• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Tuesday, October 6, 2026
JKNS
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
JKNS | Jammu Kashmir News Service
No Result
View All Result
Home اردو خبریں

ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس (23)

محمد سلیم سالک by محمد سلیم سالک
October 6, 2026
in اردو خبریں
A A
ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس (23)
FacebookTwitterWhatsapp

جوں ہی میں اپنی تقریر ختم کرنے کے بعداپنی نشست پر بیٹھ گیا تو پہلی بار مجھے شدت سے احساس ہوا کہ قدرت نے مجھے ایک ایسا موقع فراہم کیا جس کے ذریعے میں اپنی بات کشمیری زبان و ادب سے وابستہ اہم شخصیات تک پہنچا سکا۔ اگر جاوید اقبال صاحب، مدیرِ ’’شیرازہ کشمیری‘‘ کو کسی مجبوری کے باعث سرینگر واپس جانے کی ضرورت پیش نہ آتی تو شاید مجھے اس نشست میں اپنے خیالات کے اظہار کا یہ موقع بھی نہ ملتا۔
میں سوچنے لگا کہ شاید زندگی میں بعض مواقع خود ہمارے دروازے پر دستک نہیں دیتے، بلکہ کسی غیر متوقع صورتِ حال کے ذریعے ہمارے سامنے آ کھڑے ہوتے ہیں۔ شرط صرف یہ ہے کہ جب وہ موقع آئے تو ہمارے پاس کہنے کے لیے کوئی بات، کوئی خیال اور اپنا کوئی واضح موقف موجود ہو۔ شاید اسی لیے کہا جاتا ہے کہ اپنا موقف ہمیشہ تیار رکھنا چاہیے، کیا پتا قدرت کب اور کہاں آپ کو اپنی بات کہنے کا موقع عطا کر دے۔
ابھی میں انہی خیالات میں گم تھا کہ ناظمِ نشست نے جناب امتیاز انجم صاحب کو اپنے تاثرات پیش کرنے کی دعوت دی۔ انجم صاحب نے اپنے تمہیدی کلمات میں ایک ایسی بات کہی جس نے شاید وہاں موجود بہت سے لوگوں کو چونکا دیا۔ انہوں نے قدرے بے تکلف انداز میں اعتراف کیا:
’’میں ابھی تک شش و پنج میں مبتلا ہوں کہ آخر مجھے کس حیثیت سے ایوانِ صدارت کا حصہ بنایا گیا ہے۔‘‘
پھر قدرے توقف کے بعد گویا ہوئے کہ بہرحال، چونکہ مجھے کچھ کہنے کا حکم ملا ہے تو میں اپنی بات ضرور عرض کروں گا۔
انہوں نے سب سے پہلے عقیدتی ادب کی اہمیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ عقیدتی ادب تخلیق کرنا بھی ایک طرح کی عبادت میں شمار ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک عقیدت سے پھوٹنے والے الفاظ محض ادبی اظہار نہیں ہوتے بلکہ ان کے پسِ پشت ایک جذبۂ احترام اور روحانی وابستگی بھی کارفرما ہوتی ہے۔
انہوں نے جناب فیاض تلگامی اور سید عباس جوہر کی پیش کی گئی تخلیقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دونوں صاحبان کی تخلیقات نے محفل میں ایک سماں باندھ دیا، جو قابلِ ستائش ہے۔ ان کے ساتھ ساتھ انہوں نے گلزار جعفر اور واحد رضا کی تنقیدی کاوشوں کو بھی سراہا اور اس بات کی طرف اشارہ کیا کہ عقیدتی ادب پر تخلیقی اظہار کے ساتھ ساتھ تنقیدی گفتگو بھی ضروری ہے، کیونکہ اسی سے کسی صنف کے مختلف پہلوؤں کو سمجھنے اور پرکھنے کے نئے راستے کھلتے ہیں۔
امتیاز انجم صاحب جس روانی، اعتماد اور معلوماتی انداز میں تقریر کر رہے تھے، اسے سن کر میں کچھ دیر کے لیے حیرت میں پڑ گیا۔ ان کی گفتگو میں محض ایک سرکاری افسر کی رسمی گفتگو نہیں تھی، بلکہ علم و ادب سے ایک گہری دلچسپی اور موضوع پر گرفت بھی نمایاں تھی۔ ان کے اندازِ بیان میں شائستگی بھی تھی اور ایک ایسی بے ساختگی بھی، جو سامع کو اپنی طرف متوجہ کیے رکھتی ہے۔ میں سوچنے لگا کہ ایک بیوروکریٹ، جس کی پیشہ ورانہ مصروفیات کا دائرہ عموماً انتظامی امور تک محدود سمجھا جاتا ہے، وہ علم و ادب کی وادیوں کا اس قدر شیدائی بھی ہو سکتا ہے۔
بعد میں مجید مجازی صاحب سے معلوم ہوا کہ انجم صاحب صرف ادب سے دلچسپی ہی نہیں رکھتے بلکہ کشمیری زبان میں طبع آزمائی بھی کرتے ہیں۔ یہ بات میرے لیے مزید دلچسپی کا باعث بنی، کیونکہ ان کی گفتگو سننے کے بعد مجھے اندازہ ہو چکا تھا کہ ان کا ادبی ذوق محض رسمی نوعیت کا نہیں بلکہ اس کے پیچھے ایک سنجیدہ وابستگی بھی موجود ہے۔
نشست کے اختتام پر جناب مشتاق احمد مشتاق نے اپنے صدارتی کلمات میں کہا کہ اس شام ذکرِ رسولِ اکرم ﷺ اور کربلا کے شہیدوں کی یاد ایک بار پھر تازہ ہوئی۔ ان کے مطابق اس نشست میں شاعری کے بہترین نمونے پیش کیے گئے، جو عقیدتی ادب کا اہم حصہ ہیں۔ انہوں نے شعرا کی پیشکش، زبان کی شائستگی اور کلام میں موجود جذبۂ عقیدت کو بھی سراہا اور کہا کہ ایسی محافل نئی نسل کو اپنی دینی، تہذیبی اور ادبی روایات سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں۔
انہوں نے نعت، منقبت اور حمد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ کشمیری زبان میں عقیدتی ادب کا جو گراں قدر سرمایہ موجود ہے، وہ نہ صرف کشمیری زبان و ادب کی وسعت اور تنوع کا آئینہ دار ہے بلکہ اس زبان کے ادبی سرمائے میں بھی ایک اہم مقام رکھتا ہے۔ ان کے خیال میں عقیدتی شاعری کی یہ مختلف اصناف کشمیری زبان کی تہذیبی اور روحانی روایت کو سمجھنے میں بھی مدد دیتی ہیں۔ انہوں نے اس امر پر زور دیا کہ اس ادبی ورثے کی حفاظت، تدوین اور نئی نسل تک منتقلی کے لیے سنجیدہ کوششیں جاری رہنی چاہییں، تاکہ کشمیری عقیدتی شاعری کی یہ روشن روایت مستقبل میں بھی زندہ و تابندہ رہے۔
نشست کے اختتام پر منظور احمد شاہ نے ایوانِ صدارت میں موجود معزز شخصیات اور دیگر شرکائے نشست کا شکریہ ادا کرنے کے لیے شاکر شفیع کو دعوت دی۔ شاکر صاحب نے اپنے مخصوص بے تکلف اور پُرخلوص انداز میں سب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ رات کے دس بج چکے ہیں اور اب مہمانوں کے لیے طعام کا انتظام ساتھ والے شامیانے میں کیا گیا ہے۔
انہوں نے مرکز کے کارکنوں سے مخاطب ہوکر گزارش کی کہ پہلے مہمانوں کی خاطر تواضع کا اہتمام کیا جائے، اس کے بعد مرکز کے احباب کھانے کے لیے تشریف لے جائیں۔ ساتھ ہی انہوں نے یہ بھی واضح کیا کہ باہر سے آئے ہوئے مہمانوں کے قیام کے لیے مناسب بندوبست کیا گیا ہے، اس لیے کسی کو رات گزارنے کے حوالے سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔
پھر انہوں نے مسکراتے ہوئے ایک اور بات کہی کہ کانفرنس کی یہ روایت رہی ہے کہ رات کے کھانے کے بعد ایک مشاعرہ منعقد کیا جاتا ہے، جو عموماً رات گئے تک جاری رہتا ہے۔ اس لیے تمام مہمانوں سے گزارش ہے کہ کھانے کے بعد مشاعرے میں ضرور شرکت کریں۔ ان کے اندازِ گفتگو میں ایسی اپنائیت تھی کہ محسوس ہوتا تھا جیسے وہ محض ایک اعلان نہیں کر رہے بلکہ سب کو رات کی اس آخری ادبی محفل کا حصہ بننے کی دعوت دے رہے ہوں۔
یہ اعلان ہوتے ہی جیسے محفل کے اختتام کا باقاعدہ اشارہ مل گیا۔ دن بھر کی نشستیں، تقریریں، تبصرے اور بحثیں اب اپنے آخری مرحلے میں داخل ہو چکی تھیں۔ باہر رات گہری ہو رہی تھی اور اندر موجود لوگوں کے چہروں پر دن بھر کی تھکن کے باوجود ایک دوسرے سے بچھڑنے سے پہلے کی وہ اپنائیت نمایاں تھی جو ایسی ادبی محفلوں کا حاصل ہوتی ہے۔(جاری)

Previous Post

J&K High Court Bar Felicitates Chief Justice Pushpendra Singh Bhatti

محمد سلیم سالک

محمد سلیم سالک

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.