• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Wednesday, September 16, 2026
JKNS
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
JKNS | Jammu Kashmir News Service
No Result
View All Result
Home اردو خبریں

ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس (قسط :3)

محمد سلیم سالک by محمد سلیم سالک
September 16, 2026
in اردو خبریں
A A
ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس (قسط :3)
FacebookTwitterWhatsapp

پنڈال میں داخل ہوتے ہی میری نظر سب سے پہلے سامنے کی صف پر پڑی۔ دائیں جانب ڈاکٹر ستیش ومل، پروفیسر شیخ محمد اعجاز، محترم عبدالاحد حاجنی ،جناب بشیر بھوانی،ڈاکٹر غلام نبی حلیم ,پروفیسر شفیع سنبھلی اور جناب سعد الدین سعدی تشریف فرما تھے۔ شوکت صاحب اور میں نے باری باری سب سے مصافحہ کیا۔ ان شناسا چہروں کے درمیان بیٹھ کر یوں محسوس ہوا جیسے کسی اجنبی محفل میں نہیں بلکہ اپنے ہی ادبی گھرانے کی کسی نشست میں آبیٹھے ہوں۔
پہلی صف کے عین درمیان ایک صوفہ خالی تھا۔ کسی نے محبت سے ہمیں وہاں آکر بیٹھنے کی دعوت دی۔ میں شاید اس پیش کش کو قبول کرنے ہی والا تھا کہ شوکت صاحب نے اچانک میرا ہاتھ پکڑ لیا اور بڑے معنی خیز انداز میں کہا:
“سالکؔ وہاں نہیں بیٹھنا چاہیے… جہاں سے کوئی اٹھائے۔”
بات بظاہر بہت معمولی تھی، مگر نہ جانے کیوں شوکت صاحب کا یہ جملہ اسی لمحے میرے ذہن میں بیٹھ گیا۔ شاید اس لیے کہ بعض لوگ زندگی کے تجربات سے ایسی چھوٹی چھوٹی باتیں کشید کرلیتے ہیں جن میں ایک پوری سیکھ چھپی ہوتی ہے۔ ہم خاموشی سے دوسری صف میں رکھی ہوئی کرسیوں پر جابیٹھے۔
سامنے اسٹیج پر کشمیری موسیقی نے سماں باندھ رکھا تھا۔ گلوکار کی آواز میں ایسی عجیب کشش تھی کہ پنڈال میں موجود ہر شخص جیسے اپنی جگہ تھم گیا تھا۔ باتیں رک گئیں، ادھر ادھر کی نظریں بھی یکسو ہوگئیں اور سب لوگ ہمہ تن اس آواز کو سننے لگے۔میں نے قریب کھڑے ایک کارکن سے گلوکار کا نام پوچھا تو معلوم ہوا کہ وہ محمد اسلم سادناری ہیں۔جانبازکشتواری کا کلام اور اسلم سادناری کی آواز…… دونوں کا یہ امتزاج میرے لیے ایک نئے ذائقے کا احساس تھا۔ کشمیری شاعری کے لفظ جب اسلم سادناری کی آواز میں ڈھل رہے تھے تو محسوس ہورہا تھا کہ چھکری محض ایک روایتی صنف نہیں، بلکہ آج بھی اپنے اندر ایک زندہ جمالیاتی قوت رکھتی ہے۔میں نے ایک نظر شوکت صاحب کی طرف دیکھا۔وہ آنکھیں بند کیے عالمِ استغراق میں ڈوبے ہوئے تھے۔ چہرے سے صاف محسوس ہورہا تھا کہ وہ آواز کو صرف سن نہیں رہے، جذب کررہے ہیں۔
مگر اس روحانی کیفیت کے ساتھ ایک اور حقیقت بھی بڑی شدت سے محسوس ہورہی تھی……بھوک!۔۔۔صبح سے کچھ کھایا نہیں تھا اور اب چھکری کی آواز جتنی دل کو اپنی طرف کھینچ رہی تھی، بھوک بھی اتنی ہی شدت سے اپنی موجودگی کا احساس دلا رہی تھی۔ ادب، موسیقی اور روحانی سرشاری اپنی جگہ… مگر آخر پیٹ بھی کوئی چیز ہے!۔۔اسی کشمکش میں اچانک میری نظر ساتھ والی کرسی پر بیٹھے ڈاکٹر علی محمد نشترپر پڑی۔ میں نے ازراہِ مذاق ان سے پوچھ ہی لیا:
“نشترصاحب! مہمانوں کے لیے کھانے کا کچھ انتظام ہے یا ہم صرف ادب سے ہی کام چلایا جائے گا ؟”
نشتر صاحب نے مسکراتے ہوئے میری طرف دیکھا اور نہایت اطمینان سے فرمایا:
“سالک صاحب، تھوڑا صبر کیجیے، ابھی قہوے کا انتظام ہوجائے گا۔”
قہوے کا نام سنتے ہی دل کو کچھ اطمینان ہوا۔ کشمیر میں قہوہ صرف ایک مشروب نہیں، مہمان نوازی کی ایک پوری روایت کا نام ہے۔ اس وقت مجھے بھی محسوس ہوا کہ ابھی ادب کے ساتھ کچھ قہوہ بھی میسر آجائے گا تو کانفرنس کی سہ پہر کچھ اور حسین ہوجائے گی۔
علی محمد نشتر صاحب سے میری شناسائی کوئی نئی نہیں ہے۔ انہیں تقریباً سولہ برس سے جانتا ہوں۔ اکیڈمی کے “ہم عصرتھیٹرنمبر” میں ان کا ایک مضمون شائع ہوا تھا اور مجھے اس کی پروف ریڈنگ کرنے کا موقع ملاتھا۔ مضمون پڑھتے ہوئے پہلی مرتبہ مجھے اندازہ ہوا کہ موصوف کشمیری ڈرامے کی روایت پر خاصی گہری نظر رکھتے ہیں۔
بعد میں مزید معلوم ہوا کہ انہوں نے پی ایچ ڈی کا مقالہ بھی کشمیری ڈرامے کے موضوع پر تحریر کیا ہے۔ جب بھی ملاقات ہوتی ہے، نشتر صاحب ہمیشہ اپنائیت سے ملتے ہیں۔ ان کی گفتگو میں ایک ایسی شائستگی ہے جو آج کے ادبی ماحول میں کم کم دکھائی دیتی ہے۔
البتہ ان سے میری ایک پرانی شکایت بھی ہے۔ہر ملاقات میں دل چاہتا ہے کہ یہ شکایت ان کے سامنے رکھ دوں کہ کاش نشتر صاحب نے اپنی تمام تر علمی توانائی صرف کشمیری ڈرامے کے لیے وقف کی ہوتی! شاید ہمارے یہاں ڈرامے کو ایک ایسا سنجیدہ اور صاحبِ نظر نقاد میسر آجاتا جس کی کمی آج بھی شدت سے محسوس ہوتی ہے۔یہ خیال آتے ہی مجھے محسوس ہوا کہ ہماری ادبی دنیا میں بعض لوگوں کے پاس صلاحیت بھی ہوتی ہے، مطالعہ بھی اور موضوع سے گہرا شغف بھی، مگر زندگی انہیں کئی سمتوں میں بانٹ دیتی ہے۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ بہت کچھ کر تو لیتے ہیں، مگر شاید وہ ایک بڑا کام نہیں کرپاتے جس کے لیے ان کے اندر اصل صلاحیت موجود ہوتی ہے۔اور شاید نشتر صاحب کے بارے میں میری یہ چھوٹی سی شکایت بھی اسی احساس کا نتیجہ ہے۔
ابھی میں نشتر صاحب سے گفتگو ہی کررہا تھا کہ شوکت صاحب نے اچانک میری توجہ اپنی طرف نہیں بلکہ سامنے سے آنے والے قہوے کی طرف مبذول کرائی۔ ادبی مرکز کمراز کے کارکن پیالیوں میں گرم گرم قہوہ لیے مہمانوں کی طرف بڑھ رہے تھے۔ مگر اس بار قہوے کے ساتھ جو چیز پیش کی جارہی تھی، اس نے میری توجہ خاص طور پر اپنی طرف کھینچ لی۔وہ تھاکشمیری کلچہ!
مرکز کے کارکن مہمانوں میں بھری ہوئی پیالیوں کے ساتھ ساتھ گرم گرم کشمیری کلچے بھی تقسیم کررہے تھے۔ قہوے کا گرم ہونا تو کوئی غیر معمولی بات نہیں تھی، لیکن اتنے گرم اور تازہ کلچے زندگی میں شاید پہلی بار کھا رہا تھا۔معلوم ہوا کہ یہ کلچے کسی دکان یا بیکری سے لاکر نہیں رکھے گئے تھے، بلکہ تندور سے ابھی ابھی نکالے گئے تھے اور سیدھے کانفرنس کے پنڈال میں پہنچائے گئے تھے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ ان کی گرمی ابھی تک برقرار تھی۔ ہاتھ میں لیتے ہی ان کی تازگی کا احساس ہوتا تھا۔میں نے کلچے کا ایک ٹکڑا لیا اور ساتھ گرم قہوے کی ایک چسکی۔ بس پھر کیا تھا۔۔۔۔۔قہوے کا ذائقہ جیسے یکایک بدل گیا۔ بھوک کی شدت بھی کم ہوئی اور اس کشمیری ذائقے نے محفل کی لطف اندوزی کو ایک اور رنگ دے دیا۔
بعد میں جب پروفیسر ایاز رسول نازکی نے بھی کلچوں کی دل کھول کر تعریف کی اور ان کے ذائقے، تازگی اور گرمی کا ذکر کیا تو ان کی گفتگو میں محترمہ رخسانہ جبین نے بھی اپنی بات شامل کردی۔ دونوں کی گفتگو سن کرمحسوس ہوا کہ یہ محض ایک کلچے کی تعریف نہیں، بلکہ اس پورے اہتمام کی تحسین ہے جس کے پیچھے ادبی مرکز کمراز کے کارکنوں کی محنت اور مہمانوں کے لیے خلوص چھپا ہوا تھا۔(جاری)

Previous Post

GCW M.A. Road Observes Suicide Prevention Day

Next Post

Government Must Act on Long-Pending Demands of NHM Employees: Sajid Yousuf Shah

محمد سلیم سالک

محمد سلیم سالک

Next Post
Government Must Act on Long-Pending Demands of NHM Employees: Sajid Yousuf Shah

Government Must Act on Long-Pending Demands of NHM Employees: Sajid Yousuf Shah

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.