قارئین ، کشمیر کو قدرتی حسن کی سرزمین کہا جائے یا متنوع تہذیبوں اور روایات کا گہوارہ، دونوں ہی تعارف اس خطے کی حقیقی تصویر پیش کرتے ہیں۔ بلند پہاڑوں، سرسبز وادیوں، جھیلوں اور بہتے چشموں کے ساتھ ساتھ کشمیر کی اصل خوبصورتی اس کی ثقافتی گوناگونی میں بھی پوشیدہ ہے۔ یہاں مختلف مذاہب اور برادریوں سے تعلق رکھنے والے لوگ صدیوں سے اپنی اپنی روایات اور تہواروں کے ذریعے اپنی ثقافتی شناخت کو زندہ رکھے ہوئے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ کشمیر میں منائے جانے والے تہوار محض مذہبی رسومات تک محدود نہیں بلکہ سماجی میل جول، باہمی احترام، خوشی اور ثقافتی اظہار کا بھی ذریعہ ہیں۔عیدالفطر کشمیر کے اہم تہواروں میں شامل ہے جو ماہِ رمضان کے اختتام پر منائی جاتی ہے۔ رمضان کے پورے مہینے میں روزہ، عبادت، تلاوت، خیرات اور خود احتسابی کا سلسلہ جاری رہتا ہے اور پھر عیدالفطر خوشی اور شکرانے کے دن کے طور پر آتی ہے۔ عید کی صبح لوگ نئے یا صاف ستھرے لباس زیب تن کرکے مساجد اور عیدگاہوں کا رخ کرتے ہیں اور نمازِ عید ادا کرتے ہیں۔ اس کے بعد رشتہ داروں اور دوستوں سے ملاقات، مبارک باد اور تحائف کے تبادلے کا سلسلہ شروع ہوتا ہے۔ گھروں میں مختلف روایتی پکوان تیار کیے جاتے ہیں اور ضرورت مندوں کو بھی خوشیوں میں شریک کیا جاتا ہے۔ کشمیر کے مخصوص کھانوں میں وازوان کو بھی خاص اہمیت حاصل ہے، جو مہمان نوازی اور کشمیری کھانے کی روایتی شان کی علامت سمجھا جاتا ہے۔عیدالاضحیٰ بھی کشمیری مسلمانوں کے لیے بڑی مذہبی اور سماجی اہمیت رکھتی ہے۔ یہ حضرت ابراہیمؑ کی اللہ کی رضا کے لیے عظیم قربانی کے جذبے کی یاد دلاتی ہے۔ اس موقع پر صاحبِ استطاعت مسلمان جانور قربان کرتے ہیں اور قربانی کا گوشت خاندان، رشتہ داروں، دوستوں اور ضرورت مندوں میں تقسیم کیا جاتا ہے۔ اس تہوار کا بنیادی پیغام ایثار، قربانی اور دوسروں کو اپنی خوشیوں میں شریک کرنا ہے۔ کشمیر میں بھی عیدالاضحیٰ کے موقع پر گھروں اور بازاروں میں خاص رونق دیکھنے کو ملتی ہے اور لوگ مذہبی فرائض کی ادائیگی کے ساتھ سماجی تعلقات کو بھی مضبوط بناتے ہیں۔کشمیر میں کشمیری پنڈت برادری کا تہوار شیو راتری، جسے مقامی طور پر ’’ہیرتھ‘‘ کہا جاتا ہے، بھی خصوصی اہمیت رکھتا ہے۔ یہ تہوار بھگوان شیو سے منسوب ہے اور کشمیری پنڈت خاندان اسے عقیدت و احترام کے ساتھ مناتے ہیں۔ اس موقع پر خصوصی عبادات، رسومات اور بعض مقامات پر رات بھر مذہبی سرگرمیوں کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ روزے اور عبادت کے ساتھ روایتی کھانوں کی تیاری بھی اس تہوار کا ایک اہم حصہ ہے۔ کشمیری شیو راتری کی ایک نمایاں خصوصیت ’’واتک‘‘ نامی خصوصی ضیافت ہے جس میں مختلف سبزی خور اور غیر سبزی خور پکوان شامل ہوتے ہیں۔ یوں مذہبی عقیدت کے ساتھ کشمیری کھانوں کی روایت بھی اس تہوار کے ذریعے نسل در نسل منتقل ہوتی ہے۔نوروز، جسے فارسی نئے سال کے طور پر جانا جاتا ہے، بھی کشمیر کی متنوع تہذیبی زندگی میں اپنا ایک منفرد رنگ رکھتا ہے۔ اسے نئے آغاز اور نئی امید کی علامت تصور کیا جاتا ہے اور بعض برادریاں اسے خصوصی جوش و خروش سے مناتی ہیں۔ اس موقع پر لوگ گھروں کی صفائی اور آرائش کرتے ہیں، نئے کپڑے پہنتے ہیں اور ایک دوسرے سے ملاقات کرتے ہیں۔ مختلف روایتی پکوان، مٹھائیاں اور خشک میوہ جات بھی اس تہوار کا حصہ ہوتے ہیں۔ نئے سال کی آمد سے وابستہ یہ روایات زندگی میں خوشی، امید اور تازگی کا احساس پیدا کرتی ہیں۔بیساکھی بنیادی طور پر سکھ برادری کا ایک اہم تہوار ہے اور پنجاب میں اسے نئے سال اور فصل کی کٹائی کے تہوار کے طور پر بھی منایا جاتا ہے۔ کشمیر میں بھی سکھ برادری اس دن کو مذہبی عقیدت اور خوشی کے ساتھ مناتی ہے۔ گردواروں میں خصوصی دعائیں، کیرتن اور دیگر مذہبی پروگرام منعقد ہوتے ہیں جبکہ لوگ اجتماعی طور پر لنگر میں شریک ہوتے ہیں۔ لنگر کی روایت سماجی مساوات اور دوسروں کے ساتھ مل بیٹھ کر کھانا کھانے کے جذبے کو فروغ دیتی ہے۔ اس طرح بیساکھی مذہبی تہوار ہونے کے ساتھ سماجی میل جول کا بھی اہم ذریعہ بن جاتی ہے۔لداخ میں منعقد ہونے والا ہیمس فیسٹیول بھی خطے کی بدھ مت سے وابستہ ثقافتی روایات کی ایک خوبصورت مثال ہے۔ ہیمس خانقاہ میں منعقد ہونے والی اس تقریب میں بدھ مت کی مذہبی روایات اور فنون کا اظہار ہوتا ہے۔ روایتی نقاب پوش رقص، موسیقی اور مذہبی رسومات اس تہوار کی خاص کشش ہیں۔ اس موقع پر ایک بڑے مذہبی فن پارے کی نمائش بھی کی جاتی ہے۔ ہیمس فیسٹیول اپنی منفرد ثقافتی پیشکش کی وجہ سے نہ صرف مقامی لوگوں بلکہ سیاحوں کے لیے بھی خاص دلچسپی کا باعث بنتا ہے۔کشمیر میں چند تہوار ایسے بھی ہیں جنہوں نے نسبتاً کم عرصے میں سیاحتی اور ثقافتی شناخت حاصل کی ہے۔ سری نگر کا ٹیولپ فیسٹیول اس کی نمایاں مثال ہے۔ ہر سال موسمِ بہار میں اندرا گاندھی میموریل ٹیولپ گارڈن میں ہزاروں رنگ برنگے ٹیولپس کھلتے ہیں اور پورا علاقہ ایک دلکش منظر پیش کرتا ہے۔ اس دوران بڑی تعداد میں سیاح کشمیر کا رخ کرتے ہیں۔ پھولوں کی نمائش کے ساتھ ثقافتی پروگرام، مقامی دستکاریوں کے اسٹال اور مختلف کھانے پینے کے مراکز بھی قائم کیے جاتے ہیں۔ اس طرح ٹیولپ فیسٹیول نے کشمیر کی سیاحتی سرگرمیوں میں ایک نیا رنگ شامل کیا ہے اور مقامی ثقافت و معیشت کو بھی فروغ دینے میں مدد دی ہے۔تلہ مولہ میں واقع کھیر بھوانی مندر میں منعقد ہونے والا میلہ بھی کشمیری ہندو برادری کا ایک اہم مذہبی اجتماع ہے۔ عقیدت مند یہاں دیوی رگنیا دیوی کی عبادت کے لیے جمع ہوتے ہیں۔ مندر کے مقدس چشمے کے پانی کے رنگ سے متعلق مختلف روایتی عقائد بھی اس مقام کی مذہبی اہمیت کو مزید نمایاں کرتے ہیں۔ اس موقع پر خصوصی دعائیں اور نذرانے پیش کیے جاتے ہیں جبکہ دودھ اور کھیر چڑھانے کی روایت بھی موجود ہے۔ میلے کے دوران بڑی تعداد میں عقیدت مند ایک دوسرے سے ملتے ہیں اور مذہبی و سماجی سرگرمیوں میں حصہ لیتے ہیں۔لوہڑی بھی کشمیر میں بعض سکھ اور ہندو خاندانوں کے ذریعے منایا جانے والا ایک روایتی تہوار ہے۔ یہ سردیوں کے اختتام اور فصلوں کے نئے موسم کی آمد سے وابستہ ہے۔ لوگ الاؤ کے گرد جمع ہوتے ہیں، روایتی گیت گاتے ہیں اور مختلف روایتی اشیا سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔ تل، گڑ، مکئی اور گنے سے تیار ہونے والی چیزیں اس موقع پر خصوصی طور پر پسند کی جاتی ہیں۔ لوہڑی کی محفلیں خاندان اور دوستوں کو ایک جگہ جمع ہونے اور خوشیاں بانٹنے کا موقع فراہم کرتی ہیں۔رمضان المبارک کشمیر کے مسلمانوں کے لیے صرف روزوں کا مہینہ نہیں بلکہ عبادت، روحانی غوروفکر، صبر، سخاوت اور دوسروں کی مدد کا ایک اہم دور بھی ہے۔ پورے کشمیر میں اس ماہ کے دوران مساجد میں خصوصی رونق رہتی ہے اور سحری و افطاری کے اوقات میں گھروں اور بازاروں کا ماحول بدل جاتا ہے۔ رمضان کے آخری عشرے میں شبِ قدر کی راتیں خصوصی عبادت اور دعا کے ساتھ گزاری جاتی ہیں۔ مسلمانوں کے عقیدے کے مطابق یہ وہ بابرکت رات ہے جس میں قرآنِ مجید کے نزول کا آغاز ہوا۔ اس رات عبادت، تلاوت اور دعا کا خصوصی اہتمام کیا جاتا ہے۔رنگوں کا تہوار ہولی بھی کشمیر کی تہذیبی گوناگونی میں اپنا ایک خوبصورت مقام رکھتا ہے۔ خصوصاً ہندو برادری اس تہوار کو جوش و خروش سے مناتی ہے۔
لوگ ایک دوسرے کو رنگ لگاتے ہیں، روایتی کھانے تیار کرتے ہیں، خوشی کا اظہار کرتے ہیں اور مختلف ثقافتی سرگرمیوں میں شریک ہوتے ہیں۔ ہولی کو برائی پر اچھائی کی فتح اور موسمِ بہار کی آمد کی علامت بھی سمجھا جاتا ہے۔ رنگوں سے بھرپور یہ تہوار ماحول میں خوشی اور تازگی پیدا کرتا ہے۔کشمیر کے یہ مختلف تہوار دراصل اس خطے کی وسیع ثقافتی روایت کا آئینہ ہیں۔ یہاں عید کی روحانی خوشیاں ہوں، ہیرتھ کی مذہبی عقیدت، بیساکھی کا اجتماعی جذبہ، ہولی کے رنگ، لوہڑی کی روایتی رونق، کھیر بھوانی کی مذہبی عقیدت یا ٹیولپ فیسٹیول کی بہار، ہر تہوار کشمیر کی تہذیبی زندگی میں ایک الگ رنگ شامل کرتا ہے۔ ان تہواروں کی اہمیت صرف مذہبی عبادات اور رسومات تک محدود نہیں بلکہ یہ خاندانوں کو قریب لاتے، سماجی رشتوں کو مضبوط کرتے اور لوگوں کو اپنی ثقافتی جڑوں سے جوڑتے ہیں۔کشمیر کی خوبصورتی صرف اس کے پہاڑوں، جھیلوں اور باغات میں نہیں بلکہ اس کے لوگوں کی روایات، مہمان نوازی، ثقافتی تنوع اور باہمی میل جول میں بھی پوشیدہ ہے۔ مختلف برادریوں کے تہوار اس بات کا مظہر ہیں کہ ثقافتی گوناگونی کسی بھی معاشرے کی کمزوری نہیں بلکہ اس کی طاقت بن سکتی ہے۔ یہی رنگا رنگ تہوار کشمیر کی شناخت کو مزید منفرد بناتے ہیں اور آنے والی نسلوں کے لیے ایک ایسا ثقافتی ورثہ چھوڑتے ہیں جس کی حفاظت اور منتقلی سب کی مشترکہ ذمہ داری ہے۔