• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Thursday, October 1, 2026
JKNS
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
JKNS | Jammu Kashmir News Service
No Result
View All Result
Home Article

کشمیری دستکاری ، قدیم تہذیب کی مراث

تحریر:ارشد رسول by تحریر:ارشد رسول
October 1, 2026
in Article
A A
FacebookTwitterWhatsapp

قارئین ، کسی خطے کی پہچان صرف اس کے پہاڑوں، جھیلوں، باغات اور تاریخی مقامات سے نہیں ہوتی بلکہ وہاں کے لوگوں کے ہاتھوں میں صدیوں سے محفوظ فنون بھی اس شناخت کا ایک اہم حصہ ہوتے ہیں۔ کشمیر میں دستکاری کی روایت بھی ایسی ہی ایک زندہ میراث ہے۔ مٹی کے برتن، تانبے کے برتن، کندہ کاری، لکڑی کا کام، پیپر ماشی، قالین بافی اور کشیدہ کاری جیسے ہنر نسل در نسل منتقل ہوتے رہے ہیں اور ان میں کشمیری کاریگروں کی غیر معمولی محنت، صبر اور تخلیقی صلاحیتوں کی جھلک نمایاں ہوتی ہے۔یہ دستکاریاں محض خرید و فروخت کی اشیا نہیں بلکہ کشمیر کے ثقافتی ورثے کی نمائندہ ہیں۔ ان کے ساتھ ایسے روایتی طریقۂ کار اور فنی اسرار وابستہ ہیں جو کسی کتاب میں مکمل طور پر محفوظ نہیں ہوسکتے۔ ایک ماہر کاریگر برسوں کی مشق، مشاہدے اور تجربے کے بعد جس مہارت تک پہنچتا ہے، اسے اگلی نسل تک منتقل کرنا ہی ان فنون کے تسلسل کی ضمانت بن سکتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ روایتی ہنر کو زندہ رکھنے کے لیے نئی نسل کو ان فنون سے جوڑنا وقت کی اہم ضرورت بن چکا ہے۔اس سلسلے میں مرکزی وزارتِ ٹیکسٹائل کی جانب سے نیشنل ہینڈی کرافٹس ڈیولپمنٹ پروگرام کے تحت ’’گرو شِشیہ ہست شِیلپ‘‘ جزو کے لیے 14.90 لاکھ روپے کی منظوری ایک قابلِ ذکر قدم ہے۔ اس پروگرام کے تحت کرافٹ ڈیولپمنٹ انسٹی ٹیوٹ سری نگر دو ماہ کے تربیتی پروگرام منعقد کرے گا، جن کے ذریعے بارہمولہ میں 30 کاریگروں کو چمک دار مٹی کے برتن بنانے جبکہ سری نگر میں مزید 30 کاریگروں کو تانبے کے برتن اور بالخصوص کندہ کاری کی تربیت دی جائے گی۔ یوں مجموعی طور پر 60 کاریگروں کو روایتی فنون کی خصوصی تربیت حاصل ہوگی۔اس پروگرام کی اہمیت صرف اس لیے نہیں کہ اس کے ذریعے چند افراد کو ہنر سکھایا جائے گا بلکہ اس لیے بھی ہے کہ اس میں استاد اور شاگرد کے روایتی رشتے کو بنیاد بنایا گیا ہے۔ مٹی کو تیار کرنے، اسے مطلوبہ شکل دینے، خشک کرنے، اس پر تہہ چڑھانے اور بھٹی میں پکانے جیسے مراحل محض نظری تعلیم سے نہیں سیکھے جاسکتے۔ اسی طرح تانبے کو مختلف اشکال دینا، اس پر باریک نقش و نگار بنانا اور اسے آخری شکل دینا بھی مسلسل مشق اور ماہر کاریگر کی براہِ راست رہنمائی کا تقاضا کرتا ہے۔ تجربہ کار استاد اپنے شاگرد کو صرف فنی طریقہ نہیں سکھاتا بلکہ اس کے ساتھ وہ صبر، باریک بینی اور کام سے وابستگی بھی منتقل کرتا ہے جو کسی بھی دستکاری کو اعلیٰ معیار تک پہنچانے کے لیے ضروری ہیں۔روایتی دستکاریوں کو درپیش مسئلہ صرف ہنر کے معدوم ہونے کا نہیں بلکہ اس سے وابستہ لوگوں کے معاشی مستقبل کا بھی ہے۔ مشینی طور پر تیار ہونے والی سستی اشیا کی بھرمار نے ہاتھ سے بننے والی مصنوعات کے لیے مقابلہ مشکل کردیا ہے۔ دوسری طرف نئی نسل کے سامنے روزگار کے بہت سے متبادل موجود ہیں اور اگر روایتی ہنر سے مناسب آمدنی اور مستقل بازار وابستہ نہ ہو تو نوجوان اس شعبے میں آنے سے گریز کرسکتے ہیں۔ اس لیے دستکاریوں کی بحالی کے لیے صرف تربیت کافی نہیں، بلکہ کاریگروں کو مناسب منڈی، بہتر آمدنی اور اپنے فن کو نئے تقاضوں کے مطابق ڈھالنے کے مواقع بھی فراہم کرنا ہوں گے۔قارئین،کشمیر کی دستکاریوں کو نئی زندگی دینے کے لیے روایت اور جدت کے درمیان توازن پیدا کرنا ضروری ہے۔ روایتی فن کی بنیادی شناخت برقرار رکھتے ہوئے نئے نقش و نگار، نئی مصنوعات، بہتر پیکنگ اور جدید ذوق سے ہم آہنگ اشیا تیار کی جاسکتی ہیں۔ اس کے ساتھ ملک کے مختلف حصوں اور بیرونِ ملک منڈیوں تک رسائی کے لیے جدید تشہیری ذرائع اور برقی تجارت کے پلیٹ فارم بھی استعمال کیے جاسکتے ہیں۔ سیاحت اس حوالے سے ایک اہم ذریعہ بن سکتی ہے، کیونکہ کشمیر آنے والے سیاح اکثر ایسی اشیا اپنے ساتھ لے جانا پسند کرتے ہیں جو اس خطے کی ثقافت اور فنکاری کی حقیقی نمائندگی کرتی ہوں۔نمائشیں، دستکاری میلے، سیاحتی مراکز اور آن لائن بازار کاریگروں کو اپنے فن کو وسیع حلقے تک پہنچانے کا موقع دے سکتے ہیں۔ اگر ادارہ جاتی تربیت کے ساتھ مارکیٹ تک رسائی اور مناسب قیمت یقینی بنائی جائے تو چھوٹی ورکشاپس اور خاندانی کاروبار بھی مضبوط ہوسکتے ہیں اور نوجوانوں کے لیے باعزت روزگار کے نئے راستے پیدا ہوسکتے ہیں۔14.90 لاکھ روپے کی یہ منظوری اور 60 کاریگروں کی تربیت ایک محدود مگر اہم آغاز ہے۔ اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ ایسے پروگراموں کا دائرہ مزید وسیع کیا جائے اور کشمیر کے دوسرے روایتی فنون کو بھی ان میں شامل کیا جائے۔ تجربہ کار کاریگر اس ورثے کے اصل امین ہیں، اس لیے ان کے علم کو محفوظ کرنا اور نئی نسل تک منتقل کرنا محض ثقافتی ذمہ داری نہیں بلکہ معاشی ضرورت بھی ہے۔ اگر ہنر زندہ رہے گا، کاریگر کو عزت اور مناسب معاوضہ ملے گا اور اس کی مصنوعات کو وسیع بازار دستیاب ہوگا تو کشمیر کی یہ صدیوں پرانی فنی میراث صرف ماضی کی یاد بن کر نہیں رہ جائے گی بلکہ آنے والی نسلوں کے لیے روزگار، شناخت اور تخلیقی امکانات کا ذریعہ بھی بن سکتی ہے۔

 

 

Previous Post

جموں کشمیر کے نوجوان کے نئے حوصلے ، مقامی سطح سے قومی کھیل کے میدانوں تک نمایاں 

Next Post

بدلتے حالات میں نوجوانوں کے نئے خواب

تحریر:ارشد رسول

تحریر:ارشد رسول

Next Post

بدلتے حالات میں نوجوانوں کے نئے خواب

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.