آج کا دور ٹیکنالوجی کا دور ہے، اور موبائل فون ہماری روزمرہ زندگی کا ایک لازمی حصہ بن چکا ہے۔ تعلیم، کاروبار، رابطے اور معلومات کے حصول میں موبائل نے بے شمار سہولتیں فراہم کی ہیں، لیکن ہر نعمت کا غلط یا حد سے زیادہ استعمال نقصان کا باعث بنتا ہے۔ یہی صورتحال آج ہمارے بچوں کے ساتھ بھی دیکھنے کو مل رہی ہے، جہاں موبائل فون سہولت سے بڑھ کر ان کی زندگی پر حاوی ہوتا جا رہا ہے۔
چند سال پہلے بچے اپنا زیادہ تر وقت کھیل کود کے میدانوں، کتابوں اور دوستوں کے ساتھ گزارتے تھے، مگر آج ان کی دنیا موبائل کی چھوٹی سی اسکرین تک محدود ہو چکی ہے۔ گھنٹوں ویڈیوز دیکھنا، آن لائن گیمز کھیلنا اور سوشل میڈیا پر وقت ضائع کرنا ان کا معمول بنتا جا رہا ہے۔ اس کا سب سے بڑا نقصان ان کی جسمانی، ذہنی اور تعلیمی نشوونما پر پڑ رہا ہے۔
طبی ماہرین کے مطابق مسلسل موبائل استعمال کرنے سے بچوں کی بینائی کمزور ہو سکتی ہے، نیند کے مسائل پیدا ہوتے ہیں، گردن اور کمر کے درد کی شکایت بڑھ جاتی ہے اور جسمانی سرگرمیوں میں کمی کی وجہ سے موٹاپا بھی جنم لیتا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ مسلسل اسکرین کے سامنے رہنے سے بچوں میں چڑچڑاپن، بے چینی، توجہ کی کمی اور ذہنی دباؤ بھی پیدا ہو سکتا ہے۔
تعلیمی میدان میں بھی اس کے منفی اثرات نمایاں ہیں۔ بہت سے بچے پڑھائی کے بجائے موبائل پر وقت گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں، جس سے ان کی توجہ، یادداشت اور امتحانی کارکردگی متاثر ہوتی ہے۔ بعض اوقات وہ غیر مناسب مواد یا ایسے آن لائن روابط کا شکار بھی ہو جاتے ہیں جو ان کی شخصیت اور اخلاق پر منفی اثر ڈالتے ہیں۔
خاندانی تعلقات بھی اس رجحان سے متاثر ہو رہے ہیں۔ پہلے خاندان کے افراد ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھ کر گفتگو کرتے تھے، لیکن اب اکثر بچے کھانے کی میز پر بھی موبائل میں مصروف رہتے ہیں۔ اس سے والدین اور بچوں کے درمیان جذباتی تعلق کمزور پڑ سکتا ہے، جو مستقبل میں مزید سنگین مسائل کا سبب بن سکتا ہے۔
یہ کہنا درست نہیں ہوگا کہ موبائل مکمل طور پر نقصان دہ ہے۔ اگر اسے تعلیم، تحقیق، تخلیقی سرگرمیوں اور معلومات کے حصول کے لیے محدود وقت کے ساتھ استعمال کیا جائے تو یہ ایک بہترین ذریعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ اصل مسئلہ اس کا بے جا اور بے قابو استعمال ہے۔
اس صورتحال میں والدین، اساتذہ اور معاشرے کی مشترکہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ بچوں کی مناسب رہنمائی کریں۔ بچوں کے لیے اسکرین ٹائم مقرر کیا جائے، انہیں کھیلوں، کتابوں، مطالعے اور مثبت سرگرمیوں کی طرف راغب کیا جائے، اور والدین خود بھی موبائل کے متوازن استعمال کی مثال قائم کریں۔
کالم نگار
محمد حفیظ میر
Contact No: 7006756956
