قارئین،جموں و کشمیر میں خواتین نہ صرف اپنے ماضی کی مشکلات سے نکل رہی ہیں بلکہ اپنے مستقبل کی سمت بھی خود متعین کر رہی ہیں۔ تعلیم، کاروبار، ہنر، انتظامیہ، کھیل اور ٹیکنالوجی سمیت مختلف شعبوں میں ان کی بڑھتی ہوئی موجودگی اس بات کا ثبوت ہے کہ کسی بھی معاشرے کی حقیقی ترقی خواتین کو بااختیار بنائے بغیر ممکن نہیں۔ کشمیر کی خواتین آج محض تبدیلی کا حصہ نہیں بلکہ خود تبدیلی کی معمار بن رہی ہیں۔اس تبدیلی کی اہمیت کو سمجھنے کے لیے ماضی کی ان رکاوٹوں کو دیکھنا ضروری ہے جنہوں نے کشمیری خواتین کی معاشی آزادی کو محدود کیے رکھا۔ ایک طویل عرصے تک بعض قانونی اور سماجی بندشوں کے باعث عورت کی جائیداد، روزگار اور معاشی حقوق اس کی ازدواجی حیثیت سے بھی متاثر ہوتے تھے۔ اگر کوئی خاتون مخصوص ڈومیسائل حدود سے باہر شادی کرتی تو اسے اپنے مستقل رہائشی حقوق سے محرومی کا سامنا کرنا پڑتا تھا، جس کے نتیجے میں آبائی جائیداد میں وراثتی حق اور سرکاری ملازمت جیسے مواقع بھی متاثر ہوتے تھے۔ اس نظام نے خواتین کو معاشی طور پر خاندان اور مردوں پر انحصار کرنے پر مجبور کیے رکھا۔ بعد میں ہونے والی آئینی اور قانونی تبدیلیوں نے اس امتیازی ڈھانچے کو ختم کرنے کی راہ ہموار کی۔ آج خواتین کو جائیداد رکھنے، اپنی محنت سے دولت پیدا کرنے اور معاشی فیصلے خود کرنے کے زیادہ وسیع مواقع حاصل ہیں، جس نے ان کے اندر خود اعتمادی اور خود انحصاری کو نئی قوت دی ہے۔قارئین کو بتادیں کہ ایک زمانہ تھا جب کشمیر کا ذکر دنیا میں طویل عرصے تک زیادہ تر سیاسی کشمکش، بدامنی اور بیرونی مداخلت کے حوالے سے ہوتا رہا، جس کے باعث اس خطے کی اصل طاقت یعنی یہاں کے باصلاحیت اور محنتی لوگوں کی صلاحیتیں اکثر پس منظر میں چلی گئیں۔ اس صورتحال کا سب سے زیادہ اثر خواتین کی سماجی اور معاشی شرکت پر پڑا۔ تاہم اب حالات تیزی سے بدل رہے ہیں۔ اسی ماحول میں کشمیر کی وادی میں خواتین کی کاروباری سرگرمیوں نے ایک نئی شکل اختیار کی ہے۔ جو خواتین کبھی گھریلو ذمہ داریوں تک محدود سمجھی جاتی تھیں، وہ اب باقاعدہ کاروباری ادارے قائم کر رہی ہیں اور مختلف شعبوں میں اپنی شناخت بنا رہی ہیں۔ حالیہ اعداد و شمار کے مطابق مختصر عرصے میں خواتین کی قیادت میں تقریباً دو لاکھ خرد، چھوٹی اور درمیانے درجے کے کاروباری ادارے رجسٹر ہوئے ہیں۔ ان میں ایک نمایاں تعداد ایسے اداروں کی ہے جو پیداواری اور صنعتی سرگرمیوں سے وابستہ ہیں۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خواتین اب غیر رسمی معیشت کے محدود دائرے سے نکل کر باقاعدہ کاروباری سرگرمیوں کا حصہ بن رہی ہیں۔ حکومت کی مختلف اسکیموں نے بھی اس عمل کو تقویت دی ہے۔ امید جیسی اسکیموں کے ذریعے خواتین کو خود مدد گروپوں میں منظم کیا گیا، جس سے انہیں باہمی تعاون، قرض تک رسائی اور مالی اعتبار پیدا کرنے میں مدد ملی۔دیہی علاقوں میں خواتین کی معاشی خود انحصاری نے اس تبدیلی کو مزید گہرا کیا ہے۔ جموں و کشمیر میں ڈھائی لاکھ سے زیادہ خواتین اب پائیدار اور آزاد آمدنی حاصل کر رہی ہیں۔ یہ صرف ایک مالی کامیابی نہیں بلکہ سماجی تبدیلی کی بنیاد بھی ہے۔ جب ایک عورت اپنی آمدنی خود پیدا کرتی ہے تو گھر کے اہم فیصلوں میں اس کی آواز بھی مضبوط ہوتی ہے۔ بچوں کی تعلیم، صحت، رہائش اور مستقبل سے متعلق معاملات میں اس کی رائے کو زیادہ اہمیت ملتی ہے۔ یوں خواتین کی معاشی آزادی پورے خاندان کے معیار زندگی کو بہتر بنانے کا ذریعہ بنتی ہے۔ ساتھ ہی سآتھ جیسی اسکیموں کے ذریعے دیہی خواتین کے
چھوٹے کاروباروں کو محض روزگار کا ذریعہ بنانے کے بجائے انہیں منافع بخش تجارتی سرگرمیوں میں تبدیل کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔ تربیت، بہتر تشہیر، برانڈ سازی اور برقی تجارت کے مواقع نے مقامی خواتین کاریگروں کے لیے ملکی اور عالمی منڈیوں تک رسائی کے دروازے کھول دیے ہیں۔ہمالیائی خطے کا دشوار گزار جغرافیہ ہمیشہ سے یہاں کے لوگوں سے جدت اور حالات کے مطابق خود کو ڈھالنے کا تقاضا کرتا رہا ہے۔ کشمیر کی خواتین نے بھی اس چیلنج کو موقع میں تبدیل کیا ہے۔ جدید ٹیکنالوجی نے انہیں جغرافیائی رکاوٹوں سے نکلنے کا ایک نیا راستہ فراہم کیا ہے۔ مہوش مشتاق جیسی خواتین نے کئی برس پہلے ہی یہ ثابت کر دیا تھا کہ وادی کی لڑکیاں ٹیکنالوجی کے میدان میں بھی نئی راہیں ہموار کرسکتی ہیں۔ انہوں نے ایک ایسے وقت میں اپنی صلاحیت کا مظاہرہ کیا جب خواتین کی ٹیکنالوجی کے شعبے میں موجودگی بہت محدود تھی۔ آج نئی نسل کی نوجوان خواتین آن لائن کاروبار، فیشن، برقی تجارت اور دیگر جدید شعبوں میں قدم رکھ رہی ہیں۔ وہ کشمیر کے روایتی ہنر، دست کاری، کشیدہ کاری اور ہاتھ سے بننے والی مصنوعات کو جدید کاروباری طریقوں کے ساتھ جوڑ کر دنیا بھر کے خریداروں تک پہنچا رہی ہیں۔ اس طرح گھر بیٹھے کاروبار کرنے کا موقع خواتین کو معاشی آزادی کے ساتھ ساتھ محفوظ اور لچک دار کام کا ماحول بھی فراہم کر رہا ہے۔خواتین کی کاروباری سرگرمیوں نے عوامی اور تجارتی مقامات کے تصور کو بھی بدلنا شروع کیا ہے۔ روہی نازکی جیسی کاروباری شخصیات نے ایسے خوب صورت اور باوقار مقامات متعارف کرائے ہیں جہاں کشمیری ثقافت، تاریخی حسن اور جدید طرز زندگی ایک دوسرے سے ہم آہنگ دکھائی دیتے ہیں۔ ایسے مراکز خاندانوں کے لیے محفوظ اور خوشگوار ماحول فراہم کرتے ہیں اور اس طرح خواتین کے لیے عوامی و تجارتی زندگی میں شرکت کے نئے امکانات پیدا ہوتے ہیں۔ دوسری جانب سول سوسائٹی سے وابستہ کئی خواتین نے ثقافتی ورثے کے تحفظ کو بھی اپنی ترجیحات میں شامل کیا ہے۔ تاریخی عمارتوں کی خریداری، بحالی اور انہیں عجائب گھروں، ثقافتی مراکز اور ہنر سکھانے کے مراکز میں تبدیل کرنے کی کوششیں اس بات کی مثال ہیں کہ خواتین اب صرف معاشی میدان ہی میں نہیں بلکہ اپنے خطے کی تہذیبی شناخت کے تحفظ میں بھی فعال کردار ادا کر رہی ہیں۔خواتین کی ان کامیابیوں کی سب سے بڑی اہمیت یہ ہے کہ وہ نئی نسل کے ذہنوں سے وہ نفسیاتی دیواریں گرا رہی ہیں جو کئی دہائیوں کے حالات اور سماجی قدامت پسندی نے کھڑی کر دی تھیں۔ سرکاری انتظامیہ جیسے مشکل اور مسابقتی میدان میں ڈاکٹر رویدہ سلام جیسی خواتین نے اپنی قابلیت کا لوہا منوایا ہے۔ سخت مسابقتی امتحانات کامیاب کرکے اعلیٰ انتظامی خدمات تک پہنچنے والی ایسی شخصیات نوجوان لڑکیوں کو یہ یقین دلاتی ہیں کہ ان کے لیے بھی کامیابی کے دروازے کھلے ہیں۔ اسی طرح انشا بشیر کی مثال بھی غیر معمولی حوصلے کی داستان ہے۔ شدید جسمانی مشکلات اور کھیلوں کے محدود بنیادی ڈھانچے کے باوجود انہوں نے وہیل چیئر باسکٹ بال میں بین الاقوامی سطح پر اپنی شناخت بنائی۔ ان کی کامیابی صرف ایک کھلاڑی کی کامیابی نہیں بلکہ ان تمام خواتین کے لیے پیغام ہے جو مشکلات کے باوجود اپنے خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کا عزم رکھتی ہیں۔قارئین ، کشمیر کی خواتین کی یہ پیش رفت کسی ایک اسکیم، ادارے یا فرد کی کامیابی نہیں بلکہ ایک وسیع سماجی تبدیلی کا آغاز ہے۔ معاشی خود انحصاری، تعلیم، ٹیکنالوجی، کاروبار، ثقافت، انتظامیہ اور کھیل کے میدان میں خواتین کی بڑھتی ہوئی شرکت کشمیر کے مستقبل کو نئی سمت دے رہی ہے۔ جس خطے کو کبھی صرف مشکلات اور تنازعات کے حوالے سے دیکھا جاتا تھا، وہاں آج خواتین اپنی محنت اور صلاحیت سے ایک مختلف تصویر پیش کر رہی ہیں۔ ان
کی کامیابی دراصل کشمیر کی ترقی کی کامیابی ہے، اور کشمیر کی ترقی بھارت کی مجموعی ترقی اور مضبوطی میں ایک اہم اضافہ ہے۔