تھین سے لشٹیال مدمادھو کلاروس جل شکتی اسکیم محکمہ کے انجینروں اور ٹھیکداروں کے لیۓ سونے کی کان اسکیم کے نام پر کروڑوں روپیہ نکالا مگر پینے کا صاف پانی نادارد گورنر یوٹی اور ضلع انتظامیہ سے تحقیقات کی مانگ۔عوام۔
کپواڑہ//بٹ مظفر۔
تھین سے لشٹیال مدمادھو محکمہ جل شکتی اسکیم کے نام پر کروڑوں روپیہ کاخرچہ دیکھا یا مگر اسکیم نا ہونے کے برابر لشٹیال سے مدمادھو تک عوام پینے کے پانی کی بوند کے لیۓ ترس رہیے ہیں جبکہ تعنات ملازم جل شکتی کے خود پریشان ہیں انہونے نماٸیندے سے بات کرتے ہوۓ بتایا ہے کہ جو پاٸپیں بچھاٸ گٸ وہ بلکل کامیاب نہیں ہے وہ زمین کے اوپر سے بچھاٸ گٸ جوکہ کامیاب نہیں رہتی ہے انکے مطابق ہم نے بہت بار Aeeجل شکتی کو بتایا مگر کوٸ تواجہ انہونے نہیں دیا ہم اس اسکیم پر بے بس ہیں عوام کے کہنے کے مطابق جب سے یہ اسکیم آٸ ہے تب سے اسکے نام رقومات نکالا جاتا ہے کبھی مرمت دکھاتے ہیں کبھی نٸ لاٸین بچھانے کابہانا بناتے ہیں تھین ہیڑ سے جو لاٸین آتی چار اینچ والی بیچ میں 6اینچ لگاٸ پھر آگے چار اینچ لگاٸ یہ کونسا شڑول ہے اور کیسے انجینر ہیں عوام نے نماٸیندے سے بات کرتے ہوۓ بتایا ہے کہ ہم فیس بھی دیے رہیے ہیں مگر پینے کے پانی کے لیۓ ہم ترس رہیے ہیں آج اس مبارک مہنے میں بھی ہمیں میلوں دورہ سے گڑھوں میں پانی لانا پڑھتا ہے مگر محکمہ جل شکتی کے آفسران نے کبھی اسکی طرف توجہ نہیں دیا ہے اسلۓ آج ہم گورنر یوٹی اور ڑی سی کپواڑہ سے التجا کرتے ہیں کہ ہماری اس اسکیم کی طرف توجہ دیجیے اور تحقیقات کریں کہ آخر یہ اسکیم ہماری جو سالوں سے چلتی اسکے نام پر جو رقم نکالاجاتا ہے جوکہ ٹھیکداروں اور انجینروں کے لیۓ جو سونے کی کان ہے ہم اسکے لیۓ تحقیقات کی مانگ کررہیے ہیں۔