• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Saturday, September 26, 2026
JKNS
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
JKNS | Jammu Kashmir News Service
No Result
View All Result
Home اردو خبریں

ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس (13)

محمد سلیم سالک by محمد سلیم سالک
September 26, 2026
in اردو خبریں
A A
ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس (13)
FacebookTwitterWhatsapp

جناب منشور بانہالی کی تقریر ابھی جاری تھی کہ میری نظر میر طارق رسول پر پڑی۔ وہ ہاتھ میں Tab لیے نہایت انہماک کے ساتھ کچھ پڑھ رہے تھے اور بغل میں ایک موٹی سی انگریزی کتاب بھی دبی ہوئی تھی۔ میں ہمیشہ اس نوجوان سے متاثر رہا ہوں۔ مطالعے کی لگن اور شوق ان کی شخصیت میں کوٹ کوٹ کر بھرا ہوا ہے۔ جہاں کہیں ملیں، کسی نہ کسی کتاب، مضمون یا مطالعے کے مواد میں غرق نظر آتے ہیں۔نزدیک جاکر معلوم ہوا کہ ان کے ہاتھ میں موجود کتاب Jill Lepore کی The Rise and Fall of the Artificial State ہے، جو ایک ہفتہ قبل شائع ہوئی تھی۔ کتاب ہاتھ میں لے کر میں نے پہلے اس کی فہرستِ مضامین پر ایک نظر ڈالی تو اندازہ ہوا کہ جِل لیپور نے مصنوعی ذہانت کے عروج و زوال کے موضوع کو خاصے وسیع تناظر میں دیکھا ہے اور اس کے مختلف پہلوؤں کا تجزیہ کیا ہے۔
میں نے ایک نظر میر طارق رسول پر ڈالی اور دوسری نظر ان کے آس پاس کی نشستوں پر بیٹھے حضرات کو گھورنے لگا۔ میری اس حرکت پر طارق صاحب بھی قدرے حیران ہوئے۔ شاید وہ سوچ رہے تھے کہ آخر میں اس طرح اِدھر اُدھر کیوں دیکھ رہا ہوں۔ آخرکار انہوں نے استفسار کرتے ہوئے کہا، ’’سالک صاحب! خیریت تو ہے نا؟ آپ کیا ڈھونڈ رہے ہیں؟‘‘
ان کے اس برجستہ سوال پر میرے منہ سے بے اختیار نکلا، ’’میرا قدآور نقاد کہاں ہے؟‘‘
میری بات سنتے ہی طارق صاحب مسکرائے اور ہنستے ہوئے کہنے لگے، ’’شوکت صوفی صاحب آج کل پہاڑوں کی بلندیوں پر اپنے اشعار کی ویڈیوز بنانے میں مصروف ہیں۔‘‘
ان کا جواب سن کر مجھے بھی ہنسی آگئی۔ صوفی شوکت کی غیر موجودگی کا اس سے بہتر اور برجستہ جواب شاید ملنا مشکل تھا۔
ویسے جب بھی میں صوفی شوکت اور میر طارق رسول کی دوستی کے بارے میں سوچتا ہوں تو بے اختیار ’’شعلے‘‘ کے جے اور ویرو یاد آجاتے ہیں۔ دونوں کی طبیعتیں ایک دوسرے سے مختلف سہی، مگر دوستی ایسی کہ ایک کا ذکر ہو تو دوسرے کا خیال خود بخود آجاتا ہے۔ فرق صرف اتنا ہے کہ جے اور ویرو کے ہاتھ میں بندوقیں ہوتی تھیں اور یہاں ایک کے ہاتھ میں کتاب ہوتی ہے تو دوسرے کے پاس شاعری!
مزید گفتگو کے دوران معلوم ہوا کہ موصوف کو ایک پینل ڈسکشن کی نظامت بھی کرنی ہے اور اسی کی تیاری میں وہ سوال نامہ اور ضروری نوٹس تیار کررہے تھے۔ میں نے سوچا کہ صاحب پہلے ہی ایک اہم ذمہ داری میں مصروف ہیں، اس لیے زیادہ دیر تک ان کی توجہ بٹانا مناسب نہیں۔ چنانچہ مختصر سی گفتگو کے بعد میں اپنی نشست کی طرف لوٹ آیا۔
ادھر شاکر شفیع نے مولانا شوکت حسین کینگ کو مائیک پر آنے کی دعوت دی۔ مولانا کینگ آہستہ آہستہ اپنی نشست سے اٹھے اور مائیک کی طرف بڑھے۔ پنڈال میں ایک بار پھر خاموشی چھا گئی اور سب کی نظریں اسٹیج کی طرف مرکوز ہوگئیں۔
کینگ صاحب نے اپنی گفتگو میں عقیدتی ادب کی اہمیت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کسی بھی قوم کی مذہبی اور روحانی روایت کو سمجھنے کے لیے اس کے عقیدتی ادب کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ نعت، منقبت، مناجات اور صوفیانہ شاعری محض ادبی اصناف نہیں بلکہ ان کے ذریعے نسلیں اپنے عقائد، روحانی تجربات اور بزرگوں سے وابستہ اپنی عقیدت کو آگے منتقل کرتی ہیں۔ خاص طور پر کشمیری معاشرے میں عقیدتی ادب نے مذہبی احساس کو عام آدمی کی زبان اور روزمرہ زندگی سے جوڑنے میں ایک اہم کردار ادا کیا ہے۔
کینگ صاحب نے اس بات پر بھی زور دیا کہ عقیدتی ادب جب مادری زبان میں تخلیق ہوتا ہے تو اس کا اثر کہیں زیادہ گہرا اور براہِ راست ہوتا ہے۔ انسان اپنی مادری زبان میں صرف الفاظ نہیں سنتا، بلکہ ان کے ساتھ اپنے بچپن، گھر، بزرگوں اور اپنی تہذیبی یادوں کی آواز بھی محسوس کرتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ مادری زبان میں کہی گئی دعا، منقبت یا نعت دل تک زیادہ آسانی سے اترتی ہے۔ شاید یہی وہ مقام ہے جہاں زبان محض اظہار کا وسیلہ نہیں رہتی بلکہ عقیدت کے احساس کی امین بن جاتی ہے۔
کینگ صاحب کی گفتگو سنتے ہوئے مجھے مادری زبان کی اہمیت کے حوالے سے رسول حمزہ توف کی شاہکار کتاب ’’میرا داغستان‘‘ کا ایک واقعہ یاد آگیا۔
رسول حمزہ توف لکھتے ہیں کہ ایک مرتبہ پیرس کے ایک ادبی میلے میں ایک داغستانی مصور ان سے ملنے آیا۔ وہ تیس برس سے فرانس میں مقیم تھا۔ داغستان واپسی پر حمزہ توف نے اس کے گھر والوں اور بوڑھی ماں کو تلاش کیا۔ خاندان کو یقین تھا کہ وہ مر چکا ہے۔ ماں کو جب معلوم ہوا کہ اس کا بیٹا زندہ ہے تو اس نے اس کے بارے میں بے شمار سوال کیے۔ پھر اچانک پوچھ
’’رسول! تم نے میرے بیٹے کے ساتھ کتنا وقت گزارا؟‘‘
حمزہ توف نے بتایا کہ دونوں دیر تک داغستان کی باتیں کرتے رہے۔ ماں نے پھر پوچھا:
’’اُس نے تم سے بات چیت تو اپنی مادری زبان میں کی ہوگی نا؟‘‘
حمزہ توف نے جواب دیا کہ نہیں، دونوں نے ترجمان کے ذریعے گفتگو کی؛ وہ ازبک بول رہے تھے اور مصور فرانسیسی۔ مصور اپنی مادری زبان بھول چکا تھا۔
یہ سنتے ہی بوڑھی ماں نے اپنے سر سے بندھا سیاہ رومال کھول کر چہرہ ڈھانپ لیا اور کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد کہا:
’’رسول! تم سے غلطی ہوئی۔ میرے بیٹے کو مرے ہوئے ایک مدت بیت گئی۔ جس سے تم ملے وہ میرا بیٹا نہیں، کوئی اور ہوگا، کیونکہ میرا بیٹا اس زبان کو کیسے بھلا سکتا ہے جو میں نے اسے سکھائی تھی۔‘‘
یہ واقعہ پڑھتے ہوئے مجھے ہمیشہ محسوس ہوتا ہے کہ اس ماں کے نزدیک بیٹے کا مادری زبان بھول جانا محض زبان کا بھول جانا نہیں تھا۔گویا اس نے اپنے بیٹے میں اپنی آواز، اپنی یاد اور اپنے رشتے کی ایک بنیادی علامت کھو دی تھی۔ شاید اسی لیے مادری زبان کی حفاظت کا سوال صرف زبان کا سوال نہیں، اپنی تہذیبی اور روحانی شناخت کو اگلی نسل تک پہنچانے کا سوال بھی ہے۔(جاری )

Previous Post

COAS جنرل دھیراج سیٹھ نے اگلے مورچوں میں آپریشنل تیاریوں کا جائزہ لیا، تانگدھار میں آپریشن درشتی میگا آئی سرجیکل کیمپ کا دورہ

Next Post

India’s Petal Gahlot Raises PoJK At UN, Says J&K Integral Part Of Country

محمد سلیم سالک

محمد سلیم سالک

Next Post
India’s Petal Gahlot Raises PoJK At UN, Says J&K Integral Part Of Country

India’s Petal Gahlot Raises PoJK At UN, Says J&K Integral Part Of Country

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.