• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Tuesday, August 4, 2026
JKNS
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
JKNS | Jammu Kashmir News Service
No Result
View All Result
Home اردو خبریں

شوریہ گاتھا کمپلیکس، سادھنا ٹاپ ایل او سی کے ساتھ اہم سیاحتی مراکز کے طور پر ابھر رہے ہیں؛ سیاحوں نے بھارتی فوج کے اقدام کو سراہا

پیرزادہ سعید پیرزادہ زبیر by پیرزادہ سعید پیرزادہ زبیر
August 4, 2026
in اردو خبریں
A A
شوریہ گاتھا کمپلیکس، سادھنا ٹاپ ایل او سی کے ساتھ اہم سیاحتی مراکز کے طور پر ابھر رہے ہیں؛ سیاحوں نے بھارتی فوج کے اقدام کو سراہا
FacebookTwitterWhatsapp

جموں و کشمیر کے ضلع کپواڑہ میں لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے قریب تقریباً 10,500 فٹ کی بلندی پر واقع شوریہ گاتھا کمپلیکس اور سادھنا کیفے تیزی سے اہم سیاحتی مراکز کے طور پر ابھر رہے ہیں۔ یہ مقامات فوجی تاریخ، پہاڑی ثقافتی ورثے اور ہمالیائی خطے کے دلکش قدرتی مناظر کا منفرد امتزاج پیش کرتے ہیں، جس کی وجہ سے بڑی تعداد میں سیاح یہاں کا رخ کر رہے ہیں۔

14 مئی 2026 کو لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے شوریہ گاتھا کمپلیکس کا افتتاح کیا تھا۔ کمپلیکس میں شوریہ گاتھا وار میوزیم، ایک عظیم الشان جنگی یادگار اور پہاڑی کلچر سینٹر قائم کیا گیا ہے، جبکہ اس سے متصل سادھنا کیفے بھی سرحدی علاقے کا دورہ کرنے والے سیاحوں کے لیے ایک مقبول مقام بن چکا ہے۔

وار میوزیم میں ہتھیاروں، فوجی سازوسامان، جنگی یادگاروں اور 1947-48، 1965 اور 1971 کی جنگوں سے متعلق تاریخی نمائشوں کو پیش کیا گیا ہے۔ اس کے علاوہ انسدادِ دہشت گردی کی کارروائیوں میں بھارتی فوج کے کردار کو بھی اجاگر کیا گیا ہے۔ دوسری جانب پہاڑی کلچر سینٹر سرحدی علاقے کی زبان، روایات، موسیقی، رسم و رواج اور ثقافتی شناخت کے تحفظ اور فروغ کے لیے اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ اس منصوبے نے نہ صرف خطے کی تاریخ اور ثقافت کو محفوظ کیا ہے بلکہ کرناہ میں سیاحت اور معاشی ترقی کے لیے نئے مواقع بھی پیدا کیے ہیں۔

ایک مقامی باشندے نے کہا، “یہ کرناہ کے لوگوں کے لیے فخر کا لمحہ ہے۔ پہلے اس علاقے میں بہت کم سیاح آتے تھے، لیکن شوریہ گاتھا کے افتتاح کے بعد ملک کے مختلف حصوں سے لوگ یہاں پہنچ رہے ہیں۔ اس سے ہمارے خطے کو ایک نئی شناخت ملی ہے اور مقامی لوگوں کے لیے روزگار کے مواقع بھی پیدا ہوئے ہیں۔”

ایک اور مقامی باشندے نے کہا کہ یہ کمپلیکس سیاحوں کو مسلح افواج کی قربانیوں کو سمجھنے کے ساتھ ساتھ سرحدی علاقے کے منفرد ثقافتی ورثے سے روشناس ہونے کا موقع فراہم کرتا ہے۔

انہوں نے کہا، “سیاح ایک ہی جگہ پر ہمارے بہادر فوجیوں کی تاریخ اور قربانیوں کو جان سکتے ہیں، پہاڑی ثقافت کے بارے میں معلومات حاصل کر سکتے ہیں اور ٹنگڈھر کے دلکش قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔ ہم ملک بھر کے لوگوں سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ شوریہ گاتھا کا دورہ کریں اور اس خوبصورت مقام کو دریافت کریں۔”

ایک سیاح عادل احمد نے کہا کہ وہ بیرونِ ملک رہتے ہوئے اس مقام کی ویڈیوز دیکھنے کے بعد طویل عرصے سے سادھنا ٹاپ کا دورہ کرنا چاہتے تھے۔

انہوں نے کہا، “سادھنا کیفے کا دورہ کرنے اور یہاں کے دلکش مناظر دیکھنے کے بعد میں واقعی بہت متاثر ہوا۔ کشمیر بے حد خوبصورت ہے اور یہاں سیاحت کی مزید ترقی کی ضرورت ہے۔ میں سیاحوں سے اپیل کرتا ہوں کہ وہ کشمیر کا دورہ کریں کیونکہ یہ مکمل طور پر محفوظ ہے۔ ساتھ ہی میں لوگوں سے درخواست کرتا ہوں کہ صفائی کا خاص خیال رکھیں اور جگہ جگہ کچرا پھینکنے سے گریز کریں۔”

انہوں نے کہا کہ سادھنا کیفے اور دیگر سہولیات کی تعمیر و ترقی کے باعث بڑی تعداد میں سیاح اس علاقے کی جانب متوجہ ہو رہے ہیں، جس سے دور دراز سرحدی خطے میں سیاحت کو فروغ ملا ہے۔

پہاڑی کلچر سینٹر میں بطور ٹورسٹ گائیڈ کام کرنے والی اسما فرید نے کہا کہ یہ مرکز سیاحوں کے لیے ایک اہم کشش بن چکا ہے اور ساتھ ہی علاقے کے بھرپور ثقافتی ورثے کے تحفظ اور فروغ میں بھی اہم کردار ادا کر رہا ہے۔

انہوں نے بتایا کہ وہ سیاحوں کو پہاڑی برادری کی تاریخ، روایات اور طرزِ زندگی کے بارے میں معلومات فراہم کرتی ہیں، جس سے انہیں خطے کی منفرد ثقافتی شناخت کو سمجھنے میں مدد ملتی ہے۔ ان کے مطابق کمپلیکس کے قیام کے بعد سیاحوں کی آمد میں نمایاں اضافہ ہوا ہے اور جموں و کشمیر کے اندرونِ علاقوں کے ساتھ ساتھ بیرونِ ریاست سے بھی بڑی تعداد میں سیاح یہاں پہنچ رہے ہیں۔

بھارتی فوج کا شکریہ ادا کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس منصوبے نے سیاحت کو فروغ دینے، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور ان روایات کے تحفظ میں مدد دی ہے جو وقت کے ساتھ روزمرہ زندگی سے بتدریج ختم ہوتی جا رہی ہیں۔

انہوں نے کہا، “اس کمپلیکس میں پہاڑی کلچر سینٹر، وار میوزیم، سادھنا کیفے اور ان فوجی جوانوں کی یاد میں قائم جنگی یادگار شامل ہے جنہوں نے وطن کی خدمت میں اپنی جانیں قربان کیں۔ یہاں آنے والے لوگ ایک ہی جگہ پر ہماری ثقافت، تاریخ اور قدرتی خوبصورتی سے لطف اندوز ہو سکتے ہیں۔”

ہندواڑہ سے تعلق رکھنے والی ایک سیاح شگفتہ مقبول نے سادھنا ٹاپ پر تیار کیے گئے سیاحتی بنیادی ڈھانچے کو سراہتے ہوئے کہا کہ کیفے، وار میوزیم اور پہاڑی کلچر سینٹر نے سیاحوں کے تجربے کو مزید بہتر بنایا ہے۔

انہوں نے کہا، “کیفے میں اچھا کھانا اور خوشگوار ماحول دستیاب ہے۔ میوزیم اور کلچر سینٹر خاص طور پر نوجوان نسل کو اس خطے کی تاریخ اور ثقافتی ورثے کے بارے میں جاننے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ سادھنا ٹاپ کی قدرتی خوبصورتی بے مثال ہے اور میں سب سے درخواست کرتی ہوں کہ وہ اس مقام کا دورہ کریں۔ بھارتی فوج کی جانب سے اٹھایا گیا یہ اقدام قابلِ تعریف ہے کیونکہ اس سے دور دراز سرحدی علاقے میں سیاحت کو فروغ دینے میں مدد مل رہی ہے۔”

شوریہ گاتھا کمپلیکس اور سادھنا ٹاپ کو اب حب الوطنی، عزم و حوصلے اور ثقافتی فخر کی علامت کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ مقامی باشندوں کو امید ہے کہ سیاحوں کی بڑھتی ہوئی آمد سے مقامی معیشت مزید مضبوط ہوگی اور کرناہ شمالی کشمیر میں ایک نمایاں آف بیٹ سیاحتی مقام کے طور پر اپنی شناخت قائم کرے گا۔

Previous Post

FDA, J&K Conducts 106 Inspections across the UT; 152 Food Samples Collected During Special Enforcement Drive

پیرزادہ سعید پیرزادہ زبیر

پیرزادہ سعید پیرزادہ زبیر

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.