• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Monday, September 21, 2026
JKNS
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
JKNS | Jammu Kashmir News Service
No Result
View All Result
Home اردو خبریں

ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس (قسط: 8)

محمد سلیم سالک by محمد سلیم سالک
September 20, 2026
in اردو خبریں
A A
ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس (قسط: 8)
FacebookTwitterWhatsapp

حاجن کے بارے میں شفیع شاکر کی گفتگو نے مجھے چند لمحوں کے لیے اس پنڈال سے نکال کر حاجن کی گلیوں، روایتوں اور ان شخصیات کے درمیان پہنچا دیا تھا جنہوں نے اپنے اپنے انداز میں اس خطے کی تہذیبی شناخت کو تشکیل دیا ہے۔ مگر افتتاحی نشست اب آگے بڑھ رہی تھی اور مائیک پر ہونے والی گفتگو مجھے بار بار حال کی طرف واپس لے آتی تھی۔
میں نے ایک نظر اپنے اردگرد ڈالی۔ سامنے اسٹیج پر افتتاحی نشست کی معزز شخصیات اپنی اپنی نشستوں پر موجود تھیں اور وہ خاموشی سے شاکر شفیع کی گفتگو سن رہے تھے اور پنڈال کے پچھلے حصے میں بھی اب خاصی تعداد میں لوگ اپنی نشستیں سنبھال چکے تھے۔ کچھ دیر پہلے تک جو پنڈال آمد و رفت، ملاقاتوں اور باہمی گفتگو سے گونج رہا تھا، اب اس پر ایک خاص طرح کی سنجیدگی طاری تھی۔
شفیع شاکر نے اپنے تمہیدی کلمات مکمل کرنے کے بعد مہمانوں کا استقبال کرنے کے لیے ادبی مرکز کمراز کے صدر جناب محمد امین بٹ کو مائیک پر آنے کی دعوت دی۔ امین صاحب جیسے ہی ڈائس پر تشریف لائے، پنڈال میں ایک خاص توجہ پیدا ہوگئی۔ وہ چند لمحے خاموش کھڑے رہے، پھر مسکراتے ہوئے اپنی گفتگو کا آغاز کیا۔
سب سے پہلے انہوں نے اپنی تاخیر کا ذکر کیا۔ بڑے سادہ اور بے تکلف انداز میں کہنے لگے:
“بحیثیت صدر آج پہلی بار ایسا ہوا ہے کہ میں اپنی سالانہ کانفرنس میں دیر سے پہنچا ہوں۔ لیکن مجھے یقین تھا کہ آج کی کانفرنس سرزمینِ حاجن میں منعقد ہورہی ہے، اس لیے مجھے زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں۔ مجھے معلوم تھا کہ یہاں کمراز کے کارکن موجود ہیں اور وہ اپنی ذمہ داری پوری طرح نبھائیں گے۔ یہاں پہنچ کر مجھے اطمینان ہوا کہ واقعی ہمارے کارکن نہایت تندہی اور اخلاص کے ساتھ اپنے کام میں جٹے ہوئے ہیں۔”
ان کے لہجے میں اپنے کارکنوں کے لیے اعتماد اور اطمینان صاف محسوس ہورہا تھا۔ چند لمحے توقف کے بعد انہوں نے اپنے سامنے پھیلے ہوئے پنڈال پر ایک نظر ڈالی اور قدرے جذباتی انداز میں بولے:
’’اور یہ وہی اسکول ہے جہاں آج سے نصف صدی سے بھی پہلے، 1971ء میں پروفیسرامر مالموہی، محمد احسن احسن اور ان کے چند دیگر ساتھی ایک بنچ پر بیٹھے ہوئے تھے کہ اسی دوران جناب رشید نازکی اسکول میں وارد ہوئے۔ باہمی تبادلۂ خیال کے بعد یہ طے پایا کہ شمالی کشمیر میں جو ادبی تنظیمیں کام کررہی ہیں، ان سب کو ایک ادبی وفاق کے پلیٹ فارم پر جمع کیا جانا چاہیے۔ پھر یہ مشورہ ہوا کہ اس وفاق کی سرپرستی کے لیے پروفیسر محی الدین حاجنی کو آمادہ کیا جائے۔ چنانچہ اسی سوچ اور مشاورت کے نتیجے میں باقاعدہ طور پر ادبی مرکز کمراز کی بنیاد رکھی گئی۔آج 2026ء میں اسی جگہ ایک عظیم الشان کانفرنس کا انعقاد اس بات کا بین ثبوت ہے کہ نصف صدی قبل جو بیج ان مخلص لوگوں نے بویا تھا، وہ آج ایک تناور چنار کی صورت میں ہمارے سامنے کھڑا ہے۔‘‘
انہوں نے ایک لمحے کے لیے توقف کیا اور پھر قدرے زور دے کر کہا:
’’لیکن تناور چنار صرف فخر کی علامت نہیں ہوتا، اس کی حفاظت بھی کرنا پڑتی ہے۔ اس لیے ہم سب پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ اس چنار کو مضبوط بنائیں، اس کی شاخوں کو مزید پھیلائیں اور کشمیری زبان و ادب کی ترقی و ترویج میں اپنا بھرپور کردار ادا کریں۔‘‘
اس تاریخی حوالے کے بعد امین صاحب نے گفتگو کا رخ آج کی کانفرنس کے مرکزی موضوع کی طرف موڑ دیا۔
انہوں نے کہا کہ آج کی نشست کا عنوان “کشمیری زبان کو عقیدتی ادب کی دین” ہے۔ پھر ایک لمحے کے توقف کے بعد بولے:
“میرا ماننا ہے کہ زبانوں کی ترقی کی پہلی سیڑھی عقیدتی ادب سے ہوکر گزرتی ہے۔ یہ کہنا بے جا نہ ہوگا کہ زبان کا محفوظ قلعہ عقیدتی ادب کی حصار بندی پر ہی کھڑا ہوتا ہے۔”
ان کے لہجے میں اس بات پر خاص یقین تھا۔ ان کے نزدیک عقیدتی ادب محض مذہبی جذبات کے اظہار کا وسیلہ نہیں بلکہ زبان کو محفوظ رکھنے، اسے عوام تک پہنچانے اور نسل در نسل منتقل کرنے کا ایک اہم ذریعہ بھی ہے۔
پھر انہوں نے اپنی بات کو کسی ایک مذہب یا عقیدے تک محدود رکھنے کے بجائے کشمیر کی وسیع تر تہذیبی روایت اور بھائی چارے سے جوڑ دیا۔ ان کا کہنا تھا:
“مسجد ہو یا خانقاہ، مندر ہو یا گرجاگھر، گردوارہ ہو یا بدھ اسٹوپا۔۔۔۔عبادت کی ان مختلف جگہوں میں عقیدتی شاعری کی آواز کسی نہ کسی صورت میں گونجتی رہی ہے۔”
امین صاحب نے اسی بات کو ماضی کی ایک خوب صورت مثال سے جوڑا:
“ایک زمانہ تھا جب ہماری مسجدوں سے دعائے صبح میں کشمیری التجائیں گونجتی تھیں اور مندروں میں لیلا و بجن کی آوازیں سنائی دیتی تھیں۔ مذہبی عقیدہ اپنی جگہ تھا، عبادت کا طریقہ اپنی جگہ، لیکن زبان ہماری مشترک تھی۔”
ریڈیو کے زمانے کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ وہ بھی زمانہ تھا جب ریڈیو کشمیر سے موہن لال ایمہ کی آواز میں حمد و نعت نشر ہوتی تھی اور محمد عبداللہ تبت بقال لیلا و بجن گایا کرتے تھے۔ ان کے لہجے میں اس زمانے کی یاد بھی تھی اور اس تہذیبی فضا کے بکھر جانے کا احساس بھی۔
پھر اچانک ان کی آواز میں ایک گہری تشویش ابھری:
“لیکن آج ہماری صورتِ حال کیا ہے؟ یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ ہماری مسجدوں اور مندروں میں مذہبی اور اخلاقی گفتگو، جو کبھی کشمیری زبان میں ہوا کرتی تھی، اب بڑی حد تک دوسری زبانوں میں ہونے لگی ہے۔ ہم دوسری زبانوں کے خلاف نہیں ہیں۔ ہر زبان علم کا ایک دروازہ ہے، ہر زبان اپنے اندر ایک دنیا رکھتی ہے، لیکن اپنی مادری زبان کو فراموش کرنا کہاں کی دانائی ہے؟”
یہ کہتے ہوئے ان کا لہجہ مزید پُرجوش ہوگیا:
“ہمیں یہ سمجھنا ہوگا کہ زبان صرف بولنے کا ذریعہ نہیں۔ یہ ہماری شناخت، ہماری یادداشت اور ہماری تہذیب بھی ہے۔ ہماری ماؤں نے ہمیں اسی زبان میں لوریاں سنائی ہیں، ہمارے بزرگوں نے اسی زبان میں دعائیں کی ہیں اور ہمارے شاعروں نے اسی زبان میں اپنے دکھ اور خوشیاں بیان کی ہیں۔ اگر ہم اپنی ہی زبان کو اپنی زندگی کے بنیادی دائروں سے نکال دیں گے تو آنے والی نسل کو ہم کیا دیں گے؟ صرف ایک نام؟ صرف ایک حوالہ؟”
وہ ایک لمحے کے لیے رکے اور پھر عصرِ حاضر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولے:
“دنیا کی ترقی یافتہ قومیں سائنس اور ٹیکنالوجی کے میدان میں آگے بڑھتی ہیں، نئی نئی دریافتیں کرتی ہیں، دنیا کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر چلتی ہیں، لیکن اپنی مادری زبان کو نہیں چھوڑتیں۔ وہ اپنی زبان میں علم پیدا کرتی ہیں، اپنی زبان میں سوچتی ہیں اور اپنی نئی نسل سے اپنی زبان میں گفتگو کرتی ہیں۔ پھر ہم اپنی زبان کے بارے میں اتنے بے فکر کیوں ہیں؟”
آخر میں ان کی گفتگو ایک اپیل میں ڈھل گئی:
’’لَل دید اور شیخ العالم کی عقیدتی شاعری نے صدیوں پہلے کشمیری زبان کو ایک مضبوط اور مستحکم ادبی بنیاد فراہم کردی تھی، جس کے بعد آنے والے شعرا نے بھی عقیدتی ادب کی اس روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے کشمیری زبان کے تحفظ، فروغ اور ترویج میں اپنا اہم کردار ادا کیا۔ اب ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اس عظیم ادبی ورثے کو صرف ماضی کی یاد بن کر نہ رہنے دیں، بلکہ اسے حال کی زبان بھی بنائیں اور مستقبل کی زبان بھی۔ زبان اسی وقت زندہ اور توانا رہتی ہے جب وہ بولی جاتی ہے، جب اس میں دعا کی جاتی ہے، جب اس میں محبت کا اظہار ہوتا ہے، جب بچوں کو اسی زبان میں سمجھایا جاتا ہے، جب اس میں عقیدتی شاعری کی جاتی ہے اور جب انسان اپنے دکھ سکھ اسی زبان میں بیان کرتا ہے۔‘‘
ان کی بات ختم ہوئی تو چند لمحوں تک پنڈال میں خاموشی رہی۔ شاید ہر شخص اپنے اپنے اندر کسی ایسے لفظ، کسی ایسی دعا، کسی ایسی آواز کو تلاش کررہا تھا جو کبھی اس کی اپنی زبان میں اس کے قریب رہی ہو۔
مجھے محسوس ہوا کہ امین صاحب کی مدلل اور پُرجوش گفتگو کے بعد شاید ہی کسی کے ذہن میں یہ سوال باقی رہا ہو کہ آج کی کانفرنس کا موضوع “عقیدتی ادب” ہی کیوں رکھا گیا تھا۔ میرے خیال میں عقیدتی ادب کو پہلی بار اس زاویے سے دیکھا گیا تھا کہ یہ محض عقیدے اور مذہبی جذبات کے اظہار کا وسیلہ نہیں، بلکہ زبان کی تہذیبی بقا، ادبی تشکیل اور نسل در نسل منتقلی میں بھی ایک اہم کردار ادا کرتا ہے۔(جاری)

Previous Post

IED Detected In Awneera Orchard of Shopian; BDS Called

Next Post

“People’s Issues Must Be Given Priority In Assembly”: Farooq Abdullah To Party Legislators

محمد سلیم سالک

محمد سلیم سالک

Next Post
“People’s Issues Must Be Given Priority In Assembly”: Farooq Abdullah To Party Legislators

“People’s Issues Must Be Given Priority In Assembly”: Farooq Abdullah To Party Legislators

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.