قارئین،کسی بھی تنازع میں گولی اور بندوق کے علاوہ ایک ایسی جنگ بھی جاری رہتی ہے جو دکھائی نہیں دیتی، مگر اس کے اثرات معاشرے کے ذہنوں تک پہنچتے ہیں۔ معلومات، افواہوں، پروپیگنڈے اور مختلف بیانیوں کے ذریعے لوگوں کے خیالات کو متاثر کرنے کی کوششیں جدید دور کے تنازعات کا ایک اہم پہلو بن چکی ہیں۔ جموں و کشمیر بھی کئی دہائیوں سے اس کشمکش کا سامنا کرتا آیا ہے، جہاں زمینی حالات کے ساتھ ساتھ رائے عامہ اور تاثر کو متاثر کرنے کی کوششیں بھی مختلف شکلوں میں سامنے آتی رہی ہیں۔قارئین کو بتادیں کہ 1947 میں برصغیر کی تقسیم اور آزادی کے بعد جموں و کشمیر بھارت اور پاکستان کے درمیان کشیدگی کا ایک مرکزی موضوع بن گیا۔ وقت کے ساتھ پاکستان کی حکمتِ عملی میں روایتی فوجی کارروائی، دراندازی، دہشت گردی، شدت پسندی اور سیاسی اثراندازی جیسے مختلف طریقے شامل ہوتے رہے۔ 1947 میں پاکستان کی حمایت یافتہ قبائلی جنگجوؤں کی ریاست جموں و کشمیر میں آمد کے بعد پیدا ہونے والے بحران نے جنگ کی صورت اختیار کی اور بعد کے برسوں میں بھی کئی فوجی تصادم ہوئے۔ تاہم وقت گزرنے کے ساتھ اس کشمکش کا ایک اور محاذ نمایاں ہوتا گیا، جہاں کسی علاقے پر قبضے کے بجائے لوگوں کے ذہنوں میں کسی واقعے یا تنازع کے بارے میں ایک مخصوص تصور پیدا کرنا مقصد بن سکتا تھا۔
قارئین ، کشمیر کے معاملے میں مذہبی شناخت کو بھی مختلف ادوار میں سیاسی بیانیے کا حصہ بنایا گیا۔ پیچیدہ تاریخی، سیاسی اور آئینی معاملات کو بعض اوقات محض مذہبی اکثریت کی بنیاد پر پیش کرتے ہوئے یہ تاثر دینے کی کوشش کی گئی کہ خطے کا مستقبل کسی ایک سمت میں جانا ناگزیر ہے۔ ایسے بیانیوں کا دائرہ صرف کشمیر تک محدود نہیں رہا بلکہ پاکستان کے عوام اور عالمی رائے عامہ کو بھی متاثر کرنے کی کوششیں اس کا حصہ رہیں۔ یوں تنازع کا ایک پہلو زمین پر اور دوسرا لوگوں کے تصورات میں تشکیل پاتا رہا۔1980 کی دہائی کے اواخر اور خصوصاً 1990 کے بعد جموں و کشمیر نے طویل عرصے تک دہشت گردی، ہلاکتوں، نقل مکانی اور سماجی انتشار کا سامنا کیا۔ عام شہریوں، سکیورٹی اہلکاروں، سیاسی کارکنوں، اقلیتوں، مہاجرین، صحافیوں اور بے شمار خاندانوں کو اس تشدد کا نقصان اٹھانا پڑا۔ لشکرِ طیبہ، جیشِ محمد اور حزب المجاہدین جیسی تنظیموں کو بھارت کے غیر قانونی سرگرمیاں (روک تھام) قانون کے تحت دہشت گرد تنظیمیں قرار دیا گیا ہے۔ لیکن تشدد کو برقرار رکھنے کے لیے صرف ہتھیار کافی نہیں ہوتے؛ اس کے پیچھے ایک ایسا نظریاتی ماحول بھی درکار ہوتا ہے جو تشدد کو کسی مقصد یا جواز کے ساتھ جوڑ سکے۔تاہم یہاں ایک اہم فرق کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ جموں و کشمیر میں موجود ہر سیاسی اختلاف، عوامی شکایت یا بے اطمینانی کو بیرونی سازش قرار دینا درست طرزِ فکر نہیں ہوگا۔ خطے میں حقیقی سماجی، سیاسی اور معاشی مسائل بھی رہے ہیں۔ اطلاعاتی جنگ اکثر اسی وقت زیادہ مؤثر ہوتی ہے جب وہ کسی حقیقی مسئلے کو اپنے وسیع بیانیے کا حصہ بنا کر اس کے اصل پس منظر کو محدود یا مسخ کردیتی ہے۔قارئین کو معلوم ہے کہ 2019 کے بعد سکیورٹی کے منظرنامے میں بھی نمایاں تبدیلیاں آئیں۔ دہشت گرد نیٹ ورکس، دہشت گردی کی مالی معاونت، علیحدگی پسند تنظیموں اور ان کے معاون ڈھانچوں کے خلاف کارروائیوں میں تیزی آئی۔ وزارتِ داخلہ کے اعداد و شمار کے مطابق جموں و کشمیر میں دہشت گردی کے واقعات 2018 میں 417 تھے، جو 2019 میں 255، 2020 میں 244 اور 2021 میں 229 رہ گئے۔ یہ اعداد و شمار دہشت گردی کے مکمل خاتمے کا ثبوت نہیں، تاہم سکیورٹی ماحول میں آنے والی تبدیلی کی نشاندہی ضرور کرتے ہیں۔ ایسے حالات میں معلومات کا محاذ مزید اہم ہوجاتا ہے۔موبائل فون اور انٹرنیٹ نے اس جنگ کی رفتار کئی گنا بڑھا دی ہے۔ پہلے ایک افواہ کو ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچنے میں وقت لگتا تھا، اب چند لمحوں میں ایک پیغام پوری وادی، ملک یا دنیا کے کسی بھی حصے تک پہنچ سکتا ہے۔ کسی پرانی تصویر کو تازہ واقعے سے جوڑ دینا، کسی دوسرے ملک کی ویڈیو کو کشمیر سے منسوب کرنا یا کسی شخصیت کے نام سے جعلی بیان پھیلانا اب مشکل کام نہیں رہا۔ کسی واقعے کے دوران غیر مصدقہ مواد تیزی سے پھیل سکتا ہے اور بعد میں حقیقت سامنے آنے کے باوجود ابتدائی تاثر کو ختم کرنا آسان نہیں ہوتا۔مصنوعی ذہانت نے اس چیلنج کو مزید پیچیدہ کردیا ہے۔ جعلی آوازیں، تبدیل شدہ تصاویر اور ایسے من گھڑت مناظر تیار کیے جاسکتے ہیں جو بظاہر حقیقی معلوم ہوں۔ اس کے برعکس ایک خطرہ یہ بھی ہے کہ حقیقی مواد کو جعلی قرار دے کر مسترد کردیا جائے۔ اس صورتحال میں عوامی سطح پر معلومات کو جانچنے اور پرکھنے کی صلاحیت پہلے سے کہیں زیادہ ضروری ہوگئی ہے۔جموں و کشمیر میں اس چیلنج کا مقابلہ صرف سرکاری اداروں کی ذمہ داری نہیں۔ معتبر صحافت، بروقت مستند اطلاعات، ڈیجیٹل خواندگی اور شہریوں کی اپنی احتیاط بھی اتنی ہی اہم ہے۔ کسی بھی خبر یا ویڈیو کو آگے بڑھانے سے پہلے یہ دیکھنا ضروری ہے کہ اسے کس نے جاری کیا، یہ مواد کب اور کہاں کا ہے، اصل ذریعہ کیا کہتا ہے اور کیا کسی قابلِ اعتماد ذریعے نے اس کی آزادانہ تصدیق کی ہے۔کشمیر کا تنازع اس لیے بھی پیچیدہ ہے کہ اس کے روایتی محاذوں کے ساتھ اب اطلاعات کا محاذ بھی موجود ہے۔ سرحدیں لوگوں کی نقل و حرکت کو محدود کرسکتی ہیں، مگر خیالات اور معلومات کی گردش کو روکنا کہیں زیادہ مشکل ہے۔ ایسے ماحول میں معاشرے کی مضبوطی صرف زمینی تحفظ سے نہیں بلکہ اس بات سے بھی وابستہ ہوگی کہ لوگ کیا پڑھتے، کیا مانتے، کیا جانچتے اور کیا دوسروں تک پہنچاتے ہیں۔ مستقبل میں اطلاعات کی یہ جنگ شاید سرحدوں سے بھی آگے جاری رہے، اور اس کا سب سے اہم دفاع باشعور شہری، ذمہ دار صحافت اور مصدقہ معلومات ہی ہوسکتی ہیں۔