گلشن کلچرل فورم کشمیر کے جشن سمن بل میں آج دوسرے روز بھی وادی کے اطراف اکناف سے آۓ ہوۓ سرکردہ ادیبوں، شاعروں اور قلمکاروں نے شرکت کی۔ جشن کے دوران کئ ادبی نشستیں منعقد ہوئیں۔ پہلی نشست کی صدارت پروفیسر فاروق فیاض نے کی، ڈاکٹر نذیر آزاد مہمان خصوصی کی حثیت سے صدارتی ایوان میں موجود رہے ۔اس نشست میں جناب شمشاد کرالہ واری اور ڈاکٹر غلام نبی حلیم نے توجہ طلب مقالے پیش کیۓ۔ جن پر سیر حاصلِ بحث ہوئی۔ عنایت گل، رشید صدیقی سید بشیر کوثر، علی شیدا، پروفسر مشتاق زرگر اور خورشید خاموش نے اس حوالے سے اہم سوالات اجاگر کیۓ۔ گلشن بدرنی نے خطبہ استقبالیہ اور فورم کے صدر سید بشیر کوثر نے تحریک شکریہ پیش کیا ۔نظامت کے فرائض خورشید خاموش نے اپنے مخصوص انداز میں انجام دئے ۔اس کے بعد ایک شاندار مشاعرہ منعقد ہوا جس میں سرکردہ شاعروں کے ساتھ ساتھ نوآموز شعراء نے بھی شرکت کی۔ اس مشاعرے کی صدارت وادی کے معروف شاعر اور ساہتیہ اکاڈمی انعام یافتہ مصنف علی شیدا نےکی۔ ان کے ہمراہ ایوان صدارت میں پروفسر مشتاق زرگر ڈاکٹر غلام نبی حلیم اور عنایت گل شامل رہے۔ مشاعرے کی نظامت مقبول شیدا نے کی ۔
واضح رہے گذشتہ روز چند نمایندہ شاعروں نے شہناز رشید کی صدارت میں اپنی تخلیقات ایک خصوصی نشست میں پیش کرکے سامعین کو محضوظ کیا اور آج کے مشاعرے میں جن شعرا نے شرکت کی ان میں ڈاکٹر ادریس بدرنی، عاشق مکہامی، عنایت گل، ڈاکٹر غلام نبی حلیم، مقبول شیدا، رشید صدیقی، ہلال کاشمیری ممتاز گوپھبلی ڈاکٹر نذیر آزاد، گلشن بدرنی،خورشید خاموش،عبدالاحد دلبر، ممتاز گوپھبلی، امین اشرف، لطیف نیازی، غلام نبی ریشی، شفیق کارہامی، عبدال سلام ہمراز، علی محمد چوپان، غلام محمد بینوا، ڈاکٹر روحی جان، غلام رسول چوپان، غلام احمد ریشی، اکبر کلان،احمد وجودی، راحت رفیق، پیر عتیق اللہ، سید بشیر کوثر، عبدالسلام گنائی اور زمرودہ انجمن شامل ہیں۔
اس ادبی جشن کے دوران کافی چہل پہل رہی اور الگ الگ نشستوں میں مباحثوں کے دوران کئ مسائل اجاگر کئے گئے۔ یاد رہے یہ جشن تین روزہ جشن ہے اور آج دوسرے دن کئ ادبی مسائل پر بات ہوئی اور کئ تخلیق کاروں کی تخلیقوں کوکافی سراہا گیا۔

