• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Sunday, October 4, 2026
JKNS
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
JKNS | Jammu Kashmir News Service
No Result
View All Result
Home Article

نوجوانوں کو بااختیار بنانے میںبھارتی فوج کا بدلتا کردار

تحریر:اے ا ر بھٹ by تحریر:اے ا ر بھٹ
October 4, 2026
in Article
A A
FacebookTwitterWhatsapp

قارئین ،بھارتی فوج کا ذکر آتے ہی عموماً سرحدوں کی حفاظت، دشوار گزار پہاڑی چوکیوں، برفانی ہواؤں اور ہر وقت چوکس کھڑے جوانوں کا تصور ذہن میں ابھرتا ہے۔ لیکن ملک کے سرحدی اور دور افتادہ علاقوں میں فوج کی موجودگی کی ایک دوسری تصویر بھی ہے، جو شاید اتنی نمایاں نہیں مگر اپنی اہمیت کے اعتبار سے کسی طور کم نہیں۔ جموں و کشمیر سمیت ان علاقوں میں جہاں شہری سہولیات محدود ہیں، دور دراز وادیوں اور پہاڑی بستیوں میں فوج تعلیم، صحت، ہنرمندی اور سماجی ترقی کے شعبوں میں بھی مختلف سرگرمیوں کے ذریعے مقامی آبادی سے جڑنے کی کوشش کرتی ہے۔ اس سوچ کے پیچھے یہ تصور کارفرما ہے کہ کسی ملک کی سلامتی صرف اس کی سرحدوں کی حفاظت سے مکمل نہیں ہوتی بلکہ ان علاقوں میں رہنے والے نوجوانوں کے مستقبل کو محفوظ بنانا بھی قومی استحکام کا اہم حصہ ہے۔اسی سوچ کا ایک نمایاں اظہار آپریشن سدبھاؤنا کی صورت میں سامنے آتا ہے۔ ابتدا میں جموں، کشمیر اور لداخ کے دور افتادہ علاقوں میں مقامی ضروریات پوری کرنے اور فوری مدد فراہم کرنے کے مقصد سے شروع کیا گیا یہ سلسلہ وقت کے ساتھ ایک وسیع تر سماجی و ترقیاتی پروگرام کی شکل اختیار کر چکا ہے۔ اس کے تحت صحت مراکز کی تعمیر، ہنرمندی کی تربیت، خواتین کو مواقع فراہم کرنے اور ان علاقوں میں بنیادی سہولیات کو بہتر بنانے پر توجہ دی جاتی ہے جہاں عام حالات میں ایسی سہولتوں تک رسائی آسان نہیں ہوتی۔ اس نوعیت کی سرگرمیوں کا مقصد صرف فوری مدد تک محدود نہیں بلکہ مقامی آبادی کو اپنی صلاحیتیں بروئے کار لانے کے لیے بہتر ماحول فراہم کرنا بھی ہے۔ جب کسی دور افتادہ علاقے کے بچوں کو معیاری تعلیم میسر آتی ہے، خاندانوں کو علاج کی سہولت ملتی ہے اور نوجوانوں کو ہنر سیکھنے کے مواقع فراہم ہوتے ہیں تو ان میں اپنے مستقبل کے حوالے سے اعتماد پیدا ہونا فطری امر ہے۔قارئین ،جموں و کشمیر میں قائم آرمی گڈ وِل اسکول اس کوشش کی ایک اہم مثال ہیں۔ جموں، کشمیر اور لداخ میں اس وقت 43 ایسے اسکول کام کر رہے ہیں جہاں تقریباً 17 ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں۔ ان میں طالبات کی تعداد تقریباً 43 فیصد ہے، جو ان اداروں میں لڑکیوں کی تعلیمی شرکت کے بڑھتے ہوئے رجحان کی بھی عکاسی کرتی ہے۔ ان اسکولوں کا کردار اب محض روایتی انداز میں تعلیم فراہم کرنے تک محدود نہیں رہا۔ کئی اداروں میں جدید تعلیمی وسائل، سمارٹ بورڈز، ڈیجیٹل تدریسی ذرائع اور روبوٹکس و کمپیوٹر سائنس سے متعلق خصوصی تجربہ گاہیں قائم کی گئی ہیں۔ قومی تعلیمی پالیسی میں ہونے والی تبدیلیوں کے مطابق نصاب اور تدریسی طریقوں میں بھی بہتری لانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔اس تعلیمی سلسلے کو مزید وسعت دینے میں بھارتی ایئرٹیل فاؤنڈیشن کے ساتھ ایک دہائی پر محیط شراکت داری نے بھی کردار ادا کیا ہے۔ ابتدا میں 14 اسکولوں تک محدود تعاون اب پورے نیٹ ورک تک پھیل چکا ہے۔ جدید سہولتوں اور نئے تعلیمی طریقوں نے طلبہ کے لیے سیکھنے کے دائرے کو وسیع کیا ہے۔ ان اسکولوں کے طلبہ کی جانب سے 160 سے زیادہ اختراعی منصوبے تیار کیے جا چکے ہیں جبکہ کئی طلبہ نے ملک گیر سطح کے سائنس پروگراموں اور مقابلوں میں بھی جگہ بنائی ہے۔ اسرو کے یوویکا اور انسپائرمانک جیسے پروگراموں میں شرکت اس بات کی مثال ہے کہ دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے طلبہ بھی سائنسی اور تحقیقی میدان میں آگے بڑھنے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔یہی مقصد طلبہ کو اعلیٰ تعلیمی اور تحقیقی اداروں سے متعارف کرانے والی سرگرمیوں میں بھی دکھائی دیتا ہے۔ آئی آئی ٹی جموں اور سی ایس آئی آر-آئی آئی آئی ایم سری نگر کی تجربہ گاہوں میں طلبہ کے لیے رہائشی تعلیمی پروگراموں کا انعقاد انہیں ان شعبوں سے براہ راست واقف ہونے کا موقع دیتا ہے جو اکثر دور افتادہ علاقوں کے نوجوانوں کے لیے محض کتابوں یا خبروں تک محدود رہتے ہیں۔ کسی سرحدی ضلع میں پرورش پانے والے نوجوان کے لیے ملک کے بڑے تحقیقی اداروں، صنعتی مراکز اور جدید ٹیکنالوجی کی دنیا کو قریب سے دیکھنا اس کے مستقبل کے تصور کو وسیع کر سکتا ہے۔اسی مقصد کے تحت قومی یکجہتی دوروں کا اہتمام بھی کیا جاتا ہے۔ ان دوروں میں دور دراز علاقوں کے طلبہ کو ملک کے مختلف حصوں میں واقع اہم تعلیمی، دفاعی اور صنعتی اداروں کا مشاہدہ کرنے کا موقع ملتا ہے۔ حالیہ برسوں میں راجوری اور پونچھ کے طلبہ و اساتذہ نے پونے میں نیشنل ڈیفنس اکیڈمی اور آرمڈ فورسز میڈیکل کالج کا دورہ کیا۔ اسی طرح سکم کے دور افتادہ بالائی علاقوں سے تعلق رکھنے والے انجینئرنگ طلبہ کو بنگلورو اور میسورو جیسے ٹیکنالوجی مراکز تک لے جایا گیا، جہاں انہیں اسرو کے مراکز اور انفوسس جیسے بڑے اداروں کو قریب سے دیکھنے کا موقع ملا۔ ایسے دورے محض سیر و تفریح نہیں ہوتے بلکہ نوجوانوں کو ملک کی وسعت، امکانات اور مختلف شعبوں میں دستیاب مواقع سے روشناس کرانے کا ذریعہ بنتے ہیں۔نوجوانوں کے حوالے سے فوج کی سرگرمیوں کا ایک پہلو اس کے اپنے بھرتی کے نظام سے بھی جڑا ہے۔ اگنی پتھ اسکیم کے تحت 2025 کے اوائل تک تقریباً ڈیڑھ لاکھ نوجوان مرد و خواتین اگنی ویر کی حیثیت سے فوج کا حصہ بن چکے تھے۔ اس اسکیم کا بنیادی مقصد ایک نوجوان اور متحرک فوجی قوت کی تشکیل ہے، تاہم اس دوران نوجوانوں کو فوجی نظم و ضبط کے ساتھ تکنیکی اور قیادت کی تربیت بھی دی جاتی ہے۔ مقررہ مدت کی خدمت مکمل کرنے کے بعد انہیں سیوا ندھی کے تحت مالی تحفظ فراہم کیا جاتا ہے جبکہ مرکزی مسلح پولیس فورسز اور بھارتی ریلوے سمیت بعض شعبوں میں روزگار کے مواقع بھی موجود ہیں۔ اس طرح فوجی تربیت حاصل کرنے والے یہ نوجوان بعد ازاں اپنی عملی زندگی میں مختلف شعبوں میں اپنی صلاحیتیں استعمال کر سکتے ہیں۔تعلیم اور روزگار کے علاوہ سرحدی علاقوں میں کھیلوں کے فروغ کو بھی اہمیت دی جا رہی ہے۔ جہاں مقامی سطح پر کھیل کے میدان، سامان اور تربیتی سہولتیں محدود ہوں، وہاں فوج کھیلوں کے میدان تیار کرنے، ضروری سامان فراہم کرنے اور مقامی مقابلوں کے انعقاد میں مدد کرتی ہے۔ بلند پہاڑی علاقوں میں فٹ بال ہو یا کسی وادی میں کرکٹ کا مقابلہ، کھیل نوجوانوں کو صحت مند سرگرمی، ٹیم ورک اور نظم و ضبط سے جوڑنے کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر چھپی ہوئی صلاحیتوں کو سامنے لانے کا موقع بھی فراہم کرتے ہیں۔

لوگوں سے رابطے کے لیے ذرائع ابلاغ کو بھی استعمال کیا جا رہا ہے۔ شمالی کشمیر میں فوج کے زیر انتظام ریڈیو چنار 90.4 ایف ایم مقامی سطح پر موسیقی، ثقافت، انٹرویوز اور تعلیمی معلومات نشر کرتا ہے۔ اس ریڈیو کی ڈیجیٹل رسائی بھی تیزی سے بڑھی ہے اور اس سے وابستہ افراد کی تعداد 85 ہزار سے تجاوز کر چکی ہے۔ دور دراز علاقوں میں جہاں رابطے کے جدید ذرائع ہر فرد تک یکساں طور پر نہیں پہنچتے، وہاں مقامی زبان، ثقافت اور روزمرہ مسائل سے جڑا ہوا ایسا ذریعہ لوگوں کے درمیان رابطے کا ایک اضافی وسیلہ بن سکتا ہے۔قدرتی آفات کے وقت بھی فوج کا کردار فوری طور پر امدادی سرگرمیوں کی طرف منتقل ہو جاتا ہے۔ 2025 کے دوران فوج نے سیلاب، لینڈ سلائیڈنگ اور زلزلوں سے متاثرہ علاقوں میں امدادی کارروائیوں کے لیے دس ریاستوں کے 80 سے زیادہ مقامات پر 141 خصوصی امدادی دستے تعینات کیے۔ آفات کے دوران فوری رسپانس کی ضرورت ہوتی ہے اور ایسے حالات میں فوجی دستوں کی تربیت، وسائل اور منظم کارروائی امدادی سرگرمیوں میں اہم ثابت ہو سکتی ہے۔ان تمام سرگرمیوں کو ایک ساتھ دیکھا جائے تو فوج کا کردار صرف سرحدی نگرانی تک محدود دکھائی نہیں دیتا۔ ایک دور افتادہ اسکول میں استاد اور طالب علم کے درمیان ہونے والی سرگرمی سے لے کر کسی گاؤں میں کھیل کے مقابلے، نوجوانوں کے لیے ہنرمندی کی تربیت، قومی یکجہتی کے دورے یا قدرتی آفت کے دوران امدادی کارروائی تک، ان کوششوں کے مختلف پہلو سامنے آتے ہیں۔ نوجوان کسی بھی معاشرے کا سب سے متحرک طبقہ ہوتے ہیں اور انہیں تعلیم، ہنر، مواقع اور اعتماد فراہم کرنا مستقبل کی تعمیر میں براہ راست سرمایہ کاری کے مترادف ہے۔جموں و کشمیر جیسے سرحدی اور پہاڑی خطوں میں اس ضرورت کی اہمیت مزید بڑھ جاتی ہے، جہاں جغرافیائی دشواریاں بعض اوقات عام شہری سہولتوں اور بڑے اداروں تک رسائی کو مشکل بنا دیتی ہیں۔ ایسے حالات میں تعلیم اور مواقع کو دور افتادہ علاقوں تک پہنچانے کی ہر کوشش نوجوانوں کے لیے نئے راستے کھول سکتی ہے۔ سرحد پر کھڑا سپاہی ملک کی جغرافیائی حدود کی حفاظت کرتا ہے، لیکن ان حدود کے اندر رہنے والی نئی نسل کو بہتر تعلیم، ہنر اور مواقع فراہم کرنا بھی ایک مضبوط اور پُراعتماد معاشرے کی تشکیل میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔ نوجوانوں کی صلاحیتوں کو سمت ملےتو دور دراز علاقے بھی ملک کی ترقی کے مرکزی دھارے سے مضبوطی کے ساتھ جڑ سکتے ہیں۔

 

 

Previous Post

ڈیجیٹل دور میں کشمیر میں سیاحت کے نئے مواقعے

تحریر:اے ا ر بھٹ

تحریر:اے ا ر بھٹ

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.