عوام کا ناقص طرزِ عمل اور انتظامیہ کی خاموشی باعث تشویش، ذمہ داروں اور مؤثر اقدامات اٹھانا ناگزیر
پانی اللہ تعالیٰ کی نعمتوں میں سے ایک عظیم نعمت ہے اور پانی کی قدر کرنا ہماری ذمہ داری ہی نہیں بلکہ ایک اہم فریضہ بھی ہے۔ پانی کی اہمیت اور ضرورت کتنی ہے یہ کسی ذی شعور انسان سے پوشیدہ نہیں۔ سال بہ سال جس طرح ہماری پہاڑوں سے نکلتا ہے اور اس پورے علاقے کو سیراب کرنے کے ساتھ ساتھ وادی کرناہ کی خوبصورتی کی شہتائی کے اس کے کناروں پر آبادیاں کوڑا کرکٹ ڈالنے میں بے لگام ہوتی ہیں۔ اور یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ اس کے کناروں کو کوڑا دان اور ڈمپنگ کا بنایا گیا ہے جبکہ اس میں گندگی ڈالنے کی وجہ سے اس کا پانی گند آلودہ ہوا ہے۔ سرکاری سطح پر اس کی طرف کوئی توجہ نہیں دی جاتی حالانکہ اس قومی اثاثے کو بچانا حکومت کی ذمہ داری ہے۔ آج سے تقریباً دو ڈھائی قبل اس نالے کی حالت یہ تھی کہ اس کا پانی پینے کے ساتھ ساتھ وضو، طہارت اور دیگر ضروریات کے لیے بھی بغیر کسی شک و شبہے کے استعمال ہوتا تھا۔ لیکن آج اس پانی کی حالت ہے کہ لوگ ہاتھ لگانا بھی پسند نہیں کرتے۔ اس لیے کہ اس کا پانی گند آلود اور باعثِ مرض بن گیا ہے۔ اس لیے کہ تمام کوڑا کرکٹ حتیٰ کہ گھروں کے بیت الخلاء اور باتھ روموں کا پانی بھی اسی نالے میں ڈالا جاتا ہے۔
اس ضمن میں علاقے کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھنے والے کئی حساس حضرات نے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ نالہ ہمارے لیے قومی اثاثہ ہے لیکن جو لوگ اس کے اندر اور اس کے کناروں پر کوڑا کرکٹ ڈالتے ہیں ان کو یہ احساس نہیں ہوتا کہ وہ کس عظیم گناہ کے مرتکب ہو رہے ہیں۔
لہٰذا اس کے خلاف مؤثر اقدامات اٹھائے جائیں۔ اور اس نالے یعنی بتہ ماجی کے کناروں پر کوڑا کرکٹ ڈالنے پر مکمل پابندی عائد کی جائے اور ملوث افراد کے خلاف کارروائی عمل میں لائی جائے تاکہ ہمارے اس قومی اثاثے کا تحفظ یقینی بن سکے کیونکہ ہماری غفلتِ شعاری کی وجہ سے ایسا نہ ہو کہ یہ عظیم نعمت ہم سے چھن جائے جیسا کہ کئی دہیات کا تپہ ہمارے سامنے ہے کہ لوگ ایک ایک پانی کی بوند کے لیے ترستے ہیں لیکن خود غرض اور ناشائستہ لوگوں کو اس کا کوئی احساس نہیں ہے۔ انتظامیہ سے گزارش ہے کہ اس کی طرف توجہ دی جائے اور گندگی کو ٹھکانے لگانے کے لیے مخصوص جگہوں کا تعین کیا جائے۔
از قلم
مفتی عتاالرحمن قاسمی
