• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Friday, October 16, 2026
JKNS
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
JKNS | Jammu Kashmir News Service
No Result
View All Result
Home Article

پاکستانی زیرقبضہ کشمیر کے نوجوانوں کا مستقبل  ؟

از قلم :اے ا ر بھٹ by از قلم :اے ا ر بھٹ
October 16, 2026
in Article
A A
FacebookTwitterWhatsapp

قارئین،معیاری تعلیم، روزگار کے مناسب ذرائع، معاشی خودمختاری اور فیصلہ سازی میں شرکت ایسے عوامل ہیں جو نوجوانوں کے مستقبل کے بارے میں اعتماد پیدا کرتے ہیں۔ پاکستانی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر میں نوجوانوں کو درپیش مسائل بھی اسی تناظر میں اہمیت رکھتے ہیں، جہاں تعلیم حاصل کرنے کے بعد روزگار کی تلاش، معاشی استحکام اور اپنے ہی علاقے میں بہتر زندگی گزارنے کی خواہش مختلف سوالات کو جنم دیتی ہے۔ سیاسی بحثوں اور ترقیاتی وعدوں سے ہٹ کر دیکھا جائے تو نوجوانوں کی ایک بڑی ضرورت یہ ہے کہ انہیں ایسی تعلیم اور ملازمت کے مواقع میسر آئیں جو ان کے خوابوں کو حقیقت میں بدل سکیں اور انہیں بہتر مستقبل کی تلاش میں اپنے گھر بار چھوڑنے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔بہت سے خاندانوں کے لیے تعلیم بہتر زندگی کی امید کا نام ہے۔ والدین اپنی ضروریات محدود کرکے بچوں کی تعلیم پر خرچ کرتے ہیں، جبکہ طلبہ کئی سال محنت کرکے اس توقع کے ساتھ ڈگریاں حاصل کرتے ہیں کہ انہیں باعزت روزگار اور مالی تحفظ میسر آئے گا۔ لیکن جب تعلیمی قابلیت روزگار میں تبدیل نہ ہو تو نوجوانوں کی مایوسی بڑھنے لگتی ہے۔ مسئلہ صرف تعلیمی اداروں کی تعداد یا دستیابی کا نہیں، بلکہ اس بات کا بھی ہے کہ وہاں دی جانے والی تعلیم بدلتی ہوئی معیشت کی ضروریات سے کس حد تک ہم آہنگ ہے۔ عملی تربیت، پیشہ ورانہ تجربہ، فنی تعلیم، ڈیجیٹل مہارتوں اور مستقبل کے پیشوں کے انتخاب میں رہنمائی کو تعلیمی نظام کا لازمی حصہ بنانے کی ضرورت ہے، تاکہ ڈگری حاصل کرنے کے بعد نوجوانوں کے لیے ملازمت کے امکانات بہتر ہوسکیں۔اعلیٰ تعلیم کے حصول سے ترقی کی راہیں ضرور کھلتی ہیں، لیکن محض ڈگری کسی ملازمت کی ضمانت نہیں ہوتی۔ سرکاری ملازمتیں اپنے استحکام اور معاشی تحفظ کی وجہ سے نوجوانوں کی بڑی تعداد کے لیے اولین ترجیح بنی رہتی ہیں۔ اس کے نتیجے میں محدود آسامیوں کے لیے مقابلہ سخت ہوجاتا ہے اور بہت سے تعلیم یافتہ نوجوان بار بار امتحانات دینے کے باوجود غیر یقینی صورتِ حال میں رہتے ہیں۔ سرکاری شعبہ تنہا بے روزگاری کے مسئلے کو حل نہیں کرسکتا۔ اس کے لیے ایسی متنوع معیشت کی ضرورت ہے جو سیاحت، زراعت، باغبانی، دستکاری، اطلاعاتی ٹیکنالوجی اور چھوٹی صنعتوں میں روزگار کے نئے راستے پیدا کرے۔ تعلیمی منصوبہ بندی اور معاشی پالیسیوں کو ایک دوسرے سے مربوط کرنا ضروری ہے، تاکہ نوجوانوں کی حاصل کردہ قابلیت ان کے لیے پیداواری اور باعزت روزگار کا ذریعہ بن سکے۔قارئین،روزگار کی اہمیت صرف ماہانہ آمدنی تک محدود نہیں۔ یہ انسان کو خودمختاری، وقار اور اپنے خاندان کی کفالت کرنے کا اعتماد فراہم کرتا ہے۔ طویل عرصے تک بے روزگار رہنے سے معاشی دباؤ بڑھتا ہے، خود اعتمادی متاثر ہوتی ہے اور زندگی کے اہم فیصلے مؤخر کرنے پڑتے ہیں۔ نوجوانوں کے لیے ترقی کا اصل مطلب سرکاری اعلانات یا اعداد و شمار سے زیادہ ان کے روزمرہ تجربات میں پوشیدہ ہوتا ہے۔ معاشی پیش رفت اسی وقت حقیقی معنوں میں فائدہ مند ثابت ہوتی ہے جب تعلیم مکمل کرنے والوں کو ملازمتیں ملیں، ہنرمند افراد کو اپنی صلاحیتوں کے مطابق کام دستیاب ہو اور کاروبار شروع کرنے کے خواہش مند نوجوانوں کو اپنے قدموں پر کھڑا ہونے کے لیے ضروری سہولتیں فراہم کی جائیں۔اس مرحلے پر سرکاری اداروں کی جواب دہی بنیادی اہمیت اختیار کرلیتی ہے۔ روزگار سے متعلق منصوبوں کے طریقۂ کار، مستفید ہونے والے افراد کے انتخاب اور حاصل ہونے والے نتائج کے بارے میں واضح معلومات فراہم کی جانی چاہئیں۔ بھرتی کے عمل کو شفاف، بروقت اور ہر اہل امیدوار کے لیے قابلِ رسائی بنانا ضروری ہے۔ بدعنوانی، اقرباپروری یا کسی طبقے کو مواقع سے محروم رکھنے کے الزامات کی جانچ مستند شواہد کی بنیاد پر ہونی چاہیے، نہ کہ محض قیاس آرائیوں کے ذریعے۔ اگر کوئی منصوبہ اپنے مقررہ مقاصد حاصل کرنے میں ناکام رہتا ہے تو اس کی وجوہات کا جائزہ لے کر خامیوں کو دور کرنا چاہیے۔ مؤثر جواب دہی کا تقاضا یہی ہے کہ ادارہ جاتی کمزوریوں کی نشاندہی ہو اور مواقع کی منصفانہ تقسیم کو یقینی بنانے والے نظام کو بہتر بنایا جائے۔نجی شعبے کو مضبوط بنانا بھی بے روزگاری کے مسئلے سے نمٹنے کے لیے ناگزیر ہے۔ کاروبار شروع کرنے کے خواہش مند نوجوانوں کو آسان شرائط پر مالی وسائل، تجربہ کار افراد کی رہنمائی، قابلِ اعتماد بنیادی ڈھانچے اور وسیع منڈیوں تک رسائی کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر یہ سہولتیں فراہم کیے بغیر نوجوانوں کو خود روزگاری اختیار کرنے کا مشورہ دیا جائے تو معاشی غیر یقینی کا بوجھ صرف انہی کے کندھوں پر منتقل ہوجاتا ہے۔ سیاحت، زراعت، باغبانی اور ڈیجیٹل خدمات میں روزگار کے امکانات موجود ہوسکتے ہیں، لیکن محض وعدوں سے پائیدار مواقع پیدا نہیں ہوتے۔ اس کے لیے سرمایہ کاری، مؤثر عمل درآمد اور نتائج کی مسلسل نگرانی ضروری ہے۔ معاشی پالیسیوں کی کامیابی کو اس بنیاد پر جانچنا چاہیے کہ ان سے کتنے لوگوں کو روزگار ملا اور کتنے کاروبار مستقل طور پر چلنے کے قابل ہوئے۔قارئین،نوجوانوں کا مستقبل حکمرانی کے نظام اور سیاسی نمائندگی سے بھی جڑا ہوا ہے۔ وہ صرف سیاسی اداروں کی موجودگی پر اکتفا نہیں کرنا چاہتے، بلکہ ان کی یہ توقع بھی ہوتی ہے کہ تعلیم، روزگار، بنیادی ڈھانچے اور مقامی ترقی سے متعلق فیصلوں میں ان کے مسائل کو اہمیت دی جائے۔ انہیں یہ جاننے کا حق حاصل ہے کہ پالیسیاں کیسے تشکیل دی جاتی ہیں، عوامی وسائل کہاں خرچ ہوتے ہیں اور ذمہ دار افراد اپنے وعدوں کو کس حد تک پورا کرتے ہیں۔ جب عوامی توقعات اور اداروں کی کارکردگی میں واضح فرق محسوس ہو تو اس کا سنجیدہ جائزہ شفافیت، مستند معلومات اور مسلسل عوامی نگرانی کے ذریعے لیا جانا چاہیے۔قارئین،یہ بھی ضروری ہے کہ نوجوانوں کی خواہشات اور مسائل کو کسی ایک سیاسی نقطۂ نظر تک محدود نہ کردیا جائے۔ حکمرانی، شناخت، معاشی ترجیحات اور خطے کے مستقبل کے بارے میں ان کی آرا مختلف ہوسکتی ہیں۔ بعض نوجوانوں کے لیے روزگار اور مالی استحکام بنیادی اہمیت رکھتے ہیں، جبکہ دوسرے سیاسی نمائندگی اور خطے کی آئینی و سیاسی حیثیت کو زیادہ اہم سمجھ سکتے ہیں۔ ان مختلف ترجیحات کو تسلیم کیے بغیر نوجوانوں کے مسائل کی مکمل تفہیم ممکن نہیں۔ بامعنی شرکت کا تقاضا ہے کہ انہیں اپنی رائے پیش کرنے، پالیسیوں پر گفتگو کرنے اور فیصلوں پر اثرانداز ہونے کے حقیقی مواقع ملیں، نہ کہ انہیں صرف نمائشی سرگرمیوں تک محدود رکھا جائے۔ڈیجیٹل معیشت بھی روزگار کے نئے امکانات پیدا کرسکتی ہے۔ آزادانہ آن لائن کام، سافٹ ویئر کی تیاری، ڈیجیٹل تشہیر، گرافک ڈیزائن اور دور بیٹھ کر پیشہ ورانہ خدمات فراہم کرنے کے ذریعے نوجوان اپنے علاقے سے باہر موجود منڈیوں تک رسائی حاصل کرسکتے ہیں۔ تاہم اس میدان میں کامیابی کے لیے مخصوص مہارتوں، قابلِ اعتماد انٹرنیٹ، پیشہ ورانہ نظم و ضبط اور وسیع منڈیوں میں مقابلہ کرنے کی صلاحیت ضروری ہے۔ اس لیے تربیتی پروگراموں کا مقصد صرف اسناد تقسیم کرنا نہیں ہونا چاہیے، بلکہ نوجوانوں کو ایسے عملی مواقع فراہم کرنا چاہیے جن کے ذریعے وہ معاوضے کے ساتھ کام حاصل کرسکیں اور مستقل آمدنی کے ذرائع پیدا کرسکیں۔نوجوان خواتین کی تعلیمی اور معاشی ترقی پر بھی خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ تعلیم حاصل کرلینے سے ہر خاتون کے لیے پیشہ ورانہ خودمختاری کی راہ خودبخود ہموار نہیں

ہوجاتی۔ سماجی توقعات، آمدورفت سے متعلق پابندیاں اور مناسب کام کی جگہوں کی کمی ان کے لیے اضافی مشکلات پیدا کرسکتی ہیں۔ محفوظ ماحول، شفاف بھرتی، پیشہ ورانہ تربیت اور کاروباری معاونت کے ذریعے خواتین کی معاشی سرگرمیوں میں شرکت بڑھائی جاسکتی ہے۔ گھر سے دور بیٹھ کر کام کرنے کے مواقع ان کے لیے مددگار ہوسکتے ہیں، لیکن انہیں ملازمت کے دیگر شعبوں تک رسائی کا متبادل نہیں سمجھنا چاہیے۔ تعلیم یافتہ خواتین کو معاشی سرگرمیوں سے باہر رکھنا نہ صرف ان کی انفرادی صلاحیتوں کو محدود کرتا ہے بلکہ مجموعی معاشی ترقی کو بھی متاثر کرتا ہے۔ان مسائل کا حل عمومی یقین دہانیوں کے بجائے قابلِ پیمائش اقدامات میں پوشیدہ ہے۔ تعلیمی اداروں کو فنی تربیت اور پیشہ ورانہ رہنمائی بہتر بنانی چاہیے، بھرتی کے نظام کو بروقت فیصلوں اور شفاف معلومات کا پابند ہونا چاہیے اور کاروباری منصوبوں کے تحت حقیقی مالی و تکنیکی مدد فراہم کی جانی چاہیے۔ ترقیاتی منصوبہ بندی میں ایسے شعبوں کو ترجیح ملنی چاہیے جو طویل مدت تک روزگار پیدا کرسکیں۔ متعلقہ اداروں کو باقاعدگی سے یہ معلومات بھی جاری کرنی چاہئیں کہ کتنی ملازمتیں پیدا ہوئیں، تربیت حاصل کرنے والے کتنے نوجوانوں کو کام ملا اور معاونت سے قائم ہونے والے کتنے کاروبار اب بھی کامیابی سے چل رہے ہیں۔ ان نتائج کا جائزہ لیتے وقت نوجوان خواتین اور معاشی طور پر کمزور طبقوں کی شرکت کو بھی مدنظر رکھنا ضروری ہے۔معاشی وسائل کی کمی، جغرافیائی مشکلات اور محدود منڈیاں ترقی کی راہ میں رکاوٹ بن سکتی ہیں، لیکن یہ عوامل جواب دہی کی ضرورت کو ختم نہیں کرتے۔ کامیاب منصوبوں کو وسعت دی جانی چاہیے اور ناکام اقدامات کا جائزہ لے کر ان میں بہتری لائی جانی چاہیے۔ نوجوانوں کو یہ آزادی اور مواقع بھی حاصل ہونے چاہئیں کہ وہ اپنے مسائل بیان کرسکیں، فیصلوں پر سوال اٹھا سکیں اور اپنے علاقوں کی ترقی میں تعمیری کردار ادا کریں۔پاکستانی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے نوجوان اس وقت تعلیمی امنگوں، معاشی غیر یقینی اور سیاسی سوالات کے درمیان اپنے مستقبل کی راہ تلاش کررہے ہیں۔ ان کے حالات اور ترجیحات مختلف ہوسکتی ہیں، لیکن قابلِ اعتماد مواقع کی ضرورت سب کے لیے بنیادی اہمیت رکھتی ہے۔ تعلیم کے بعد روزگار نہ ملنا مایوسی پیدا کرسکتا ہے، حقیقی شرکت کے بغیر سیاسی نمائندگی عوامی اعتماد کو کمزور کرسکتی ہے اور نتائج سے خالی ترقیاتی وعدے اداروں اور معاشرے کے درمیان فاصلے بڑھا سکتے ہیں۔ان چیلنجوں سے نمٹنے کے لیے مہارتوں کی ترقی، معیشت میں تنوع، شفاف حکمرانی اور نوجوانوں کی بامعنی شرکت کو مرکزی حیثیت دینا ہوگی۔ نوجوانوں کو سیاسی تقاریر کا موضوع یا ترقیاتی رپورٹوں کے محض اعداد و شمار سمجھنے کے بجائے انہیں ایسے افراد کے طور پر دیکھنا ضروری ہے جو طلبہ، پیشہ ور افراد، ہنرمند کارکنوں اور کاروباری شخصیات کی حیثیت سے خطے کے مستقبل میں اہم کردار ادا کرسکتے ہیں۔بالآخر پاکستانی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر کے مستقبل کا فیصلہ نوجوانوں سے کیے گئے وعدوں سے نہیں، بلکہ انہیں فراہم کیے جانے والے حقیقی مواقع، ان کی آواز کو ملنے والی اہمیت اور اپنے لیے بہتر زندگی تعمیر کرنے کی آزادی سے ہوگا۔

Previous Post

JKAS Association Calls One-Day Pen-Down Strike Over Alleged Humiliation of Woman Officer

Next Post

کھیل کے میدان میں کھلاڑی کی شناخت صلاحیت اور کھیل کے جذبے سے ہوتی ہے

از قلم :اے ا ر بھٹ

از قلم :اے ا ر بھٹ

Next Post

کھیل کے میدان میں کھلاڑی کی شناخت صلاحیت اور کھیل کے جذبے سے ہوتی ہے

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.