مشاعرہ ختم ہوتے ہی شاکر شفیع نے اعلان کیا کہ اب کانفرنس کی ایک اہم نشست منعقد ہونے جا رہی ہے، جس میں کشمیری زبان کے نعتیہ ادب، مرثیہ نگاری اور بھگتی شاعری کے حوالے سے تین مقالے پیش کیے جائیں گے۔ اس نشست کی نظامت کے لیے انہوں نے برادرم ریاض الحسن کو دعوت دی کہ وہ تشریف لائیں اور کارروائی آگے بڑھائیں۔
ریاض الحسن خاموش طبع، شریف النفس اور اپنی ذمہ داریوں کو سنجیدگی سے نبھانے والے انسان ہیں۔ ان کی علمی و ادبی خدمات میں حال ہی میں تصنیف کردہ ضخیم کتاب ’’ادبی مرکز کمراز: اکھ تنظیم، اکھ تحریک‘‘ خاص اہمیت رکھتی ہے، جس میں انہوں نے اس ادارے کی تاریخ کو یکجا کرکے محفوظ کرنے کی قابلِ قدر کوشش کی ہے۔ اس کے علاوہ رسولِ اکرم حضرت محمد مصطفیٰ ﷺ کی سیرتِ مبارکہ پر مشتمل کتاب ’’درِیتی٘م‘‘ کا کشمیری ترجمہ، ’’کاشر ڈراما: روایت تہ تجربہ‘‘ کی ترتیب اور عزیز حاجنی کی ایک اردو کتاب کا کشمیری ترجمہ ’’ویتھ بٹھی بٹھی‘‘ بھی ان کے علمی کاموں میں شامل ہیں۔
ان کا یہ تذکرہ برسبیلِ تذکرہ آ گیا، اب واپس اس نشست کی طرف لوٹتے ہیں جہاں کشمیری زبان کے تین اہم گوشوں پر گفتگو ہونے والی تھی۔
ریاض الحسن نے سب سے پہلے ایوانِ صدارت سجایا۔ پروفیسر شاد رمضان کو صدارت کے لیے دعوت دی گئی، جب کہ ڈاکٹر شفیع سنبھلی، کہنہ مشق شاعر سعد الدین سعدی اور جموں و کشمیر بینک کے چیف منیجر جناب فیاض احمد گنائی بھی ایوانِ صدارت میں تشریف فرما ہوئے۔ مشاعرے کی شعری فضا اب ایک علمی ماحول میں ڈھل رہی تھی، جہاں زبان، عقیدت اور شعری روایت کے مختلف پہلو زیرِ بحث آنے والے تھے۔
پہلا مقالہ پیش کرنے کے لیے نوجوان اسکالر ڈاکٹر یونس ٹھوکر کو ڈائس پر بلایا گیا۔ وہ ایک ہونہار اسکالر ہیں۔ ان کا اندازِ گفتگو قدرے تیز ہے، جیسے وہ اپنے خیالات جلد از جلد سامعین تک پہنچانا چاہتے ہوں، تاہم ان کی گفتگو میں بنیادی نکات کو سمجھنے اور ان تک پہنچنے کی صلاحیت نمایاں ہے۔
جوں ہی انہوں نے مائیک سنبھالا، پنڈال میں ایک خاص توجہ محسوس ہونے لگی۔ اس کی ایک وجہ مقالے کا موضوع تھا: ’’کشمیری نعت‘‘۔
نعت محض ایک صنفِ سخن نہیں؛ یہ رسولِ اکرم ﷺ سے عقیدت و محبت کے اس رشتے کا اظہار ہے جو سننے والے کے دل میں بھی احترام اور وارفتگی کی کیفیت پیدا کرتا ہے۔ دوسری وجہ یہ تھی کہ ڈاکٹر یونس ٹھوکر بنیادی طور پر اردو کے اسکالر ہیں اور میری دانست میں کشمیری زبان میں شاید یہ ان کا پہلا مقالہ تھا۔ وہ بھی نعت جیسی عقیدت سے لبریز صنفِ سخن پر۔ میرے اندر یہ جاننے کا اشتیاق پیدا ہوا کہ اردو ادب کا یہ نوجوان طالبِ علم کشمیری نعت کی روایت کو کس زاویے سے دیکھتا ہے اور اس کے تاریخی و ادبی پہلوؤں کو کس طرح سامنے لاتا ہے۔
ڈاکٹر یونس ٹھوکر نے پہلے صنفِ نعت کی اصطلاحی تعریف پیش کی، پھر کشمیری ادب کے تاریخی پس منظر میں نعت گوئی کی روایت پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے شیخ العالمؒ کو کشمیری زبان کا اولین نعت گو شاعر قرار دیتے ہوئے ان کا ایک نعتیہ شرُکھ پڑھ کر سنایا:
حضرت محمد دَیہِ سُنٛد پیارہ
دَمہٕ دَمہٕ جبریل یار تَس
تٔمۍ ییٚلہِ سکھر کٔر توٚت پارہ
دَپھ تہٕ بایہِ دُنیا سور چھُ کس
اس شرُکھ کے بعد مقالہ نگار نے ایک اہم نکتے کی طرف توجہ دلائی۔ ان کے مطابق، اس کے بعد تقریباً ڈیڑھ سو برس تک کوئی ایسا شاعر کشمیری شعری منظرنامے پر نمایاں دکھائی نہیں دیتا جس کی نعتیہ شاعری کا ذکر اسی تسلسل کے ساتھ سامنے آتا ہو۔ یہ ایک اہم تحقیقی سوال ہے کہ اس طویل عرصے میں کشمیری نعت گوئی کی روایت کس حال میں رہی اور اس کے شواہد کہاں محفوظ ہیں۔
اس کے بعد ڈاکٹر یونس ٹھوکر نے حبیب اللہ نوشہری کی نعت گوئی کا ذکر کیا اور ان کے مشہور نعتیہ کلام کے دو اشعار پیش کیے:
کنت کنزاً آو یے
جلو ماران دراویے
نحن اقرب آو یے
یار گژھیو دیوے
حبیب اللہ نوشہری کے بعد فاخر صاحب اور میر عبداللہ بیہقی کی نعت گوئی کا تذکرہ ہوا۔ پھر گفتگو محمود گامیؒ کی طرف بڑھی، جن کے ذکر کے بغیر کشمیری نعت گوئی کی تاریخ کا تصور ادھورا رہتا ہے۔
محمود گامیؒ کی نعتیہ شاعری میں مجھے سب سے زیادہ کشمیری زبان کا خالص مقامی رنگ متاثر کرتا ہے۔ ان کے لفظوں میں عقیدت کی گہرائی بھی ہے اور اپنی مٹی کی خوشبو بھی۔ یوں محسوس ہوتا ہے جیسے ایک مانوس زبان اپنے مانوس لہجے میں محبتِ رسول ﷺ کا اظہار کر رہی ہو۔ ڈاکٹر یونس ٹھوکر نے ان کے یہ اشعار پڑھ کر سنائے:
دپان چھُس روزٕ تَتہِ روضہٕ چونُے
وُچھِتھ اَز بٔردٕ یمن یا محمدؐ
فقیرن ذکرِ صفی فکرِ خفی
تِمَے مٲرۍ چٲنۍ غمن یا محمدؐ
یہ اشعار سن رہا تھا کہ میرے حافظے میں اسی نعت کے دو اور شعر گونجنے لگے:
مہربان گژھتہٕ یِمَن یا محمدؐ
بہٕ وَنٛدے سَر قدٲمن یا محمدؐ
پرٛزلوٕنۍ نوٗرٕ بٔرتی وہ ستارے
سُہ تعریٖف چھی ژےٚ نمن یا محمدؐ
بعض اشعار محض کانوں سے نہیں گزرتے، وہ حافظے کی تہوں میں اتر کر وہیں ٹھہر جاتے ہیں۔ برسوں بعد کسی محفل میں انہی اشعار کی بازگشت سنائی دے تو یوں لگتا ہے جیسے کوئی پرانی نسبت پھر سے جاگ اٹھی ہو۔ محمود گامیؒ کی نعتیہ شاعری میں یہی تاثیر محسوس ہوتی ہے۔ ان کے لفظوں میں زبان، تہذیب اور عقیدت ایک دوسرے سے اس طرح جڑے ہوئے ہیں کہ انہیں الگ کرکے دیکھنا ممکن نہیں رہتا۔
مقالہ آگے بڑھا تو مقبول شاہ کرالہ واری، مقبول امرتسری، سیف الدین تاربلی اور میر ثنا اللہ کریری کا ذکر کرتے ہوئے انہیں مولانا جامی کا ہم عصر قرار دیا گیا۔ یہ بات سنتے ہی میرے ذہن میں ایک سوال ابھرا۔ مولانا جامی پندرھویں صدی کے شاعر ہیں، جب کہ مذکورہ کشمیری شعرا کا تعلق انیسویں صدی سے بتایا جاتا ہے۔ پھر انہیں زمانی اعتبار سے مولانا جامی کا ہم عصر کیسے قرار دیا جا سکتا ہے؟ دونوں کے درمیان تقریباً چار صدیوں کا فاصلہ ہے۔
میں نے سوچا، ممکن ہے مقالہ نگار کا مقصود زمانی ہم عصری کے بجائے اسلوبی مماثلت کی طرف اشارہ کرنا ہو۔ یعنی جس طرح مولانا جامی نے نعت گوئی میں اپنا منفرد اسلوب اختیار کیا، اسی طرح کشمیری شعرا نے بھی اپنی زبان اور تہذیبی پس منظر میں اس صنف کو ادبی وقار بخشا۔ تاہم، اسلوبی مماثلت اور زمانی ہم عصری دو الگ باتیں ہیں۔ علمی گفتگو میں اس فرق کو ملحوظ رکھنا ضروری ہے، کیونکہ کسی شاعر کے فنی امتیازات کو سمجھنے کے لیے اس کی تاریخی تعیین بھی اتنی ہی اہم ہے جتنی اس کے کلام کی فنی خوبیوں کی نشان دہی۔
اسی دوران ڈاکٹر یونس ٹھوکر نے ثناء اللہ کریریؒ کا یہ کلام پڑھا:
ہاواو واتکھنا توتے ییتہ ڈاپھ تراوتھ مصطفےٰؐ
احوال میانی تس ونکھ سے ہو کریم دادین دوا
استاد روزتھ عرض کر کاشر غریبا پیوو پتھر
بے چاروبےکس بے ہنر، بے یارو یاور بے نوا
یہ اشعار سنتے ہی میرے اندر یادوں کا ایک بند دریچہ کھل گیا۔ میں یکایک اپنے بچپن کی ان صبحوں میں پہنچ گیا جب والد صاحب، اللہ تعالیٰ ان کا سایہ تادیر میرے سر پر قائم رکھے، اکثر مجھے آواز دیتے:
’’چلو، صبح صادق کا وقت گزر رہا ہے، مسجد میں دعائے صبح پڑھنی ہے۔‘‘
ان کی آواز میں ایسی اپنائیت اور سنجیدگی ہوتی کہ نیند کے غلبے کے باوجود انکار کی گنجائش کم ہی رہ جاتی۔ میں کبھی نیم خوابیدہ آنکھوں سے اٹھتا، کبھی بستر چھوڑنے میں کچھ دیر کرتا، لیکن بالآخر ان کے ساتھ چل پڑتا۔ ان دنوں شاید مجھے ان معمولات کی معنویت کا پورا احساس نہیں تھا۔ ایک روز میں نے ان سے پوچھ ہی لیا:
’’بابا! آپ صبح کی نماز سے پہلے دعائے صبح پڑھتے ہیں اور نماز کے بعد اورادِ فتحیہ، آخر اس کی کیا وجہ ہے؟‘‘
اس وقت یہ ایک بچے کا سادہ سا سوال تھا، مگر آج زندگی کے کئی موسم گزر جانے کے بعد محسوس ہوتا ہے کہ اس کے پیچھے ایک گہری جستجو چھپی ہوئی تھی۔ میں جاننا چاہتا تھا کہ وہ کون سی قوت ہے جو انسان کو صبح کے اندھیرے میں نیند کی راحت چھوڑ کر مسجد تک لے جاتی ہے؟ وہ کون سا جذبہ ہے جو اسے ہر روز اپنے رب کے حضور حاضر ہونے اور اپنے بزرگوں سے ورثے میں ملی دعاؤں کو دہرانے پر آمادہ کرتا ہے؟
آج پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو محسوس ہوتا ہے کہ والد صاحب نے شاید اس سوال کا جواب الفاظ سے کم اور اپنے عمل سے زیادہ دیا تھا۔ ان کی پابندی، عبادت سے وابستگی اور دعاؤں کا اہتمام میرے لیے ایک خاموش درس تھا۔ انہوں نے مجھے یہ سمجھایا کہ زندگی صرف اپنی ضرورتوں اور خواہشوں تک محدود نہیں۔ اس میں اپنے خالق سے تعلق، اپنے بزرگوں کی روایت سے وابستگی اور اپنے اندر عاجزی پیدا کرنے کی بھی ایک جگہ ہے۔
ان کے لیے دعائے صبح اور اورادِ فتحیہ محض چند کلمات کی تکرار نہیں تھے، بلکہ ایک روحانی روایت کا حصہ تھے جو نسل در نسل کشمیری مسلمانوں کی زندگیوں میں منتقل ہوتی رہی ہے۔ ثناء اللہ کریریؒ کے اشعار نے اسی روایت سے وابستہ میری یادوں کو چھو لیا تھا۔ ایک لمحے کے لیے پنڈال، سامعین اور مقالے کی آواز پس منظر میں چلے گئے۔ میرے سامنے صرف وہ صبحیں تھیں، والد صاحب کی آواز تھی اور مسجد کی طرف بڑھتے ہوئے قدموں کی چاپ۔
مگر یادوں کا سفر زیادہ دیر تک جاری نہ رہ سکا۔ ڈاکٹر یونس ٹھوکر کا مقالہ آگے بڑھ رہا تھا اور میری توجہ پھر سے اس طرف لوٹنے لگی۔ اسی دوران پیر عزیز اللہ حقانیؒ کا یہ مصرع میرے کانوں میں پڑا:
گوو جہاں تازہ بہ رخسار رسولِ عربیؐ
واہ! کیا نعتیہ مصرع ہے! اس میں عقیدت کی ایک ایسی کیفیت محسوس ہوتی ہے جو دل کو بے اختیار احترام سے جھکا دیتی ہے۔ بعض اشعار اپنے الفاظ سے بڑھ کر ایک احساس اپنے اندر سموئے ہوتے ہیں۔ انہیں سنتے ہوئے انسان صرف شاعر کے فن کو نہیں دیکھتا، بلکہ اس جذبے کو بھی محسوس کرتا ہے جو لفظوں کو ایسی تاثیر عطا کرتا ہے کہ وہ دیر تک دل میں گونجتے رہتے ہیں۔ پیر عزیز اللہ حقانیؒ کا یہ مصرع میرے لیے بھی اسی نوع کی کیفیت کا حامل تھا۔
اس کے بعد مقالہ نگار نے عزیز حاجنی اور شہناز رشید کی نعت گوئی کا ذکر کیا تو میرے ذہن میں ایک اور سوال نے سر اٹھایا۔ مجھے ان شعرا کی ادبی اہمیت سے اختلاف نہیں تھا۔ میرا احساس صرف یہ تھا کہ تاریخی ترتیب کو مزید واضح کیا جا سکتا تھا۔ اگر شعرا کا ذکر ان کے عہد، ادبی پس منظر اور فنی امتیازات کے حوالے سے کیا جاتا تو کشمیری نعت گوئی کا ارتقائی سفر زیادہ نمایاں ہو کر سامنے آتا۔
بعدازاں مقالہ نگار نے مہجور، فاضل کشمیری، غلام حسن غمگین، مرزا عارف، غلام نبی گوہر اور میر غلام رسول نازکی کے نام بھی گنوائے۔ یوں کشمیری نعتیہ ادب کی روایت کے کئی اہم نام سامنے آئے، لیکن میرے ذہن میں یہ احساس باقی رہا کہ اس موضوع پر مزید تفصیل کی گنجائش موجود ہے۔ محض ناموں کا ذکر کسی شعری روایت کی پوری تصویر پیش نہیں کرتا۔ اس کے لیے یہ دیکھنا بھی ضروری ہوتا ہے کہ ہر شاعر نے اپنے عہد میں اس صنف کو کیا دیا، اس کے اسلوب میں کیا تبدیلیاں آئیں اور اس کی شعری روایت آگے کس طرح منتقل ہوئی۔
میں انہی خیالات میں گم تھا کہ گلزار جعفر صاحب میرے قریب آکر بیٹھ گئے۔ مقالے کے استدلال اور اس کے مختلف پہلوؤں پر غور کرتے ہوئے مجھے ان کی آمد کا احساس ذرا دیر سے ہوا۔ وہ بیٹھے ہی تھے کہ مسکراتے ہوئے بولے:
’’سالک صاحب! آپ تو ٹھاکر صاحب کے مقالے میں بالکل کھو گئے ہیں!‘‘
میں ان کی طرف متوجہ ہوا اور مسکراتے ہوئے جواب دیا:
’’ایسی بات نہیں ہے،یونس ٹھاکر نے کشمیری نعتیہ ادب پر محنت سے مقالہ تیار کیا ہے۔ البتہ، کچھ پہلو ایسے ہیں جن پر مزید گفتگو کی گنجائش محسوس ہوئی۔‘‘
گفتگو کا یہ سلسلہ ابھی شروع ہی ہوا تھا کہ مجھے گزشتہ رات کا خیال آگیا۔ میں نے ان سے پوچھا:
’’کل رات کھانا کھانے کے بعد میں نے آپ کو بہت تلاش کیا، لیکن آپ کہیں نظر نہیں آئے۔‘‘
گلزار جعفر صاحب نے بتایا:
’’کل رات میں اور جی ایم کشمیری صاحب، شہباز ہاکباری صاحب کے یہاں گئے تھے۔‘‘
یہ سنتے ہی میرے لہجے میں شوخی در آئی۔
’’پھر تو ’زیرو مین آف انڈیا‘ کے یہاں بڑا مزہ آیا ہوگا!‘‘
جعفر صاحب نے میری بات کی تائید کرتے ہوئے کہا:
’’واقعی، شہباز صاحب کی مہمان نوازی کا کیا کہنا! میرے دوست جی ایم کشمیری کو تو ان سے ملنے کا بڑا اشتیاق تھا۔ وہ برسوں سے ریڈیو پر ان کی آواز سنتے آئے ہیں اور چاہتے تھے کہ اس آواز کے پیچھے موجود شخصیت سے بھی ملاقات ہو۔‘‘
یہ سن کر میری دلچسپی بڑھ گئی۔ ریڈیو پر برسوں کسی آواز کو سنتے رہنا اور پھر ایک دن اس آواز کے مالک سے روبرو ہونا یقیناً ایک الگ تجربہ ہے۔ میں نے پوچھا:
’’جی ایم کشمیری صاحب کا نام تو میں پہلی بار سن رہا ہوں۔ ان کے بارے میں کچھ بتائیے۔‘‘
جعفر صاحب نے بتایا کہ جی ایم کشمیری نے شعبۂ کشمیری سے ایم اے کیا ہے اور آج کل کشمیری زبان پڑھاتے ہیں۔ اس کے ساتھ وہ کشمیری ادب کے سنجیدہ قاری بھی ہیں۔
یہ تعارف سن کر میں نے بے ساختہ کہا:
’’پھر تو محفل بھی خوب جمی ہوگی!‘‘
’’زبردست!‘‘ جعفر صاحب نے جواب دیا۔
ان کے اس مختصر سے جواب میں گزشتہ رات کی محفل کی پوری روداد تو نہیں تھی، لیکن اتنا ضرور تھا کہ میرے اندر اس کی تفصیلات جاننے کا اشتیاق بڑھ گیا۔ میں نے کہا:
’’جعفر صاحب، کچھ احوال ہمیں بھی سنائیے، تاکہ ہم بھی فیض یاب ہو سکیں۔‘‘
وہ بولے:
’’ہماری گفتگو کا موضوع بھی وہی رہا جو پینل ڈسکشن میں زیرِ بحث آیا تھا۔‘‘
اب میری دلچسپی دوچند ہو گئی۔ میں نے فوراً پوچھا:
’’پھر تو ہاکباری صاحب نے اپنا موقف کھل کر بیان کیا ہوگا؟‘‘
جعفر صاحب نے بتایا کہ شہباز ہاکباری صاحب کے نزدیک پینل ڈسکشن کا موضوع اس قدر وسیع اور گہرا تھا کہ اسے ایک نشست میں سمیٹنا ممکن نہیں۔ اس کے مختلف پہلوؤں پر سنجیدہ غور و فکر کے لیے ایک مکمل سیمینار منعقد کیا جانا چاہیے۔
میں نے اثبات میں سر ہلایا۔ ان کی بات میں وزن تھا۔ بعض موضوعات ایسے ہوتے ہیں جنہیں چند مقررین کی گفتگو یا ایک نشست کی بحث کے ذریعے پوری طرح سمجھنا ممکن نہیں ہوتا۔ ان کے لیے مطالعے، مکالمے اور مختلف نقطۂ ہائے نظر کو یکجا کرنے کی ضرورت ہوتی ہے۔ اگر ایک علمی نشست نئے سوالات کو جنم دے تو اسے اس کی ناکامی نہیں سمجھنا چاہیے، بسا اوقات یہی سوالات کسی بڑی اور زیادہ بامعنی بحث کا نقطۂ آغاز بنتے ہیں۔
ہماری گفتگو دھیمی آواز میں جاری تھی۔ ایک طرف گلزار جعفر صاحب گزشتہ رات کی محفل کے احوال سنا رہے تھے، دوسری طرف مائیک پر ڈاکٹر یونس ٹھوکر کی آواز پنڈال میں گونج رہی تھی۔ میں بیک وقت دو محفلوں کا حصہ بنا ہوا تھا۔ (جاری)

