور تاریخی شعور کا مظہر ہے۔ ان کی علمی و ادبی خدمات کے اعتراف میں انہیں دو مرتبہ ساہتیہ اکادمی ایوارڈ سے نوازا گیا۔ اس کے علاوہ خلعتِ محی الدین حاجنی اور وہاب میموریل ایوارڈ جیسے اعزازات بھی ان کے حصے میں آئے ہیں۔
آج ادبی مرکز کمراز کے لیے یہ باعثِ مسرت و افتخار ہے کہ وہ کشمیری زبان و ادب کے تئیں جناب عبدالاحد حاجنی کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں انہیں سال 2026ء کا ’شرفِ کمراز‘ عطا کر رہا ہے۔‘‘
سندِ افتخار کی قرأت مکمل ہوئی تو ایوانِ صدارت میں تشریف فرما پروفیسر محمد زماں آزردہ، جناب حسرت گڈھا، پروفیسر نسیم شفائی، ڈاکٹر رفیق مسعودی اور جناب محمد امین بٹ سمیت ادبی مرکز کمراز کے دیگر اراکین نے عبدالاحد حاجنی کو شال اوڑھائی، مومنٹو اور سپاس نامہ پیش کیا اور نقد انعام پر مشتمل لفافہ ان کی خدمت میں پیش کیا۔
تالیوں کی گونج میں مبارک باد دینے والوں کا سلسلہ شروع ہوا۔ مگر اس تقریب کا سب سے پُراثر لمحہ ابھی باقی تھا۔ شبنم تلگامی نے حاجنی صاحب کو اپنے تاثرات پیش کرنے کی دعوت دی۔ وہ ابتدا میں گفتگو کے لیے آمادہ نہ تھے، تاہم اصرار پر مائیک تک آئے۔ اس موقعے پر جذبات نے جیسے الفاظ کا راستہ روک لیا تھا۔ انہوں نے بڑی مشکل سے چند کلمات ادا کیے اور نم دیدہ آنکھوں کے ساتھ ادبی مرکز کمراز کا شکریہ ادا کیا۔
ان کی آواز کی لرزش اور آنکھوں میں تیرتے آنسوؤں نے حاضرین کو بھی متاثر کیا۔ کبھی کبھی طویل تقریروں کے بجائے چند خاموش آنسو دل کی بات زیادہ مؤثر انداز میں کہہ جاتے ہیں۔ حاجنی صاحب کی کیفیت میں بھی ایک ایسی ہی معنویت تھی۔ یہ محض کسی اعزاز کے حصول کی خوشی نہیں تھی، بلکہ اپنی زبان، اپنے لوگوں اور اپنی عمر بھر کی ادبی ریاضت کی پذیرائی کا ایک جذباتی لمحہ تھا۔ ان کی خاموشی میں بھی برسوں کی محنت اور وابستگی کی پوری داستان سمٹی ہوئی محسوس ہوتی تھی۔
اس کے بعد شبنم تلگامی نے اجتماعی ادبی خدمات کے اعتراف کا اعلان کیا۔ اس بار ’’شرفِ کمراز‘‘ کے لیے محبوب العالم ادبی سوسائٹی، راجوار کا نام سامنے آیا۔ اعلان سنتے ہی تنظیم کے نمائندوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اس کے صدر جناب حسن عجمی کو ڈائس پر آنے کی دعوت دی گئی، جب کہ تنظیم کی سندِ افتخار پڑھنے کے لیے جناب ظہور ہاءیگامی کو مائیک پر مدعو کیا گیا۔
انہوں نے سندِ افتخار کی قرأت شروع کی:
’’محبوب العالم ادبی سوسائٹی، راجوار کا قیام 2003ء میں عمل میں آیا۔ یہ ہندوارہ، دچھل ڈار اور راجوار کے وسیع علاقے میں کشمیری زبان و ادب کے فروغ کے لیے سرگرم ایک رجسٹرڈ ادبی تنظیم ہے۔ اپنے قیام سے ہی اس نے ادبی سرگرمیوں کو پروان چڑھانے، مقامی اہلِ قلم کو مشترکہ پلیٹ فارم فراہم کرنے اور علاقے کی ادبی روایت کو مستحکم بنانے میں اہم کردار ادا کیا ہے۔ 2013ء میں ادبی مرکز کمراز کے ساتھ وابستگی کے بعد اس کی سرگرمیوں کو مزید وسعت حاصل ہوئی۔
محبوب العالم ادبی سوسائٹی کے بانی کارکن اور موجودہ صدر جناب حسن عجمی ہیں، جب کہ جناب احمد پاشا اس تنظیم کے سرپرست کی حیثیت سے خدمات انجام دے رہے ہیں۔ تنظیم کے دیگر سرگرم اراکین اور عہدے داروں میں جناب رفیق پنجابی، جناب شیخ شمیم، جناب صدق راجپوری، جناب معصوم مقبول، جناب فیاض فغان، جناب سقراط گل، محترمہ حسینہ مخلص، جناب صفدر یوسف، جناب غنی خضر اور جناب الطاف زرگر کے نام قابلِ ذکر ہیں۔ ان سب نے تنظیم کی ادبی و تنظیمی سرگرمیوں کو آگے بڑھانے میں اپنا حصہ ادا کیا ہے۔
اس تنظیم کی نمایاں خصوصیت یہ ہے کہ اس نے ادبی مرکز کمراز کے اشتراک سے متعدد اہم ادبی تقریبات منعقد کیں اور علاقے میں ادبی ذوق و شعور کو فروغ دینے کے لیے مسلسل جدوجہد کی۔ بالخصوص گمنام اور غیر معروف شعرا و ادیبوں کو منظرِ عام پر لانے میں اس کا کردار لائقِ تحسین ہے۔ اس طرح محبوب العالم ادبی سوسائٹی نے نہ صرف مقامی ادبی سرمائے کی شناخت اور پذیرائی میں مدد دی، بلکہ کشمیری زبان و ادب کے فروغ کے لیے ایک مؤثر پلیٹ فارم بھی فراہم کیا۔
تنظیم کا ترجمان ’محبوبیہ‘ بھی اس کی ادبی سرگرمیوں کا اہم حصہ ہے۔ اس کے متعدد شمارے شائع ہوچکے ہیں، جو تنظیم کی تخلیقی کاوشوں اور زبان و ادب سے وابستگی کی عکاسی کرتے ہیں۔ کسی ادبی تنظیم کا تیرہ سال تک متحرک رہنا اور اپنی سرگرمیوں کو تسلسل کے ساتھ جاری رکھنا یقیناً قابلِ قدر ہے۔
محبوب العالم ادبی سوسائٹی، راجوار کی ان مسلسل، مخلصانہ اور انتھک ادبی خدمات کے اعتراف میں ادبی مرکز کمراز فخر و مسرت کے ساتھ اسے سال 2026ء کا ’شرفِ کمراز‘ عطا کرتا ہے۔ یہ اعزاز تنظیم کے بانی کارکنوں، عہدے داروں اور اراکین کی مشترکہ ادبی جدوجہد کا اعتراف ہے، اور اس امید کا اظہار بھی کہ یہ ادارہ آئندہ کشمیری زبان و ادب کی ترقی و ترویج اور غیر معروف اہلِ قلم کی حوصلہ افزائی کے لیے اپنی سرگرمیاں جاری رکھے گا۔‘‘
سندِ افتخار کی قرأت مکمل ہوئی تو شبنم تلگامی نے ایوانِ صدارت میں موجود شخصیات سے گزارش کی کہ وہ محبوب العالم ادبی سوسائٹی، راجوار کے صدر جناب حسن عجمی کو شال اوڑھائیں اور مومنٹو و سپاس نامہ پیش کریں۔
رسمِ اعزاز مکمل ہوئی تو تنظیم کے اراکین یادگاری تصویر بنوانے کے لیے ڈائس پر جمع ہوگئے۔ دیکھتے ہی دیکھتے وہاں خاصا ہجوم ہوگیا۔ ہر کوئی اس تاریخی لمحے کو اپنی یادوں کا حصہ بنانا چاہتا تھا۔ اس منظر میں ایک ایسی اپنائیت تھی جو کسی فرد کی کامیابی سے آگے بڑھ کر اجتماعی جدوجہد کی خوشی میں ڈھل جاتی ہے۔ یوں محسوس ہو رہا تھا جیسے یہ اعزاز صرف صدرِ تنظیم کو نہیں، بلکہ ان تمام لوگوں کو ملا ہو جنہوں نے برسوں تک اس ادبی سفر میں اپنا حصہ ڈالا تھا۔
ابھی یہ منظر نگاہوں میں تھا کہ شبنم تلگامی نے اگلے اعزاز کا اعلان کردیا۔ اس بار ادبی مرکز کمراز کی جانب سے سال 2026ء کا ’’بیسٹ بک ایوارڈ‘‘ حاصل کرنے کے لیے کشمیری زبان کے معروف ادیب و شاعر جناب شہباز ہاکباری کو اسٹیج پر مدعو کیا گیا۔ شہباز ہاکباری کو ’’زیرو مین آف انڈیا‘‘ کے نام سے بھی یاد کیا جاتا ہے۔ ان کی تازہ تصنیف ’دون صواد قلمی‘ کو سال کی بہترین کتاب قرار دیا گیا تھا۔
شہباز ہاکباری کے اسٹیج پر آتے ہی پنڈال تالیوں سے گونج اٹھا۔ حاضرین کے جوش و خروش اور ان کے چاہنے والوں کی محبت نے اس لمحے کو مزید یادگار بنا دیا۔ بعض احباب نے آگے بڑھ کر انہیں پھولوں کے ہار بھی پہنائے۔ ادبی مرکز کمراز کی جانب سے انہیں شال، مومنٹو اور نقد انعام پیش کیا گیا۔
اس موقعے پر محسوس ہوا کہ کسی کتاب کا اعزاز محض اس کے مصنف کی کامیابی نہیں ہوتا، بلکہ اس تحقیقی و تنقیدی عمل کی قدرشناسی بھی ہے جو زبان و ادب کے ذخیرے میں ایک نیا اضافہ کرتا ہے۔ ’دون صواد قلمی‘ کے انتخاب نے اس نشست میں کتاب اور اس کے خالق، دونوں کی ادبی اہمیت کو نمایاں کیا۔
یوں اس نشست میں تین مختلف مگر باہم مربوط صورتوں میں ادبی خدمات کی پذیرائی ہوئی۔ عبدالاحد حاجنی کی صورت میں ایک صاحبِ علم و قلم کی عمر بھر کی ریاضت کو خراجِ تحسین پیش کیا گیا، محبوب العالم ادبی سوسائٹی کے ذریعے اجتماعی ادبی جدوجہد کو تسلیم کیا گیا، جب کہ شہباز ہاکباری کی کتاب کو بہترین تصنیف کا اعزاز دے کر تخلیقی ادب کی حوصلہ افزائی کی گئی۔
یہ تینوں اعزازات اپنے اندر ایک مشترکہ پیغام رکھتے تھے۔ زبان و ادب کی ترقی کسی ایک فرد یا ادارے کی کوششوں سے ممکن نہیں ہوتی۔ اس کے لیے تخلیق کار کی انفرادی محنت، ادبی تنظیموں کی مسلسل سرگرمی اور معیاری کتابوں کی اشاعت، تینوں ناگزیر ہیں۔ ادبی مرکز کمراز کی اس تقریب میں یہ پہلو ایک دوسرے سے جڑے ہوئے دکھائی دیے۔ ایک طرف ماضی کی علمی و ادبی روایت کا اعتراف تھا، دوسری طرف اجتماعی جدوجہد کی پذیرائی، اور تیسری طرف تخلیقی ادب کے مستقبل کے لیے حوصلہ افزائی۔
کانفرنس کی یہ نشست اب اپنے اگلے مرحلے کی طرف بڑھ رہی تھی، لیکن حاجنی صاحب کی نم دیدہ آنکھیں، راجوار کے ادبی کارکنوں کی اجتماعی خوشی اور شہباز ہاکباری کی کتاب کی پذیرائی جیسے مناظر اس روز کی یادوں میں دیر تک محفوظ رہنے والے تھے۔ (جاری)
