شریمد بھگود گیتا سے اس اشلوک اور بھارتی صحیفوں اور روایات میں موجود تہذیبی حکمت سے جو
نچوڑ لیا گیا ہے، وه سومناتھا مندر کی روح میں واضح طور پر نظر آتا ہے، جو کاٹھیا واڑ (موجوده
ریاست گجرات کے جنوب مغربی علاقے میں تاریخی خطے) کے جنوبی کنارے پر واقع سومناتھا پٹن
میں واقع ہے۔ باره جیوترلنگوں میں اول، اس مندر کی دیواروں نے وحشی دراندازوں کے ہاتھوں
جنگ کی صعوبتیں برداشت کیں، لیکن اس کے باوجود یہ دوباره کھڑی ہوئیں اور یہاں پوجا ارچنا
کے ڈھول اور گھنٹیاں پھر سے بجنے لگیں۔
2
بھارتی تاریخ کے ایک ہزار سے زائد برسوں میں، سناتن دھرم – جسے ایک متنوع، اور مذہبی طور
طریقوں، فلسفوں، رسومات اور اداروں کا ایک لامرکزی مرکب سمجھا جاتا ہے- نے سیاسی فتح،
تبدیلی نظام، اور اقتدار کے بدلتے ہوئے ڈھانچے سے بارہا پیدا ہونے والی رکاوٹوں کا سامنا کیا۔ ان
رکاوٹوں میں مندروں، مٹھوں، اور تعلیمی مراکز کی تباہی یا دوباره تعمیر، نیز سرپرستی کے نیٹ
ورکس کی نقل مکانی شامل تھی جنہوں نے مذہبی اداروں کو برقرار رکھا تھا۔ پھر بھی، اس انتشار
کے باوجود، وسیع تر مذہبی روایت نے وقت کے ساتھ ساتھ اپنے آپ کو برقرار رکھا، وقت کے حساب
سے ڈھال لیا اور پھر ازسر نو ابھر کر آئی۔ اس استقامت کی تاریخی اہمیت مسلسل غلبہ کے دعووں
میں نہیں بلکہ اداره جاتی نقصان اور سیاسی کمزوریوں سے بچنے کے لیے مذہبی زندگی کی
صلاحیت میں ہے۔
ابتدائی قرون وسطی کے دور سے، مندر نہ صرف عبادت گاہوں کے طور پر بلکہ اقتصادی، ثقافتی
اور سیاسی مراکز کے طور پر بھی کام کرتے تھے۔ حکمران اشرافیہ کے ساتھ ان کی قریبی وابستگی
نے انہیں فوجی تنازعات کے ادوار میں کمزور بنا دیا۔ محمود غزنوی کا سومناتھ مندر پر حملہ سب
سے زیاده زیر بحث مثالوں میں سے ایک ہے۔ فارسی تاریخ نے اس واقعے کو فتح کے طور پر منایا،
جبکہ بعد میں بھارتی روایات نے اسے نقصان، مزاحمت اور بالآخر احیاء کے طور پر اجاگر کیا۔ جو
بات تاریخی طور پر قابل تصدیق ہے وه یہ ہے کہ مندر مذہبی زندگی سے غائب نہیں ہوا تھا۔ اسے
چالُکیوں جیسے علاقائی حکمرانوں کے تحت دوباره تعمیر کیا گیا اور اس نے عقیدت کو اپنی طرف
متوجہ کرنا جاری رکھا۔ اسی طرح کی مثالیں کہیں اور بھی نظر آتی ہیں۔
حوالہ: کاٹھیا واڑ میں سومناتھ اور قرون وسطی کے دیگر مندر۔1931۔ آرکیولوجیکل سروے آف انڈیا،
والیوم XLV، امپیریل سیریز۔ کلکتہ: حکومت ہند
3
سومناتھ کی تاریخ کو کبھی بھی کسی ایک واقعہ تک محدود نہیں کیا جانا چاہیے۔ قدیم زمانے سے
پربھاس پٹن ایک مقدس جغرافیہ رہا ہے۔ پٹن، جسے مختلف حوالوں میں مختلف ناموں سے جانا جاتا
ہے جن میں پربھاس پٹن، شیو پٹن اور پربھاس-تیرتھ شامل ہیں، ایک قدیم شہر ہے جس کے مشرق میں
تین خوبصورت دریا ایک تروینی میں مل جاتے ہیں – مقدس مانا جاتا ہے جہاں بھگوان کرشن کے
جسد خاکی کی آخری رسومات اداکی گئی تھیں۔ پڑوس میں ویراگیہ کشیتر اور گوپی تولو (جہاں سے
لوگ گوپی چندن حاصل کرتے ہیں) واقع ہے۔ اس خطہ کی مقدس زیارت اس مقدس سرزمین کی
زیارت کے بغیر نامکمل سمجھی جاتی ہے۔ اس خطے میں پائے جانے والے کھنڈرات کی تفصیلات
کاٹھیا واڑ اور کچھ کے آثار قدیمہ کی رپورٹ، اور گجرات کے ڈبھوئی شہر کے آثار قدیمہ میں
موجود ہیں۔
سومناتھ شیو اور وشنو روایات کے ایک نادر سنگم کی نمائندگی کرتا ہے، جو ہمیں بار بار یاد دلاتا
ہے کہ بھارتی ورثہ ہمیشہ سے کثیر اور جامع رہا ہے۔
آزاد بھارت میں سومناتھ کی تاریخ کا جدید باب کارتک سد ،1 دیوالی – 12 نومبر 1947 کو شروع
ہوا، تقسیم کے بدقسمت واقعے کے چند مہینوں کے درمیان ہمارے پہلے نائب وزیر اعظم اور وزیر
داخلہ نے سومناتھ کی اس مقدس سرزمین کا دوره کیا۔ سینئر رہنماؤں اور عظیم شخصیات کے ساتھ،
سردار پٹیل نے اس تاریخی مندر کی تعمیر نو کے لیے آزاد بھارت کا فیصلہ کن عہد لیا۔ بعد ازاں، جو
نتیجہ نکلا وه اداره جاتی ڈھانچہ تھا جس نے قومی شعور کو جنم دیا۔ سومناتھ کو ایک ثقافتی اور
فکری مرکز کے طور پر دوباره تعمیر کیا گیا، جس کا تصور ایک عبادت گاه کی تعمیر نو سے زیاده
تھا۔
11مئی 1951 کو صبح سویرے بھارت کے معزز صدر جناب راجندر پرساد کی موجودگی میں
تقدیس کی تقریب نے ملک کی مشترکہ ثقافتی یاد کی تصدیق کی۔
اب جبکہ بھارت 2047 تک وکست بھارت بننے کی جانب آگے بڑھ رہا ہے، یہ تہذیبی اقدار نئے
سرے سے مطابقت اختیار کر رہی ہیں۔ تکنالوجی کی سرعت اور ارضیاتی سیاسی غیر یقینی
صورتحال کے دور میں، ہندوستان کا انسانیت کے لیے یہ تحفہ اس اظہار میں مضمر ہے کہ ترقی کے
لیے ہمدردی کے جذبے کو چھوڑنے کی ضرورت نہیں ہے، اور طاقت کے لیے تحمل کو ترک کرنے
کی ضرورت نہیں ہے۔ سومناتھ کی قوت برداشت ہمیں یاد دہانی کراتی ہے کہ حقیقی قیادت — قومی
اور عالمی — نہ صرف طاقت سے، بلکہ حکمت، یادداشت، اور مشترکہ انسانی وقار کے لیے ایک
غیر متزلزل عزم کے ذریعے برقرار رہتی ہے۔
سومناتھ سوابھیمان پرو 2026-27 کا تصور سال بھر جاری رہنے والی قومی تقریب کے طور پر کیا
گیا ہے جو گجرات کے پربھاس پٹن میں واقع شری سومناتھ جیوترلنگ کے ذریعہ علامتی طور پر
دکھائی گئی تہذیبی وراثت، روحانی استقامت اور ثقافتی تسلسل پر مبنی ہے۔سومناتھ بھارت کی تہذیبی
تاریخ میں ایک منفرد مقام رکھتا ہے۔ صدیوں میں بار بار تباہی کا سامنا کرنے کے باوجود، اس مندر
کی تعمیر نو عوام کے اجتماعی عزم کے ذریعہ بار بار کی گئی، اور یہ ثقافتی تسلسل، روحانی
استقامت، اور قومی خود اعتمادی کے زنده ثبوت کے طور پر ابھرا۔
سومناتھ سوابھیمان پرو (جو 8سے 11 جنوری 2026 تک منایا گیا) بھارت کے تہذیبی سفر میں دو
غیر معملی سنگ ہائے میل کو اجاگر کرتا ہے1026: میں سومناتھ مندر پر ہوئے پہلے درج شده
حملے کے ایک ہزار برس، اور آزادی کے بعد 1951 میں ازسر نو تعمیر شده مندر کے ازسر نو
افتتاح کے 75 برس۔
4
لہٰذا، سومناتھ کو قوت برداشت، اجتماعی یادداشت، اور ثقافتی عزت نفس کی متحد قومی علامت کے
طور پر پیش کیا گیا ہے۔ یادگاری تقریب 11 مئی 2026 کو ایک بڑے قومی پروگرام میں اختتام پذیر
ہوگی، جس کی تائید یاترا، ثقافتی پروڈکشنز، مکالمے، تعلیمی اقدامات، اور ملک بھر میں جیوترلنگوں،
ریاستوں، مرکز کے زیر انتظام علاقوں، اضلاع اور شیوالیوں میں مربوط پروگراموں کے ذریعے کی
جائے گی۔
عزت مآب وزیر اعظم جناب نریندر مودی، جو شری سومناتھ ٹرسٹ کے چیئرپرسن کے طور پر بھی
خدمات انجام دے رہے ہیں، کی قیادت میں سومناتھ ایک مکمل احیاء کے نئے مرحلے میں داخل ہو
چکا ہے۔ حکمرانی سے متعلق اصلاحات، بنیادی ڈھانچے میں اضافہ، ورثے کے تحفظ اور ثقافتی
اقدامات نے ایک زنده روحانی مرکز کے طور پر مندر کے کردار کو مضبوط کیا ہے۔ پائیداری سے
متعلق اقدامات اور خواتین کی قیادت میں خدمات سے متعلق اقدامات مزید اس بات کی عکاسی کرتے
ہیں کہ کس طرح تہذیبی اقدار کا اظہار عصری ذمہ داری اور شمولیت کے ذریعے کیا جا رہا ہے۔
سومناتھ سوابھیمان پرو ثقافتی، روحانی اور تعلیمی سرگرمیوں کے ذریعے جدید معاشرے اور اس کی
ثقافت کے عمیق جذبے کے درمیان تعلق پیدا کرتا ہے۔ یہ ہر نسل کے لیے ایک یاد دہانی ہے کہ
سومناتھ مندر کی اصل خصوصیت اس کا طبعی ڈھانچہ نہیں ہے۔ اس کی اصل روح ان اقدار اور ذمہ
داریوں میں مضمر ہے جو شعوری طور پر ایک نسل سے دوسری نسل کو منتقل ہوتی ہیں۔ اس جذبے
میں، سومناتھ آج نہ صرف ایک بحال شده عبادت گاه کے طور پر ، بلکہ ایک زنده تیرتھ کے طور پر
کھڑا ہے۔
اب جبکہ بھارت اکیسویں صدی میں اپنے سفر کو جاری رکھے ہوئے ہے، ایسے میں سومناتھ کا جذبہ
ایک رہنما اصول پیش کرتا ہے: وه یہ کہ تہذیب تبھی مضبوط ہوتی ہے جب وه اپنی جڑوں سے
مربوط ہو، اس کی معنویت تبھی برقرار رہتی ہے جب یہ وقت کے حساب سے ڈھل سکتی ہو، اور یہ
تبھی متحد رہتی ہے جب یہ مبنی بر شمولیت ہو۔
سومناتھ کی وراثت ہمیں بامقصد تعمیر کرنے، توازن کے ساتھ کام کرنے، اور ہم کون ہیں اس کی
گہری آگاہی کے ساتھ آگے بڑھنے کے لیے حوصلہ دیتی رہے ۔
جے سومناتھ!
وندے ماترم!
*****
(The author is the Union Minister for Culture and Tourism, Government of India.)(مصنف حکومت ہند میں ثقافت و سیاحت کے مرکزی وزیر ہیں)