• Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Saturday, October 17, 2026
JKNS
No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World
No Result
View All Result
JKNS | Jammu Kashmir News Service
No Result
View All Result
Home Article

ذاتی سانحے سے عوامی تحفظ تک، سرینگر کے مدثر علی کی منفرد پہل

تحریر:زرشد رسول by تحریر:زرشد رسول
October 17, 2026
in Article
A A
FacebookTwitterWhatsapp

قارئین،جموں و کشمیر میں جنگلات، پہاڑوں اور انسانی آبادیوں کے درمیان قربت جہاں خطے کی خوبصورتی میں اضافہ کرتی ہے، وہیں جنگلی جانوروں کی انسانی بستیوں میں آمد نے عوامی تحفظ کے حوالے سے کئی خدشات بھی پیدا کیے ہیں۔ آبادیوں کے پھیلاؤ اور قدرتی مسکن کے قریب انسانی سرگرمیوں میں اضافے کے باعث ریچھ، تیندوے اور دیگر جنگلی جانوروں سے آمنا سامنا ہونے کے واقعات مختلف علاقوں میں لوگوں کے لیے تشویش کا باعث بن رہے ہیں۔ ایسے حالات میں بروقت اطلاع اور عوامی بیداری کسی بڑے حادثے کو روکنے میں اہم کردار ادا کرسکتی ہے۔ اسی ضرورت کو محسوس کرتے ہوئے سرینگر سے تعلق رکھنے والے سافٹ ویئر ڈیولپر مدثر علی نے WildPing.org کے نام سے ایک مفت آن لائن پلیٹ فارم متعارف کرایا ہے، جس کا مقصد لوگوں کو ان کے آس پاس جنگلی جانوروں کی موجودگی سے خبردار کرنا ہے۔ اس پہل کی خاص بات یہ ہے کہ اس کے پیچھے محض ٹیکنالوجی سے وابستہ ایک خیال نہیں بلکہ ایک ایسا ذاتی سانحہ بھی ہے جس نے مدثر علی کو دوسروں کی زندگیاں محفوظ بنانے کی کوشش پر آمادہ کیا۔تقریباً چھ برس قبل مدثر علی کی والدہ گھر سے چند قدم کے فاصلے پر ریچھ کے حملے میں جاں بحق ہوگئیں۔ یہ واقعہ ان کے خاندان کے لیے ایک ناقابلِ تلافی نقصان تھا، لیکن اس نے مدثر علی کو اس خطرے کا بھی شدت سے احساس دلایا جو جنگلی جانوروں کے قریب واقع بستیوں میں رہنے والے خاندانوں کو لاحق رہتا ہے۔ کسی عزیز کو اس طرح کھو دینے کا دکھ الفاظ میں بیان کرنا آسان نہیں، تاہم مدثر علی نے اپنے غم کو صرف ایک تلخ یاد بننے دینے کے بجائے اسے ایک ایسے مقصد سے جوڑنے کا فیصلہ کیا جس سے دوسرے خاندانوں کو ممکنہ طور پر ایسے حادثات سے بچانے میں مدد مل سکے۔ ان کی یہ کوشش ظاہر کرتی ہے کہ ذاتی تجربے کو فنی مہارت اور سماجی ذمہ داری کے ساتھ جوڑ دیا جائے تو اس سے عوامی مسائل کے حل کی عملی راہیں نکل سکتی ہیں۔قارئین،WildPing.org کا بنیادی مقصد لوگوں کو اپنے آس پاس جنگلی جانوروں کی موجودگی کے بارے میں پہلے سے آگاہ کرنا ہے، تاکہ وہ انجانے میں کسی خطرناک صورت حال کا سامنا کرنے سے بچ سکیں۔ اس پلیٹ فارم کے ذریعے صارفین ریچھ، تیندوے یا دوسرے جنگلی جانوروں کی موجودگی کی اطلاع درج کرسکتے ہیں۔ اطلاع موصول ہونے کے بعد تقریباً ڈھائی کلومیٹر کے دائرے میں موجود لوگوں کو فوری خبردار کرنے کا انتظام ہے، جس سے انہیں محتاط رہنے اور اپنی نقل و حرکت کے بارے میں بہتر فیصلہ کرنے میں مدد مل سکتی ہے۔ اس طرح کی اطلاع ان لوگوں کے لیے خاص طور پر مفید ثابت ہوسکتی ہے جنہیں سنسان راستوں سے گزرنا پڑتا ہے، جو بچے روزانہ پیدل اسکول جاتے ہیں، جو کسان کھیتوں اور باغات میں کام کرتے ہیں یا جن کی روزمرہ سرگرمیاں جنگلات سے متصل علاقوں میں انجام پاتی ہیں۔ اس نظام کے ذریعے کسی ایک مقام پر جنگلی جانور کی موجودگی کی اطلاع آس پاس کی وسیع تر آبادی کے لیے احتیاط کا ذریعہ بن سکتی ہے۔اس پلیٹ فارم کی ایک اہم خصوصیت یہ ہے کہ اس کے استعمال کے لیے موبائل فون میں الگ سے کوئی اطلاقیہ نصب کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔ لوگ براہِ راست ویب سائٹ کے ذریعے اس سہولت سے فائدہ اٹھا سکتے ہیں۔ اس طریقۂ کار سے ان افراد کے لیے بھی اس کا استعمال آسان ہوجاتا ہے جو موبائل میں نئی ایپلی کیشن نصب کرنے کے طریقے سے زیادہ واقف نہیں یا جن کے فون میں اضافی جگہ محدود ہے۔ پلیٹ فارم انگریزی، ہندی اور اردو زبانوں میں دستیاب ہے، جس سے مختلف لسانی پس منظر رکھنے والے لوگوں تک اس کی رسائی ممکن بنائی گئی ہے۔ جموں و کشمیر جیسے متنوع خطے میں زبان کی یہ سہولت خصوصی اہمیت رکھتی ہے، کیونکہ عوامی تحفظ سے متعلق اطلاع اسی وقت فائدہ مند ہوتی ہے جب اسے سمجھنے اور اس پر عمل کرنے میں لوگوں کو دشواری نہ ہو۔ اس سروس کو مفت رکھنے کا مقصد بھی یہی ہے کہ مالی وسائل کی کمی کسی شخص کو اس سہولت سے محروم نہ کرے۔

وادی کشمیر کے حالات میں اس طرح کے نظام کی ضرورت کو نظرانداز نہیں کیا جاسکتا۔ یہاں متعدد بستیاں جنگلات، سیب کے باغات اور پہاڑی ڈھلوانوں کے قریب واقع ہیں۔ مختلف موسموں میں جنگلی جانور خوراک یا محفوظ پناہ گاہ کی تلاش میں آبادیوں کی طرف آ سکتے ہیں۔ اگر لوگوں کو ان کی موجودگی کا علم نہ ہو تو ردعمل ظاہر کرنے کے لیے وقت بہت کم رہ جاتا ہے۔ ایسے میں مقامی سطح پر اطلاعات کے تبادلے کا نظام اس کمی کو دور کرنے میں مدد دے سکتا ہے۔ اگر لوگ اس پلیٹ فارم کو وسیع پیمانے پر اپنائیں اور ذمہ داری کے ساتھ استعمال کریں تو اس سے ایسی اجتماعی بیداری کو فروغ مل سکتا ہے جس میں ہر شہری اپنی حفاظت کے ساتھ اپنے پڑوسیوں کی سلامتی میں بھی حصہ دار بنے۔تاہم یہ بات ذہن میں رکھنا ضروری ہے کہ ٹیکنالوجی محکمہ جنگلی حیات اور متعلقہ ہنگامی اداروں کے نظام کا متبادل نہیں بن سکتی۔ کسی بھی اطلاع رسانی کے پلیٹ فارم کی افادیت کا انحصار درست معلومات، بروقت اطلاع اور صارفین کے ذمہ دارانہ رویے پر ہوتا ہے۔ جنگلی جانور کی موجودگی سے متعلق اطلاع ملنے پر لوگوں کو اس مقام سے محفوظ فاصلہ برقرار رکھنا چاہیے، تصویر بنانے کے لیے جانور کے قریب جانے سے گریز کرنا چاہیے اور بچوں کو متاثرہ علاقے سے دور رکھنا چاہیے۔ متعلقہ حکام اور محکمہ جنگلی حیات کی ہدایات پر عمل کرنا بھی ضروری ہے۔ اسی طرح لوگوں کو چاہیے کہ وہ افواہوں یا غیر مصدقہ اطلاعات کے بجائے صرف حقیقی مشاہدے کی بنیاد پر اطلاع دیں، تاکہ اس نظام پر عوام کا اعتماد قائم رہے۔ مقامی آبادی، انتظامیہ، جنگلات و جنگلی حیات کے محکموں اور سماجی تنظیموں کے درمیان تعاون اس پہل کو مزید مؤثر بنا سکتا ہے۔

مدثر علی کی یہ کوشش اس حقیقت کو بھی اجاگر کرتی ہے کہ مقامی مسائل کے حل میں مقامی صلاحیتوں اور اختراعی سوچ کی کتنی اہمیت ہے۔ ٹیکنالوجی کو اکثر بڑی کمپنیوں، بھاری سرمایہ کاری اور وسیع وسائل سے جوڑ کر دیکھا جاتا ہے، لیکن WildPing.org جیسی پہل ظاہر کرتی ہے کہ ایک محدود اور واضح مقصد کے تحت تیار کیا گیا ڈیجیٹل نظام بھی کسی اہم سماجی ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔ اس کی اصل اہمیت صرف اس سافٹ ویئر میں نہیں جو اسے چلاتا ہے بلکہ اس مقصد میں بھی ہے جس نے اس کی تخلیق کی تحریک فراہم کی۔

مدثر علی کا ذاتی صدمے سے عوامی خدمت تک کا سفر معاشرے کے لیے ایک بامعنی پیغام رکھتا ہے۔ گزرے ہوئے سانحے کو بدلا نہیں جاسکتا، لیکن اس سے حاصل ہونے والے تجربے کو دوسروں کو اسی تکلیف سے بچانے کی کوشش میں ضرور تبدیل کیا جاسکتا ہے۔ WildPing.org اسی سوچ کی عکاسی کرتا ہے کہ بروقت معلومات اور اجتماعی تعاون انسانی جانوں کے تحفظ میں مددگار ثابت ہوسکتے ہیں۔ جموں و کشمیر کے لیے، جہاں انسانی آبادی اور جنگلی حیات کو ساتھ ساتھ موجود رہنا ہے، ایسی کوششوں کو مناسب توجہ اور عوامی تعاون ملنا چاہیے۔ درست اطلاعات، مسلسل بیداری اور متعلقہ اداروں کے اشتراک سے یہ مفت پلیٹ فارم مقامی آبادی کے لیے ایک مفید

ذریعہ بن سکتا ہے۔ بالآخر اس پہل کا بنیادی پیغام یہی ہے کہ بروقت آگاہی کسی بڑے نقصان کو روکنے میں اہم ثابت ہوسکتی ہے اور ایک شخص کا عزم پورے معاشرے کے لیے امید کا سبب بن سکتا ہے۔

 

Previous Post

National Lok Adalat Held at Beerwah Court Complex, Cheque Bounce Cases Taken Up

تحریر:زرشد رسول

تحریر:زرشد رسول

Leave a Reply Cancel reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *

  • Home
  • Our Team
  • About Us
  • Contact Us
Dalgate, Near C.D hospital Srinagar Jammu and Kashmir. Pincode: 190001.
Email us: editorjkns@gmail.com

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

No Result
View All Result
  • Home
  • Top Stories
  • Kashmir
  • Jammu
  • National
  • Business
  • Sports
  • Oped
  • World

© JKNS - Designed and Developed by GITS.

This website uses cookies. By continuing to use this website you are giving consent to cookies being used. Visit our Privacy and Cookie Policy.