سرینگر/یکم جون (صوفی میڈیا سروسز)وادی کشمیر کے عظیم صوفی و ولی کامل ،مورخ , مصنف اور نعت گو شاعر حضرت میر سید عزیزاللہ حقانیؒ کے 100 واں یوم وصال پر کہی تقاریب کا انعقاد کیا گیا.31 مئی اتوار کی صبح کو انکے مرقد واقع نرپرستان سرینگر میں ایک مجلس منعقد کی گئی جس میں ختمات المعظمات اور ذکر و اذکار کےساتھ ساتھ ایصال ثواب کی اجتماعی دعا کا اہتمام ہوا . بعدمیں خانقاہ حقانیہ سویہ بگ بڈگام میں ایک اور تقریب منعقد ہوئی جس میں تلاوت کلام پاک ختمات المعظمات زکر و اذکار اور درود و سلام کا اہتمام ہوا.صوفی روایت کےمطابق یہاں عام لنگر کا اہتمام ہوا جبکہ رات بھر انکے معتقدین انکا نعتیہ کلام سماعت کرتے رہے. ان مجالس میں عقیدت مندوں اور مریدین کی ایک کثیر تعداد کے ساتھ حقانی میموریل ٹرسٹ کے عہدہ داران و ارکان ,اور ٹرسٹ سے وابستہ تعلیمی اداروں کےطلبا اور مدرسین نے شرکت کی.اس موقعہ پر اس عظیم صوفی ،مورخ , مصنف اور نعت گو شاعرکےعلمی ,دینی اور روحانی کارناموں کو اجاگر کیا گیا۔ٹرسٹ نے حضرت میر سید عزیزاللہ حقانیؒ کے یوم وصال پر انہیں گلہائے عقیدت پیش کیے ہیں ۔حقانی میموریل ٹرسٹ جموں و کشمیر کے سرپرست اعلیٰ و سجادہ نشین خانقاہ حقانیہ جناب سید حمید اللہ حقانی اور جنرل سکریٹری بشیر احمد ڈار نے حضرت میر سید عزیزاللہ حقانیؒ کو گلہاۓ عقیدت پیش کرتے ہوۓ کہا کہ ان کی ہمہ جہت شخصیت کی مثل یہاں کی تاریخ میں ملنا دشوار ہے وہ عظیم عالم دین ، مصنف، مورخ ہونے کے ساتھ ساتھ برگذیدہ صوفی تھے۔انکے نعوت ہاۓ نبیﷺ خصوصاً گو جہان تازہ بہ رخسار رسول عربی ﷺ عالمی شاہکاروں میں شامل کرنے کے لاٸق ہے ۔ کشمیری زبان میں نعت گوٸی کی صنف میں حقانیؒ صاحب سب سے عظیم شاعر تسلیم کیے جاتے ہیں ان کے نعت شریف پڑھنے یا سننے کے بعد قاری ایک عجیب لذت محسوس کرتا ہے اور اسے روحانی آگاہی نصیب ہوجاتی ہے اور پھر اس پر وجد کی کیفیت طاری ہوجاتی ہے ۔ ٹرسٹ کے صدر جناب غلام محمدڈار صاحب نے حضرت حقانی کو گلہاۓ عقیدت پیش کرتے ہوۓ انکی تصانیف ممتاز بے نظیر ، جوہر عشق ، گلدستہ بے نظیر اور روضتہ الشہدا کاحوالہ دے کر اس بات کی وضاحت کی کہ ادب کے یہ شہپارے دراصل تلاش حق اور روحانی سفر کی تماثیل ہیں عام قاری تو ان کو شاعر اور گنایت کے لیے تو پڑھ سکتا ہے مگر یہ ایک سنجیدہ قاری اور راہ حق کے متلاشی کےلیے راہنماٸی کے بہترین زاد راہ ہے انہوں نے سرکاری اور غیرسرکاری اداروں کو حقانیؒ صاحب کی غیر مطبوعہ تخلیقات بہ شمول دیوان حقانی ، برہان المسلمین ، چندرہ بدن ، گلدستہ بنظیر ، چراغ محفل خصوصاً تاریخ عالم کو منظر عام پر لانے کےلیے بارآور اقدام اٹھانے کا مطالبہ کیا ہے
