• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Wednesday, October 28, 2026
JKNS
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
JKNS | Jammu Kashmir News Service
No Result
View All Result
Home اردو خبریں

ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس (46)

محمد سلیم سالک by محمد سلیم سالک
October 28, 2026
in اردو خبریں
A A
ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس (46)
FacebookTwitterWhatsapp

ادبی مرکز کمراز کی جانب سے اعزازات کی تقسیم کا مرحلہ مکمل ہوا تو ابھی مجلس النساء سوپور کی طرف سے تین اعزازات پیش کیے جانے باقی تھے۔ چنانچہ کانفرنس کی آخری نشست میں ادبی سنجیدگی کے ساتھ ساتھ جشن کا سا سماں بھی پیدا ہوچکا تھا۔ ایک طرف شبنم تلگامی مجلس النساء کی جانب سے دیے جانے والے اعزازات کی تفصیلات بیان کر رہے تھے ، تو دوسری طرف میرے ذہن کے پردے پر عتیقہ بہن کی شبیہ ابھرنے لگی تھی۔
عتیقہ بہن جی نے مجلس النساء جیسی ادبی تنظیم کے قیام کے ذریعے کشمیری زبان و ادب کی خدمت کا جو سلسلہ شروع کیا تھا، وہ ان کی ادبی وابستگی اور تہذیبی شعور کا مظہر ہے۔ ان کی یہی فکر ادب کی خدمت سے آگے بڑھ کر کشمیری تہذیب و تمدن کے تحفظ اور تعارف کی صورت میں بھی سامنے آئی، جس کا نمایاں ثبوت ’’میراث محل‘‘ کا قیام ہے۔ انہوں نے اس تصور کو عملی جامہ پہنا کر ہماری تہذیبی میراث کو محفوظ کرنے، اس کی اہمیت اجاگر کرنے اور اسے نئی نسلوں تک منتقل کرنے کی ایک نئی راہ کھولی۔ یوں مجلس النساء اور میراث محل، دونوں ان کی اس وسیع تر فکر کے مظہر ہیں جس میں زبان و ادب کی ترویج کے ساتھ تہذیبی شناخت کا تحفظ بھی بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
مجلس النساء کی ادبی و تہذیبی خدمات کا ایک اور اہم پہلو اہلِ زبان اور مختلف شعبہ ہائے زندگی میں کشمیری زبان کے فروغ کے لیے نمایاں کردار ادا کرنے والی شخصیات کی پذیرائی ہے۔ اسی مقصد کے تحت یہ تنظیم ہر سال ادبی مرکز کمراز کی سالانہ کانفرنس کے موقعے پر تین مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والی شخصیات کو ’’خلعتِ حنفی سوپوری ‘‘ سے نوازتی ہے۔ ان اعزازات کے انتخاب کے پس منظر میں ایک واضح فکری تصور کارفرما ہے۔ پہلا اعزاز ایسی شخصیت کے لیے مخصوص ہوتا ہے جس نے انتظامی سطح پر کشمیری زبان کی ترقی و ترویج کے لیے مؤثر اقدامات کیے ہوں۔ دوسرا اعزاز اس شخصیت کو دیا جاتا ہے جس نے عقیدتی ادب کی تخلیق اور مذہبی تبلیغ کے لیے کشمیری زبان کو وسیلۂ اظہار بنایا ہو، جب کہ تیسرے اعزاز کا مستحق وہ فنکار یا صحافی قرار پاتا ہے جس نے کشمیری زبان کو عوامی سطح پر مقبول بنانے اور اسے لوگوں کے دلوں تک پہنچانے میں نمایاں کردار ادا کیا ہو۔ اس طرح ’’خلعتِ حنفی سوپوری‘‘ محض انفرادی خدمات کا اعتراف نہیں، بلکہ کشمیری زبان کے فروغ کے لیے مختلف میدانوں میں انجام دی جانے والی کوششوں کی قدرشناسی کا ایک بامعنی سلسلہ بھی ہے۔
عتیقہ بہن جی کے بارے میں سوچتے ہوئے ابھی میری فکر کا سلسلہ جاری ہی تھا کہ شبنم تلگامی کی آواز نے خیالات کی اس رو کو توڑ دیا۔ انہوں نے اعلان کیا کہ اس سال کشمیری زبان کو اصلاحی اور تبلیغی پیغام کے اظہار کا وسیلہ بنانے کے اعتراف میں مولانا بشیر الدین قاسمی کو ’’خلعتِ حنفی سوپور‘‘ سے نوازا جا رہا ہے۔
اس اعلان کے ساتھ ہی انہوں نے مولانا بشیر الدین قاسمی سے گزارش کی کہ وہ اس اعزاز کو حاصل کرنے کے لیے اسٹیج پر تشریف لائیں۔ اس کے بعد برادر فاروق شاہین کو مائیک پر مدعو کیا گیا تاکہ وہ موصوف کی سندِ افتخار پڑھ کر سنائیں۔
فاروق شاہین نے مولانا صاحب کی سند افتخار کی قرات شروع کردی:
“مولانا بشیر الدین قاسمی ایک قابلِ قدر اسلامی اسکالر، عالمِ دین اور دینی علوم کے ماہر ہیں۔ آپ 1953ء میں سوپور کے ایک علاقے میں پیدا ہوئے۔ آپ کے والدِ محترم مولانا بشیر احمد شاہ تھے، جو دینی تعلیم اور علم و ادب سے وابستہ تھے۔ مولانا بشیر الدین نے ابتدائی تعلیم حاصل کرنے کے بعد دینی علوم کے حصول کی جانب خصوصی توجہ دی۔
مولانا بشیر الدین قاسمی نے اپنی ابتدائی تعلیم گورنمنٹ پرائمری اسکول میں حاصل کی۔ بعد ازاں آپ نے اسلامی تعلیم کے حصول کے لیے مختلف دینی اداروں کا رخ کیا اور ممتاز علما کی سرپرستی میں دینی علوم حاصل کیے۔ آپ نے حضرت مولانا عبد الکبیر اور دیگر اساتذۂ کرام سے استفادہ کیا اور اپنی علمی استعداد میں اضافہ کیا۔
ابتدائی دینی تعلیم مکمل کرنے کے بعد مولانا بشیر الدین قاسمی نے مزید علم حاصل کرنے کے لیے دارالعلوم دیوبند کا رخ کیا، جہاں آپ نے درسِ نظامیہ کے نصاب کے مطابق تعلیم حاصل کی۔ آپ نے اپنی قابلیت اور محنت کے بل پر دینی علوم میں مہارت حاصل کی۔ اس دوران آپ نے ممتاز علما سے استفادہ کیا اور اپنی علمی بنیادوں کو مضبوط بنایا۔
1980 کی دہائی میں مولانا بشیر الدین قاسمی نے دینی تعلیم و تدریس کے میدان میں اپنی خدمات کا آغاز کیا۔ آپ نے مختلف دینی اداروں میں تدریسی فرائض انجام دیے اور طلبہ کی علمی و دینی تربیت میں اہم کردار ادا کیا۔ آپ کی زندگی کا نمایاں پہلو دینی علوم کی ترویج، اسلامی تعلیمات کی اشاعت اور معاشرے میں دینی شعور کو فروغ دینا ہے۔
مولانا بشیر الدین قاسمی نے اپنی زندگی کا بیشتر حصہ دینی خدمات اور تدریس کے لیے وقف کیا۔ آپ نے مختلف دینی مدارس میں درس و تدریس کے ذریعے علم کی روشنی پھیلائی اور نئی نسل کی علمی و اخلاقی تربیت میں اپنا کردار ادا کیا۔ آپ کی خدمات دینی تعلیم کے فروغ اور اسلامی اقدار کی ترویج کے حوالے سے قابلِ قدر ہیں۔
مولانا بشیر الدین قاسمی کی علمی، دینی اور تدریسی خدمات کے اعتراف میں مجلس النساء سوپور اور ادبی مرکز کمراز کی جانب سے ’’خلعتِ حنفی سوپوری”2026 پیش کرتی ہے ۔
میری زندگی میں یہ پہلا موقع تھا جب کسی دینی عالم کی کشمیری زبان میں وعظ و تبلیغ کے ذریعے اصلاحی اور دینی پیغام عام کرنے کی خدمات کو اس انداز میں سراہا جا رہا تھا۔ ذاتی طور پر مجھے یہ ایک نہایت خوش آئند اور قابلِ تحسین قدم محسوس ہوا۔ ایک طرف کانفرنس کا موضوع ’’کشمیری عقیدتی ادب‘‘ تھا اور دوسری طرف مولانا بشیر الدین قاسمی کی خدمات کا اعتراف کیا جا رہا تھا۔ یوں محسوس ہوتا تھا جیسے کانفرنس کا موضوع محض علمی گفتگو تک محدود نہیں، بلکہ عملی سطح پر بھی کشمیری زبان میں عقیدت، تبلیغ اور اصلاح کی روایت کو خراجِ تحسین پیش کر رہا ہے۔
شبنم تلگامی نے اس کے بعد ایوانِ صدارت میں تشریف فرما معزز شخصیات سے گزارش کی کہ وہ مولانا بشیر الدین قاسمی کو ’’خلعتِ حنفی سوپوری‘‘ سے سرفراز کریں۔ ساتھ ہی انہوں نے مجلس النساء، سوپور کے صدر مزمل مسعودی کو بھی اس اعزازی تقریب میں شرکت کے لیے اسٹیج پر تشریف لانے کی دعوت دی۔ ’’خلعتِ حنفی سوپوری‘‘ میں سندِ افتخار، شال اور نقدی رقم شامل تھی۔ یہ اعزاز دراصل مولانا کی ان خدمات کا اعتراف تھا جن کے ذریعے انہوں نے دینی و اصلاحی پیغام کو کشمیری زبان میں عام کرنے کی کوشش کی۔
شبنم تلگامی نے کارروائی کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا:
’’اب دل تھام کر بیٹھے، کیونکہ جس شخصیت کو میں ڈائس پر مدعو کرنے جا رہا ہوں، وہ کشمیر میں ایک ہاوس ہولڈ نام ہے یعنی عبد الرشید حافظ صاحب۔‘‘
یہ سنتے ہی حاضرین میں سے بعض لوگ احتراماً اپنی نشستوں سے کھڑے ہوگئے۔ اپنی ہر دل عزیز شخصیت کو ’’خلعتِ حنفی سوپوری‘‘ سے سرفراز ہوتے دیکھنا یقیناً ان کے لیے مسرت اور افتخار کا لمحہ تھا۔ فضا میں تحسین و احترام کی ایک لہر دوڑ گئی اور رشید حافظ کی پذیرائی نے اس اعزازی تقریب کو ایک خاص معنویت عطا کی۔
جناب جاوید اقبال ماوری کو جناب عبدالرشید حافظ کی سند افتخار پرھنے کی زحمت دی گی۔
“عبدالرشید حافظ کشمیری زبان کے معروف فنکار اور موسیقی سے وابستہ ایک نمایاں شخصیت ہیں۔ انہوں نے اپنی فنی صلاحیتوں اور تخلیقی سرگرمیوں کے ذریعے کشمیری زبان و ثقافت کی خدمت کی ہے۔ ان کی شناخت کشمیری فنون، موسیقی اور ادبی اظہار کے حوالے سے قائم ہے۔
عبدالرشید حافظ1961 میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے اپنی تعلیم حاصل کرنے کے بعد فنونِ لطیفہ اور موسیقی کے میدان میں اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لایا۔ آپ کشمیری زبان و ادب اور ثقافت سے گہری وابستگی رکھتے ہیں اور اپنی فنی سرگرمیوں کے ذریعے اس تہذیبی ورثے کو آگے بڑھانے میں مصروف رہتے ہیں۔
آپ نے کشمیری موسیقی، فنونِ لطیفہ اور ثقافتی سرگرمیوں کے فروغ میں قابلِ قدر کردار ادا کیا ہے۔ آپ کی فنی خدمات کا دائرہ موسیقی اور عوامی ثقافتی اظہار کے مختلف پہلوؤں تک پھیلا ہوا ہے۔ موصوف کی کوششوں نے کشمیری زبان کے ثقافتی اظہار اور اس کی مقبولیت میں اپنا حصہ ڈالا ہے۔
عبدالرشید حافظ کو ان کی فنی خدمات کے اعتراف میں مختلف اعزازات سے نوازا گیا ہے۔ جن میں سنگیت ناٹک اکیڈمی ایوارڈ اور دیگر اعزازات قابل ذکر ہیں ۔
کشمیری زبان، موسیقی اور ثقافت کے لیے ان کی خدمات کے اعتراف میں مجلس النساء سوپور نے انہیں ’’خلعتِ حنفی سوپوروی 2026ء‘‘ عطا کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ یہ اعزاز ان کی فنی خدمات اور کشمیری تہذیب و ثقافت سے وابستگی کے اعتراف کی علامت ہے۔”
سندِ افتخار کی قرأت مکمل ہوتے ہی ایوانِ صدارت میں تشریف فرما مقتدر شخصیات نے عبدالرشید حافظ کو ’’خلعتِ حنفی سوپوری‘‘ سے سرفراز کیا۔جس میں سندِ افتخار، شال اور نقدی رقم شامل تھی۔
مجلس النساء کی جانب سے ’’خلعتِ حنفی سوپوری‘‘ کا تیسرا اعزاز پروفیسر شیخ محمد اعجاز کو دیا جانا تھا، لیکن وہ کانفرنس کے افتتاحی اجلاس میں ہی تشریف لائے تھے، اس لیے انہیں اسی موقعے پر اس اعزاز سے سرفراز کیا جا چکا تھا۔ ان کی سندِ افتخار پڑھنے کی سعادت مجید مجازی کو حاصل ہوئی تھی۔ یوں ان کی پذیرائی بھی کانفرنس کے ابتدائی مرحلے ہی میں عمل میں آ گئی تھی۔
اس موقعے پر ادبی مرکز کمراز کی جانب سے ان شخصیات اور اداروں کی خدمات کا اعتراف بھی کیا گیا جنہوں نے کانفرنس کے انعقاد، ادبی سرگرمیوں کے فروغ اور کشمیری زبان و ثقافت کے تحفظ میں اپنا حصہ ادا کیا تھا۔ اس سلسلے میں منظور احمد شاہ (کمپیوٹر آپریٹر)، جناب فہیم صاحب اور ہائر سیکنڈری اسکول، حاجن سے وابستہ بشیر احمد وانی کو مومنٹو پیش کیے گئے۔ اسی اعزازی سلسلے میں وہاب کلچرل سوسائٹی، حلقۂ ادب حاجن، جموں اینڈ کشمیر اکیڈمی آف آرٹ، کلچر اینڈ لینگویجز، لباب پبلی کیشنز،نارتھ کشمیر آرٹ سوسائٹی اور میزان پبلی کیشنز کے نماءندوں کو یادگاری مومنٹو پیش کیے گئے۔ یہ مومنٹو محض رسمی اعزازات نہیں تھے، بلکہ ان روابط اور تعاون کی علامت تھے جن سے ادبی و ثقافتی سرگرمیوں کو استحکام حاصل ہوتا ہے۔
علاوہ ازیں، میزان پبلی کیشنز کے سربراہ شبیر ماٹجی المعروف شبیر میزان نے بھی اپنی جانب سے محبت و قدرشناسی کا اظہار کرتے ہوئے ادبی مرکز کمراز کے صدر جناب محمد امین بٹ، نائب صدر شاکر شفیع اور معروف ادیب و شاعر جناب شہباز ہاکباری کو فنِ خطاطی سے آراستہ خوب صورت پینٹنگز پیش کیں۔ یہ فن پارے محض تحائف نہیں تھے، بلکہ ان کے ذریعے ادبی شخصیات کے تئیں احترام اور وابستگی کے جذبات کو ایک فنکارانہ پیرایہ عطا کیا گیاتھا۔ اس طرح تقریب میں ادبی خدمات کے اعتراف کے ساتھ فنونِ لطیفہ سے محبت اور اہلِ قلم کے درمیان باہمی احترام کی ایک دل نشیں جھلک بھی دیکھنے کو ملی۔
کانفرنس میں علمی و تحقیقی خدمات کو بھی نظرانداز نہیں کیا گیا۔ مقالہ نگاروں ڈاکٹر یونس ٹھوکر، سید اختر حسین منصور اور ڈاکٹر سوہن لعل کو شالیں اوڑھا کر ان کی کاوشوں کی پذیرائی کی گئی۔ اس اعتراف سے یہ حقیقت نمایاں ہوئی کہ ادبی کانفرنسوں کی اہمیت صرف مشاعروں، تقاریر اور اعزازات کی تقسیم تک محدود نہیں ہوتی، بلکہ وہ تحقیق، تنقید اور علمی مکالمے سے وابستہ افراد کی حوصلہ افزائی کا وسیلہ بھی بنتی ہیں۔ ادبی مرکز کمراز کی اس تقریب میں مختلف النوع خدمات کا اعتراف دراصل اسی وسیع ادبی و تہذیبی شعور کی عکاسی کر رہا تھا۔ (جاری)

Previous Post

Newly Joined SSP Bandipora Holds Interaction Meeting with Media Representatives

Next Post

Pulwama Becomes First District in J&K to Complete Foundational Digital HPCs

محمد سلیم سالک

محمد سلیم سالک

Next Post
Pulwama Becomes First District in J&K to Complete Foundational Digital HPCs

Pulwama Becomes First District in J&K to Complete Foundational Digital HPCs

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.