کرناہ، کپواڑہ:
سرحدی علاقوں میں ڈیجیٹل تعلیم اور ہنر مندی کو فروغ دینے کی جانب ایک اہم قدم اٹھاتے ہوئے معروف سماجی کارکن اور فنکارہ Rouble Nagi نے کرناہ تحصیل کے گاؤں امروہی میں واقع مدرسہ اسلامیہ عربیہ لسان القرآن میں ربل ناگی آرٹ فاؤنڈیشن کے بینر تلے ایک کمپیوٹر اسکل سینٹر کا افتتاح کیا۔
امروہی گاؤں، جو کرناہ تحصیل ہیڈکوارٹر سے تقریباً 10 کلومیٹر دور اور لائن آف کنٹرول (LoC) کے نزدیک واقع ہے، طویل عرصے سے جدید تعلیمی اور تکنیکی سہولیات سے محروم رہا ہے۔ ایسے میں اس کمپیوٹر سینٹر کے قیام کو مقامی لوگوں نے ایک تاریخی اور نہایت اہم قدم قرار دیا ہے۔
یہ مرکز کرناہ وادی میں ربل ناگی آرٹ فاؤنڈیشن کی جانب سے قائم کیا گیا تیسرا اسکل ڈیولپمنٹ سینٹر ہے۔ اس سے قبل مدرسہ روزۃ الصالحات اور مدرسہ شاہ ہمدان میں بھی ایسے مراکز کامیابی کے ساتھ چل رہے ہیں، جہاں طلبہ کو کمپیوٹر کی بنیادی تعلیم اور ڈیجیٹل مہارتوں کی تربیت فراہم کی جا رہی ہے۔
مقامی باشندوں نے کہا کہ امروہی گاؤں میں یہ اپنی نوعیت کا پہلا کمپیوٹر اسکل سینٹر ہے اور اس سے قبل علاقے میں ایسی کوئی سہولت موجود نہیں تھی۔ لوگوں نے فاؤنڈیشن کی کاوشوں کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ منصوبہ بھارتی فوج کے تعاون سے ممکن ہو سکا، جو نوجوان نسل کے روشن مستقبل کے لیے ایک مثبت قدم ہے۔
علاقے کے لوگوں نے Rouble Nagi اور ان کی فاؤنڈیشن کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ دور دراز اور پسماندہ علاقوں تک پہنچ کر تعلیمی اور فلاحی منصوبے شروع کرنا قابلِ ستائش اقدام ہے۔
مقامی افراد کے مطابق اس مرکز میں طلبہ اور نوجوانوں کو کمپیوٹر کی بنیادی تعلیم، ڈیجیٹل لٹریسی، ٹائپنگ، انٹرنیٹ کے استعمال اور دیگر جدید تکنیکی مہارتوں کی تربیت دی جائے گی، جو آج کے دور میں بے حد ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ مرکز دیہی اور شہری علاقوں کے درمیان موجود ڈیجیٹل فرق کو کم کرنے میں مددگار ثابت ہوگا اور نوجوانوں کے لیے تعلیم اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرے گا۔
والدین اور سماجی شخصیات نے بھی اس اقدام پر خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سرحدی علاقوں کے باصلاحیت بچے سہولیات کی کمی کے باعث جدید تعلیم سے محروم رہ جاتے ہیں، تاہم ایسے مراکز ان کے لیے امید کی نئی کرن ثابت ہوں گے۔
علاقے کے عوام نے مزید اپیل کی کہ کرناہ جیسے دور افتادہ علاقوں میں مزید تعلیمی اور ڈیجیٹل منصوبے متعارف کرائے جائیں تاکہ یہاں کے بچے اور نوجوان جدید دنیا کے تقاضوں کے مطابق آگے بڑھ سکیں اور اپنے مستقبل کو روشن بنا سکیں۔
افتتاحی تقریب میں مقامی باشندوں، طلبہ، اساتذہ، سماجی کارکنان اور دیگر معزز شخصیات نے شرکت کی اور اس اقدام کا خیر مقدم کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ یہ مرکز علاقے میں مثبت تعلیمی اور سماجی تبدیلی کا ذریعہ بنے گا۔

