• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Saturday, August 15, 2026
JKNS
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
JKNS | Jammu Kashmir News Service
No Result
View All Result
Home Article

کون کہلانے کا حق رکھتا ہے ’چینج میکر‘؟

TEDxDalLake میں ہندوستان کے خاموش تبدیلی سازوں پر گفتگو

JKNS by JKNS
August 15, 2026
in Article
A A
From Kashmir to India: Stories That Deserve to Be Heard
FacebookTwitterWhatsapp

سرینگر، 14 اگست: TEDxDalLake نے اس سال
’’Changemakers of India‘‘
کے عنوان سے ایسے افراد کی خدمات اور جدوجہد کو مرکزِ گفتگو بنایا ہے جو اپنے اپنے شعبوں میں مثبت تبدیلی لانے کے لیے مسلسل کام کر رہے ہیں۔ تاہم اس موضوع کے ساتھ ایک بنیادی سوال بھی سامنے آتا ہے کہ آخر ’چینج میکر‘ کسے کہا جائے؟ کیا تبدیلی لانے والا وہی شخص ہے جو شہرت، اختیار، دولت یا غیر معمولی کامیابی رکھتا ہو، یا وہ عام انسان بھی اس کا حق دار ہے جو خاموشی سے اپنے اردگرد کی دنیا کو بہتر بنانے کی کوشش کرتا ہے؟
مصنفہ نوحہ حارث کے مطابق، ہم اکثر تبدیلی لانے والوں کا تصور غیر معمولی اور بااثر شخصیات کے طور پر کرتے ہیں، لیکن حقیقت میں ایک چینج میکر وہ بھی ہو سکتا ہے جس کے عمل سے صرف ایک فرد، ایک خاندان، ایک کلاس روم یا ایک چھوٹی سی برادری کی زندگی بدل جائے۔ ایک ماں جو اپنے بچوں کے بہتر مستقبل کے لیے قربانیاں دیتی ہے، ایک استاد جو طلبہ کو کتابی علم کے ساتھ ایمانداری اور انسانیت کا درس دیتا ہے، ایک سماجی کارکن جو ضرورت مندوں کے لیے مسلسل موجود رہتا ہے، ایک کسان جو روایتی طریقوں سے ہٹ کر نئے تجربات کرتا ہے، یا وہ شخص جو کسی غلط چیز کو دیکھ کر خاموش رہنے سے انکار کر دے—یہ سب اپنے اپنے انداز میں تبدیلی کے علمبردار ہیں۔
مضمون میں کہا گیا ہے کہ تبدیلی کا کوئی پیمانہ مقرر نہیں کیا جاسکتا۔ اہمیت ہمیشہ اس بات کی نہیں ہوتی کہ اثر کتنا بڑا ہے، بلکہ اس بات کی ہوتی ہے کہ کوئی شخص تبدیلی لانے کے لیے قدم اٹھانے پر آمادہ ہے یا نہیں۔ تبدیلی اس وقت شروع ہوتی ہے جب کوئی شخص یہ ماننے سے انکار کردے کہ ’’چیزیں ہمیشہ سے ایسی ہی رہی ہیں۔‘‘ یہ اس وقت بھی جنم لیتی ہے جب کوئی فرد ان تصورات اور روایات پر سوال اٹھاتا ہے جنہیں معاشرہ معمول سمجھ کر قبول کرچکا ہو۔
مصنفہ کے مطابق ہندوستان میں خیالات، صلاحیتوں اور تخلیقی سوچ کی کوئی کمی نہیں، تاہم مسئلہ اکثر یہ ہوتا ہے کہ ہم کسی مسئلے کو پہچاننے اور اس کے حل کے لیے عملی قدم اٹھانے کے درمیان رک جاتے ہیں۔ ’’میرے ایک قدم سے بھلا کیا فرق پڑے گا؟‘‘ کا خیال تبدیلی کی راہ میں ایک بڑی رکاوٹ بن جاتا ہے۔ لوگ اکثر اپنے عمل کی طاقت کو اس لیے کم سمجھتے ہیں کیونکہ اس کے فوری نتائج دکھائی نہیں دیتے، حالانکہ حقیقی تبدیلی ہمیشہ فوری طور پر نظر نہیں آتی۔
مضمون میں اس بات پر بھی زور دیا گیا ہے کہ آگاہی اور عمل دو الگ چیزیں ہیں۔ کسی مسئلے کے بارے میں جاننا اسے حل نہیں کرتا، اس پر گفتگو کرنا بھی کافی نہیں اور سوشل میڈیا پر کسی مسئلے سے متعلق پوسٹ شیئر کرنا بھی خود بخود ہمیں اس کے حل کا حصہ نہیں بناتا۔ آگاہی ہماری آنکھیں کھول سکتی ہے، لیکن تبدیلی کے لیے قدم اٹھانا ضروری ہے۔
مصنفہ کہتی ہیں کہ معاشرے میں تبدیلی لانے کی کوشش کرنے والوں کے لیے راستہ ہمیشہ آسان نہیں ہوتا۔ انہیں سوالات، تنقید اور بعض اوقات مذاق کا سامنا بھی کرنا پڑتا ہے۔ تاہم حقیقی تبدیلی کے خواہاں افراد شکایت کرنے کے بجائے حل تلاش کرنے، تنقید کے بجائے تعمیر کرنے، ختم ہوتی روایات کو محفوظ رکھنے اور ان چیزوں کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں جو اب تبدیل ہونی چاہئیں۔
کشمیر میں بھی ایسے بے شمار خاموش تبدیلی ساز موجود ہیں۔ وادی کے بارے میں عام طور پر سامنے آنے والی خبروں اور بیانیوں سے ہٹ کر ایسے افراد مسلسل تخلیق، تعمیر، تحفظ اور جدت کے شعبوں میں کام کر رہے ہیں۔ کاروباری افراد روزگار کے مواقع پیدا کر رہے ہیں، فنکار اور دستکار روایتی ہنر کو زندہ رکھے ہوئے ہیں، اساتذہ نئی نسل کی تربیت کر رہے ہیں، کسان نئے تجربات کر رہے ہیں، نوجوان ٹیکنالوجی کے ذریعے مقامی مسائل کے حل تلاش کر رہے ہیں جبکہ کئی افراد اپنی برادریوں میں روزمرہ زندگی کو بہتر بنانے کے لیے خاموشی سے کام کر رہے ہیں۔
نوحہ حارث کے مطابق ان میں سے بہت سی کہانیاں شاید کبھی قومی سطح پر نہ پہنچ سکیں، اور یہی وہ مقام ہے جہاں TEDxDalLake جیسے پلیٹ فارم کی اہمیت بڑھ جاتی ہے۔ کوئی پلیٹ فارم کسی شخص کو چینج میکر نہیں بناتا بلکہ اس کے کام کو ایک وسیع سامعین تک پہنچنے کا موقع فراہم کرتا ہے۔ ایک شخص سے شروع ہونے والا خیال سینکڑوں یا ہزاروں کلومیٹر دور کسی دوسرے فرد کو متاثر کرسکتا ہے اور اسے یہ یقین دلا سکتا ہے کہ تبدیلی اس کے لیے بھی ممکن ہے۔
’’Changemakers of India‘‘
محض متاثر کن کہانیوں کا مجموعہ نہیں بلکہ یہ ہمیں اپنے اردگرد موجود لوگوں اور خود اپنے کردار کو نئے زاویے سے دیکھنے کی دعوت دیتا ہے۔ یہ تصور روایتی ہیرو کی تعریف سے آگے بڑھتے ہوئے اس حقیقت کو تسلیم کرتا ہے کہ تبدیلی غیر متوقع مقامات اور عام لوگوں کے ذریعے بھی آسکتی ہے۔
مضمون میں اس بات کی جانب بھی توجہ دلائی گئی ہے کہ کشمیر کی تخلیقی صلاحیت، ثابت قدمی، کاروباری جذبہ اور جدت کی کئی کہانیاں مقامی سطح تک محدود رہ جاتی ہیں۔ TEDxDalLake ان کہانیوں کو وسیع دنیا تک پہنچانے کے لیے ایک پل کا کردار ادا کرسکتا ہے، تاہم اصل مقصد اس وقت پورا ہوگا جب اسٹیج کی روشنیاں بجھنے کے بعد بھی ان خیالات کو عملی زندگی میں آگے بڑھایا جائے۔
مضمون کا اختتام ایک اہم سوال کے ساتھ ہوتا ہے: ’’ہیرو‘‘ کہہ کر کسی فرد کو خراجِ تحسین پیش کرنا کافی ہے یا ہمیں اس کے کام کو اپنانا، اس کی حمایت کرنا اور اسے آگے بڑھانا چاہیے؟ کیونکہ تبدیلی ہمیشہ کسی اسٹیج پر زندہ نہیں رہ سکتی۔ کسی خیال کی اصل قدر اس وقت سامنے آتی ہے جب وہ اس کمرے سے باہر نکل کر عملی زندگی کا حصہ بنے۔
آخر میں مصنفہ قارئین کو یہ سوچنے کی دعوت دیتی ہیں کہ سوال صرف یہ نہیں ہونا چاہیے کہ ’’کون چینج میکر کہلانے کا حق رکھتا ہے؟‘‘ بلکہ اصل سوال یہ ہے کہ ’’میں کون سی تبدیلی لا سکتا ہوں؟‘‘
شاید اس سوال کا جواب ہم میں سے ہر ایک کے اندر موجود ہے۔

Previous Post

Five IPS Officers Relieved from Delhi for J&K Posting

JKNS

JKNS

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.