گھڑیال نیوز سروس
سرینگر۔ نئی دھلی کے مرکزی صدر مقام درگاہ نظام الدین علاقے میں قائیم انٹر نیشنل سطح کی تبلیغی جماعت کے بانی٬ امیر جناب حضرت مولانا صاد الدین صاحب دامت برکاتہ ہو٬کی نگرانی میں جاری گھر گھر دعوتی دینی واصتلاحی پروگرام کے تحت وادی کے تاریخی قصبہ چرارشریف میں گزشتہ کہی دنوں سے جاری٬ بین ریاستی دینی اجتماع میں جموں و کشمیر اور لداخ خطے سے تعلق رکھنے والے ھزاروں مسلمانوں نے شرکت کی۔ چرارشریف میں جاری اجتماع کا باقاعدہ اہتمام دینی فلاحی و سماجی تنظیم جموں وکشمیر تبلیغی جماعت نے کیا ہے۔ تقریب میں شرکت کرنے کے لئے کشمیر٬جموں٬ اور لداخ خطے پر مبنی تینوں صوبوں میں موجود 21٬ مختلف اضلاع سے
تعلق رکھنے والئے مسلمان طے شدہ باقاعدہ پروگرام میں حاضر رھنے کے لئے پہلے ھی قصبے میں داخل ہوچکے تھے۔
ن پہلے ھی ہمارے نمایندے نے بتایا کہ ایک محتاط اندازے کے مطابق ابھی تک 63 ھزار سے زاید مسلمانوں نے مکمل نظم وضبط٬اور خاص اہتمام کے ساتھ کالنی چرارشریف میں واقع وسعی العرض سپورٹس سٹیڈیم کے بڑے میدان میں کھلے اسمان کے نیچے چارروز تک اپنے دن اور راتیں عبادات و نمازو ں میں مشغول رھکر ادب واحترام سےگزارے۔ واضح رھیے کہ ملک اور یوٹی سے تعلق رکھنے والئے درجنوں الگ الگ نامور اسلامی سکالر٬مبلغ اسلام٬ اور تبلیغی جماعت سے وابستہ درجنوں بڑے عالموں نے تقریب سے خطاب کیا۔ جس میں جماعت کے امیر کاروان حضرت مولانا صاد الدین صاحب دامت برکاتہ ھو٬
۔۔۔کے فرزند اکبر حضرت مولانا محمد یوسف صاحب اور فرزند اصغر حضرت مولانا سعید صاحب٬کے علاوہ کہی دوسرے بڑے علماء وفضلحا٬ بھی بدستور موجود تھے۔ اس دوران اج٬ نماز فجر کے فورا بعد مولانا محمد یوسف صاحب نے نندہ ریشی یعنی بانی ریشیت حضرت علمدار ملک کشمیر رح اور کلام مبارک کے موضوع پر باریک بینی سے روشنی ڈالی۔ بہترین اور نہایتچمعدلل اپنے منفرد انداز سے تبلیغ کرتے ہویئے ہزاروں مسلمانوں تک نندہ ریشی کے اسلامی مشن٬ توحید ورسالت کے متعلق انکی کامیاب کوشش
کے متعلق جانکاریچدی۔ موصوف عالم نے شیخ العالم رح کی بنیادی یا اصل مسیج عام لوگوں تک پہنچانے پر سخت زور دیا۔ موصوف نے آسان اردو زبان میں کلام شیخ العالم کا ترجمہ سنایا اور برصغیر کے ممتاز ولی کامل کے تاریخی خدمات پر روشنی ڈالی۔ واضح رھیے کہ جدید سائینسی دور میں دستیاب٬ کیومنیکیشن٬ پرنٹ و الیکٹرانک میڈیا٬کی بے ھنگم اچھل کھود بے ضرورت فوٹو گرافی اور اسکے مضر اثرات سے خبردار رھنے کے لئے ان حرکات کو شرعی طور حرام قرار دیتے ہوئے کسی بھی قسم کی فوٹو گرافی یا فلم بندی پر مکمل سختی کے ساتھ پابندی لگا دی گئی تھی۔ اس طرح کے مکمل رجحان سے تبلیغی جماعت نے واقعی طور ثابت کرکے دکھایا کہ بغیر عکس بندی یا٬سوشل میڈیا٬ چرارشریف میں منعقد خاص اور بڑے ایک دینی اجتماع کو تاریخی ریکارڈ قایم کرنے میں مکمل کامیابی نصیب ہوئی برعکس یہاں دوسرے اجتماعوں کے دوران حد سے زیادہ٬ سوشل میڈیا اور ایڈوانس ٹیکنالوجی کا سہارہ لیا جاتا ھے۔ ہمارے نمایندے نے جائے وقوع کا کہیں بار مشاہدہ کیا تو بقول اسکے وہاں یعنی چرارشریف کے اس اجتماع میں واقعی دین اسلام کی بارش ھورہی تھی ہزاروں لوگ شامیانے میں اپنے اپنے اضلاع کی نشست پر پراطمینان ٬ نماز پنجگانہ٬عبادات٬ اور دوسرے ذکر واگزار میں شب روز محو نظر آتے تھے۔ بستی میں پہلی بار اس اجتماع کے سبب عجیب قسم کی کیفیت نقل وحرکات٬ اور بڑی تعداد میں چل قدمی کرتئ ہوئی سفید کپڑوں میں ملبوس مسلمان نظر آتے تھے۔ منگلوار کی صبح نو بجے تک جاری رھنے والئے اجتماع کی کامیاب کوشش پر متعدد سماجی دینی اور فلاحی اداروں نے منتظمین کا شکریہ ادا کیا

