سری نگر، 3 ستمبر: فوڈ اینڈ ڈرگز ایڈمنسٹریشن (FDA) جموں و کشمیر نے پورے مرکز کے زیر انتظام علاقے میں اپنی کارروائیوں میں تیزی لاتے ہوئے گوشت اور گوشت سے بنی مصنوعات پر مقررہ لیبلنگ کے تقاضوں کی پابندی پر خصوصی توجہ مرکوز کی ہے۔
ڈپٹی کمشنر فوڈ سیفٹی، کشمیر کی سربراہی میں ایک ٹیم نے مختلف کاروباری اداروں کا معائنہ کیا۔ معائنے کے دوران ہسپتال کینٹین، کپواڑہ میں فوڈ سیفٹی قوانین کی مختلف دفعات کی خلاف ورزی پائی گئی۔ کینٹین میں صارفین کو پیش کیے جانے والے گوشت کی نوعیت اور قسم واضح طور پر درج نہیں کی گئی تھی۔ اس سلسلے میں متعلقہ فوڈ بزنس آپریٹر (FBO) کو شو کاز نوٹس جاری کیا گیا، جبکہ معاملہ ایڈجوڈیکیٹنگ آفیسر (ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر)، کپواڑہ کے سامنے پیش کر دیا گیا ہے۔
اسی دوران اشفاق احمد شیخ، میسرز پاک فوڈز، ریگی پورہ، کپواڑہ کے احاطے کا بھی معائنہ کیا گیا، جہاں مقررہ لیبلنگ کے تقاضوں کی خلاف ورزیاں پائی گئیں۔ متعلقہ فوڈ بزنس آپریٹر کو نوٹس جاری کیا گیا، جبکہ فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ کی دفعات 52 اور 53 کے تحت قانون کے مطابق مجاز عدالت کے سامنے شکایت درج کی جائے گی۔
چونکہ مذکورہ مصنوعات میسرز پاک فوڈز، وحدت پورہ، بڈگام میں تیار کی گئی تھیں، اس لیے متعلقہ فوڈ سیفٹی حکام کی جانب سے مینوفیکچرنگ یونٹ کا بھی بعد میں معائنہ کیا گیا۔
مصنوعات کے لیبلز کی جانچ کے دوران “Minced Kabab” کو غلط برانڈنگ اور گمراہ کن معلومات پر مبنی پایا گیا، جو فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز (لیبلنگ اینڈ ڈسپلے) ریگولیشنز، 2020 کی خلاف ورزی ہے۔
اس کے نتیجے میں فوڈ سیفٹی اینڈ اسٹینڈرڈز ایکٹ، 2006 کی متعلقہ دفعات کے تحت میسرز پاک فوڈز، وحدت پورہ، بڈگام کے مالک امجد علی بھٹ کے خلاف دفعہ 52 اور 53 کے تحت ایڈجوڈیکیٹنگ آفیسر، بڈگام کے سامنے شکایت درج کر دی گئی ہے۔
دفعہ 52 کے تحت خوراک کی غلط برانڈنگ پر 3 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے، جبکہ دفعہ 53، جو گمراہ کن اشتہارات سے متعلق ہے، کے تحت 10 لاکھ روپے تک جرمانہ عائد کیا جا سکتا ہے۔
فوڈ اینڈ ڈرگز ایڈمنسٹریشن، جموں و کشمیر نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ غلط برانڈنگ، گمراہ کن لیبلنگ، غذائی اشیاء کے بارے میں غلط بیانی اور مقررہ فوڈ سیفٹی تقاضوں کی خلاف ورزیوں سے قانون کے مطابق سختی سے نمٹا جائے گا۔
فیلڈ افسران کو ہدایت دی گئی ہے کہ وہ خلاف ورزیوں پر کڑی نظر رکھیں اور فوری طور پر قانونی و ضابطہ جاتی کارروائی یقینی بنائیں، تاکہ صارفین کی صحت کا تحفظ اور پورے جموں و کشمیر میں مقررہ فوڈ سیفٹی معیارات کی پابندی کو یقینی بنایا جا سکے

