کشمیر کو مدت سے ’’جنتِ ارضی‘‘ کہا جاتا ہے، لیکن اس خطے کی شناخت اب صرف برف پوش پہاڑوں، خوبصورت جھیلوں، سرسبز وادیوں اور دلکش مناظر تک محدود نہیں رہی۔ قدرت نے کشمیر کو مہم جوئی اور ایڈونچر سیاحت کے لیے بھی غیر معمولی وسائل عطا کیے ہیں۔ آج یہاں ٹریکنگ، اسکیئنگ، کوہ پیمائی، دریائی کشتی رانی، پیرا گلائیڈنگ، ماؤنٹین بائیکنگ اور کیمپنگ جیسی سرگرمیاں سیاحوں کو اپنی جانب متوجہ کر رہی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر تیزی سے بھارت کے نمایاں مہم جو سیاحتی مقامات میں اپنی جگہ بنا رہا ہے۔کشمیر کو ’’بہترین مہم جو سیاحت‘‘ کے اعزاز سے نوازا جانا بھی اس شعبے میں خطے کی بڑھتی ہوئی اہمیت کا اعتراف ہے۔ یہ اعزاز اس حقیقت کو نمایاں کرتا ہے کہ جموں و کشمیر میں سیاحت کے امکانات محض قدرتی حسن تک محدود نہیں بلکہ یہاں ایسے بے شمار مواقع موجود ہیں جہاں سیاح فطرت کو قریب سے محسوس کرنے کے ساتھ ساتھ مہم جوئی کا تجربہ بھی حاصل کرسکتے ہیں۔ہمالیہ کے دامن میں واقع کشمیر کا جغرافیہ مہم جو سرگرمیوں کے لیے انتہائی موزوں ہے۔ بلند و بالا پہاڑ، برف پوش چوٹیاں، وسیع سبز چراگاہیں، گھنے جنگلات، شفاف دریا اور خوبصورت جھیلیں اس خطے کو منفرد بناتے ہیں۔ موسم سرما میں گلمرگ خاص طور پر اسکیئنگ اور برف سے متعلق کھیلوں کے لیے ملک بھر میں ایک ممتاز مقام بن چکا ہے۔ ملک اور بیرون ملک سے سیاح اور پیشہ ور اسکیئر یہاں کی برف پوش ڈھلوانوں کا رخ کرتے ہیں۔گلمرگ گونڈولا بھی کشمیر کی مہم جو سیاحت کا ایک اہم مرکز بن چکا ہے۔ ایشیا کے بلند ترین اور مقبول کیبل کار نظاموں میں شمار ہونے والا یہ گونڈولا سیاحوں کو بلند پہاڑی علاقوں تک پہنچاتا ہے جہاں برفانی موسم میں اسکیئنگ اور دیگر سرگرمیوں کے امکانات بڑھ جاتے ہیں۔ اس کے علاوہ برفانی ٹریکنگ اور کوہ پیمائی کے شوقین افراد کے لیے بھی یہ علاقہ خاص کشش رکھتا ہے۔موسم بدلنے کے ساتھ کشمیر کی مہم جو سیاحت کی دنیا بھی ایک نیا رنگ اختیار کرتی ہے۔ برف پگھلنے کے بعد سبز میدان، پہاڑی راستے اور شفاف ندی نالے ٹریکنگ اور کیمپنگ کے شوقین افراد کو دعوت دیتے ہیں۔ سونہ مرگ، پہلگام، آرو، لِدر وادی اور بلند ہمالیائی علاقوں میں موجود مختلف راستے قدرتی حسن کے ساتھ مہم جوئی کا منفرد تجربہ فراہم کرتے ہیں۔ خاص طور پر نوجوان سیاح روایتی سیر و تفریح کے بجائے ایسے تجربات کو ترجیح دینے لگے ہیں جن میں فطرت کے ساتھ براہِ راست رابطہ قائم ہو۔دریائی مہم جوئی بھی کشمیر کے سیاحتی امکانات کا ایک اہم حصہ ہے۔ لِدر اور دیگر پہاڑی دریاؤں کے بعض حصے دریائی کشتی رانی کے لیے موزوں ہیں۔ پہلگام کے اطراف میں رافٹنگ سیاحوں کو ایک طرف پہاڑی دریاؤں کی روانی اور دوسری طرف اردگرد کے شاندار قدرتی مناظر سے لطف اندوز ہونے کا موقع فراہم کرتی ہے۔ اس طرح کی سرگرمیاں صرف سیاحوں کے لیے تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ مقامی معیشت کے لیے بھی نئے مواقع پیدا کرتی ہیں۔مہم جو سیاحت کے فروغ کا سب سے اہم فائدہ مقامی نوجوانوں اور دیگر شہریوں کو حاصل ہوسکتا ہے۔ ہوٹل اور گیسٹ ہاؤس مالکان، ٹرانسپورٹروں، مقامی گائیڈز، گھڑ سواری اور ٹریکنگ سے وابستہ افراد، فوٹوگرافروں، ریستوران مالکان اور کھیلوں کے ماہرین سمیت ایک وسیع طبقہ سیاحت سے وابستہ ہے۔ اگر نوجوانوں کو کوہ پیمائی، اسکیئنگ، ابتدائی طبی امداد، بچاؤ کی تکنیک، رہنمائی اور مہمان نوازی کی باقاعدہ تربیت فراہم کی جائے تو وہ اس ابھرتے ہوئے شعبے میں بہتر روزگار حاصل
کرسکتے ہیں۔ضروری ہے کہ مہم جو سیاحت کے فروغ کے ساتھ ماحولیات کے تحفظ کو بھی اولین ترجیح دی جائے۔ ہمالیائی خطہ ماحولیاتی اعتبار سے انتہائی حساس ہے اور بڑھتی ہوئی سیاحتی سرگرمیوں کا غیر محتاط انتظام قدرتی وسائل کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔ کچرے کی مناسب تلفی، آبی وسائل کا تحفظ، غیر ضروری تعمیرات پر قابو، جنگلات کی حفاظت اور علاقوں کی ماحولیاتی گنجائش کو مدنظر رکھنا ناگزیر ہے۔ اسی طرح ہر مہم جو سرگرمی کے لیے حفاظتی اصول، تربیت یافتہ ماہرین، معیاری آلات، موسم کی نگرانی اور ہنگامی امداد کا مؤثر نظام بھی ضروری ہے۔جدید ٹیکنالوجی نے بھی کشمیر کے کم معروف سیاحتی مقامات کو دنیا کے سامنے لانے کے امکانات بڑھا دیے ہیں۔ سماجی رابطوں کی ویب سائٹس، ڈیجیٹل سفری پلیٹ فارم اور نوجوان مواد تخلیق کار کشمیر کی اسکیئنگ، ٹریکنگ، رافٹنگ اور کیمپنگ کے مناظر دنیا بھر تک پہنچا سکتے ہیں۔ اس سے سیاحت کو صرف چند معروف مقامات تک محدود رکھنے کے بجائے نئے علاقوں تک پھیلانے میں مدد مل سکتی ہے، جس کے نتیجے میں مقامی سطح پر روزگار کے مزید مواقع پیدا ہوں گے۔کشمیر کو مہم جو سیاحت کا ایک بڑا مرکز بنانے کے لیے بہتر سڑکیں، مواصلاتی سہولیات، رہائش، طبی مراکز، سیاحتی رہنمائی مراکز اور تربیت یافتہ امدادی ٹیموں کی ضرورت برقرار رہے گی۔ اس کے ساتھ ساتھ سیاحت کا ایسا ماڈل اختیار کرنا ہوگا جس میں مقامی آبادی اس کے فوائد کی براہِ راست شریک ہو۔کشمیر کے لیے ’’بہترین مہم جو سیاحت‘‘ کا اعزاز یقیناً ایک اہم حوصلہ افزائی ہے، لیکن اصل کامیابی اس وقت ہوگی جب مہم جو سیاحت محفوظ، ماحول دوست اور مقامی لوگوں کے لیے معاشی طور پر فائدہ مند بنے۔ کشمیر کے پہاڑ، دریا، برفانی ڈھلوانیں اور سبز چراگاہیں اسے بھارت کا ایک ممتاز ایڈونچر مرکز بنانے کی مکمل صلاحیت رکھتے ہیں۔ ضرورت صرف اس قدرتی سرمایہ کو دانشمندانہ منصوبہ بندی، ذمہ دار سیاحت اور مقامی نوجوانوں کی شمولیت کے ساتھ آگے بڑھانے کی ہے۔ یوں کشمیر صرف ہمالیہ کا نظارہ کرنے کی منزل نہیں بلکہ اسے قریب سے محسوس اور دریافت کرنے کا ایک منفرد تجربہ بن سکتا ہے۔