• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Monday, September 28, 2026
JKNS
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
JKNS | Jammu Kashmir News Service
No Result
View All Result
Home اردو خبریں

ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس ( 16)

محمد سلیم سالک by محمد سلیم سالک
September 28, 2026
in اردو خبریں
A A
ادبی مرکز کمراز کی 47ویں سالانہ کانفرنس ( 16)
FacebookTwitterWhatsapp

پنڈال میں اب ایک خاص قسم کی سنجیدگی چھا گئی تھی۔ نوجوان نقاد میر طارق رسول نے بحیثیت ماڈریٹر پینل ڈسکشن کی باگ ڈور سنبھالی اور باری باری پینلسٹس کے سامنے سوالات رکھنا شروع کیے۔ موضوع بھی خاصا وسیع تھا: لَل دید، شیخ العالم اور کشمیری تشخص۔ ظاہر ہے، جب گفتگو کا مرکز ایسی دو بڑی شخصیات ہوں جن کے افکار نے صدیوں سے کشمیری سماج کو متاثر کیا ہو تو ایک سوال کا جواب بھی کئی نئے سوالات کو جنم دیتا ہے۔
سب سے پہلے میر طارق رسول نے ڈاکٹر غلام نبی حلیم سے سوال کیا کہ تشخص کے نمایاں سیاسی، سماجی اور تمدنی اصولوں کو مدنظر رکھتے ہوئے کیا لَل دید کے شعری اسلوب کو ’’کشمیری تشخص‘‘ کی بنیادی اساس قرار دیا جاسکتا ہے؟
حلیم صاحب نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ لَل دید کی شعریات کو کشمیری ادب کی بنیادی روایت میں شمار کیا جاتا ہے۔ انہوں نے اپنے عہد میں سماج کے اندر موجود استحصالی عناصر اور فرسودہ روایات کے خلاف آواز اٹھائی اور ایک نئی فکری روایت قائم کرنے کی کوشش کی۔ ان کے کلام میں خدا شناسی کے ساتھ خود شناسی کا عنصر بھی نمایاں ہے، جس کے ذریعے انہوں نے کشمیری سماج میں ایک نئے روحانی اور فکری شعور کو فروغ دینے کی کوشش کی۔
حلیم صاحب کے جواب سے موڈینٹر مطمین نہیں لگ رہا تھا کیونکہ طارق صاحب کے چہرے کے آثار بتارہےتھے کہ جو سوال پوچھا گیاہے شاید پینلسٹ تک اس کی صحیح ترسیل نہیں ہوپائی۔
میں نے شوکت شفیع صاحب سے کہا کہ آپ کا اس بارے میں کیا سوچنا ہے ۔ شوکت صاحب نے نہایت ہی لاجکل انداز میں کہا کہ سچ کہوں تو حلیم صاحب کا یہ جواب مجھے سوال کے مقابلے میں کچھ تشنہ محسوس ہوا۔ سوال لَل دید کی شاعری کی عمومی اہمیت کے بارے میں نہیں تھا، بلکہ یہ جاننا مقصود تھا کہ سیاسی، سماجی اور تمدنی تشخص کے تناظر میں لَل دید کے شعری اسلوب کو کشمیری تشخص کی بنیادی اساس کس حد تک قرار دیا جاسکتا ہے۔ حلیم صاحب نے لَل دید کی فکر، ان کے عہد کے سماجی حالات اور خدا شناسی و خود شناسی جیسے پہلوؤں پر تو گفتگو کی، لیکن شعری اسلوب اور کشمیری تشخص کے باہمی رشتے کو اس وضاحت کے ساتھ سامنے نہیں لاسکے جس کی شاید اس سوال سے توقع کی جارہی تھی۔
اسی دوران حلیم صاحب نے دورانِ بحث ایک اور اہم نکتے کی طرف اشارہ کیا کہ لَل دید کے متن کو ایک بار پھر نئے سرے سے پڑھنے اور پرکھنے کی ضرورت ہے۔ ان کے خیال میں لَل دید کے کلام کے بعض الفاظ اور متون پر مزید تحقیق ہونی چاہیے۔ یہاں سے گفتگو ایک نئے اور قدرے دلچسپ رخ کی طرف مڑ گئی، جس کا تعلق لَل دید کے متن کی قرأت سے تھا۔
حلیم صاحب نے مزید لَل دید کے متن کو دوبارہ پڑھنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے ایک مثال بھی پیش کی۔ انہوں نے لَل دید کے مشہور واکھ کا حوالہ دیا:
گورن وونم کنے وژن
نبیر دوپنم اندر اژن
سے میے لل گوو واکھ تہ وژن
توے ہیوتم ننگے نژن
حلیم صاحب کے مطابق واکھ کے آخری مصرعے میں ’’ننگا‘‘ نہیں بلکہ ’’نہنگا‘‘ لفظ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ لَل دید جیسی عارفہ کے کلام میں ’’ننگا‘‘ کا لفظ اس مفہوم میں آنا محلِ نظر ہے، جبکہ ’’نہنگا‘‘ کے معنی مست ہوکر ناچنے کے ہیں۔ وہ اپنی اس بات کو پورے اعتماد اور قدرے اصرار کے ساتھ بیان کررہے تھے، جیسے انہوں نے لَل دید کے متن کی کوئی اہم گرہ کھول دی ہو۔
میرے پاس بیٹھے شوکت صاحب نے اسی موقع پر میری توجہ ایک لطیف نکتے کی طرف مبذول کرائی۔ ان کا کہنا تھا کہ یہاں ’’ننگا‘‘ کو صرف nudity کے مفہوم میں لینا ضروری نہیں۔ یہ لفظ استعاراتی طور پر بھی برتا گیا ہوسکتا ہے، یعنی ایسی کیفیت کے اظہار کے لیے جہاں انسان اپنے آپ کو دنیاوی سہاروں سے خالی اور بے نیاز محسوس کرتا ہے۔ مجھے شوکت صاحب کی یہ توضیح خاصی دلچسپ لگی۔
البتہ میرے ذہن میں ایک سوال بدستور گردش کرتا رہا کہ اگر اصل لفظ ’’نہنگا‘‘ ہے تو اس قرأت کا ماخذ کیا ہے؟ کاش حلیم صاحب یہ بھی واضح کرتے کہ یہ لفظ انہیں کس قدیم نسخے یا معتبر ماخذ میں ملا ہے، یا متن کی تدوین اور تحقیق کے دوران انہوں نے خود اس قرأت تک رسائی حاصل کی ہے۔ کیونکہ قدیم متن کے معاملے میں صرف ایک لفظ کی نئی قرأت پیش کردینا کافی نہیں ہوتا، اس کی سند اور ماخذ بھی اپنی جگہ خاص اہمیت رکھتے ہیں۔
شوکت صاحب نے پھر دبے لفظوں میں ایک بڑی بات کہی کہ بڑے بڑے شعرا کے ساتھ بھی وقت گزرنے کے ساتھ ایسے معاملات پیش آتے رہے ہیں کہ ان کے کلام کے متن میں تبدیلیاں واقع ہوتی رہتی ہیں۔ نقل در نقل، زبانی روایت، کاتبوں کی اغلاط اور بعد کے مرتبین کی قرأت۔۔۔۔یہ سب چیزیں کسی قدیم متن کی صورت بدل سکتی ہیں۔ اس لیے کسی لفظ کی مختلف قرأت سامنے آئے تو اسے فوراً حتمی سمجھنے کے بجائے اس کے ماخذ اور مختلف نسخوں کا تقابلی مطالعہ بھی ضروری ہے۔
میں شوکت صاحب کی بات سنتا رہا اور سوچتا رہا کہ واقعی ایک لفظ کبھی کبھی پورے متن کے معنی کا رخ بدل دیتا ہے۔ خاص طور پر جب معاملہ لَل دید جیسی قدیم اور عظیم شاعرہ کے کلام کا ہو تو پھر ایک لفظ کی صحت بھی معمولی معاملہ نہیں رہتی۔
طارق صاحب نے دوسرا سوال شہباز ہاکباری کو کیا کہ وہ شیخ العالمؒ اور کشمیری تشخص کے درمیان کس نوعیت کا تعلق محسوس کرتے ہیں؟
شہباز ہاکباری نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ان کے خیال میں حضرت شیخ العالم نورالدین نورانیؒ اور کشمیری تشخص کے درمیان ایک گہرا روحانی، تہذیبی اور اخلاقی رشتہ موجود ہے۔ ان کی شاعری اور تعلیمات نے کشمیری معاشرے کو امن، انسان دوستی، سادگی، رواداری اور باہمی احترام کا پیغام دیا۔ انہوں نے مقامی زبان اور عوامی ثقافت کو اپنے فکری اظہار کا وسیلہ بنایا، جس کے نتیجے میں کشمیری زبان و تہذیب کو ایک مضبوط شناخت ملی۔
مجھے محسوس ہوا کہ ہاکباری صاحب نے سوال کا بنیادی جواب تو دے دیا تھا اور شیخ العالمؒ کی فکر کو کشمیری تشخص کے روحانی، اخلاقی اور تہذیبی پہلوؤں سے جوڑنے کی کوشش بھی کی، تاہم اگر ان کی گفتگو میں شیخ العالمؒ کے کلام کی کچھ مخصوص مثالیں یا اشعار بھی شامل ہوجاتے تو یہ رشتہ مزید واضح اور مدلل صورت میں سامنے آسکتا تھا۔ بہرحال، گفتگو نے یہ نکتہ ضرور واضح کردیا کہ شیخ العالمؒ کی اہمیت صرف ایک مذہبی یا صوفی شاعر کی حیثیت سے نہیں، بلکہ کشمیری زبان، تہذیب اور اجتماعی شعور کی تشکیل کے حوالے سے بھی دیکھی جاسکتی ہے۔(جاری)

Previous Post

Macadamisation Work on Beerwah Link Road Through Degree College and Nearby Villages Welcomed by Residents

Next Post

سیماری ٹیٹوال میں دلخراش سڑک حادثہ، 5 افراد جاں بحق، 6 شدید زخمی

محمد سلیم سالک

محمد سلیم سالک

Next Post
سیماری ٹیٹوال میں دلخراش سڑک حادثہ، 5 افراد جاں بحق، 6 شدید زخمی

سیماری ٹیٹوال میں دلخراش سڑک حادثہ، 5 افراد جاں بحق، 6 شدید زخمی

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.