سرینگر، 31 اکتوبر: شمالی کشمیر کے سرحدی علاقے کرناہ، بالخصوص کنڈی کرناہ کے لیے یہ ایک انتہائی مسرت، فخر اور اعزاز کا لمحہ ہے کہ علاقے کے ہونہار نوجوان عمر پیرزادہ، آئی آر ایس (IRS)، جنہوں نے یونین پبلک سروس کمیشن (UPSC) کے سول سروسز امتحان 2024 میں کامیابی حاصل کی، کو جموں و کشمیر کے معزز لیفٹیننٹ گورنر جناب منوج سنہا نے سرینگر کے شیرِ کشمیر انٹرنیشنل کانفرنس سینٹر (SKICC) میں منعقدہ ایک خصوصی تقریب کے دوران اعزاز سے نوازا۔
عمر پیرزادہ کی اس نمایاں کامیابی اور اعلیٰ سطح پر ہونے والی پذیرائی نے نہ صرف ان کے خاندان بلکہ پورے کنڈی کرناہ علاقے کو فخر اور خوشی کا موقع فراہم کیا ہے۔ ان کی کامیابی اس بات کی روشن مثال ہے کہ محنت، لگن، مستقل مزاجی اور بلند عزائم کے ذریعے انسان مشکل سے مشکل منزل بھی حاصل کرسکتا ہے۔
یہ خصوصی تقریب ایکسپشنل آئی اے ایس اکیڈمی (Exceptional IAS Academy) کے زیرِ اہتمام منعقد کی گئی، جس کا مقصد یو پی ایس سی سول سروسز اور جموں و کشمیر ایڈمنسٹریٹو سروس (JKAS) کے امتحانات 2024/25 میں کامیابی حاصل کرنے والے ہونہار امیدواروں کی حوصلہ افزائی اور ان کی غیر معمولی کامیابیوں کا اعتراف کرنا تھا۔ تقریب میں مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والی ممتاز شخصیات، کامیاب امیدواروں اور دیگر معزز مہمانوں نے شرکت کی۔
اس موقع پر لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کامیاب امیدواروں کو مبارک باد پیش کرتے ہوئے ان کی محنت، عزم اور جدوجہد کو سراہا۔ ان کے ہاتھوں عمر پیرزادہ کی حوصلہ افزائی اور اعزاز سے نوازا جانا اس تقریب کا ایک اہم اور یادگار پہلو رہا۔
عمر پیرزادہ کی کامیابی اس لیے بھی خصوصی اہمیت رکھتی ہے کیونکہ وہ ایک ایسے سرحدی اور دور افتادہ علاقے سے تعلق رکھتے ہیں جہاں نوجوانوں کو تعلیمی وسائل، بنیادی سہولیات اور دیگر مواقع کے حوالے سے مختلف مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان تمام چیلنجوں کے باوجود ملک کے انتہائی باوقار مسابقتی امتحان میں کامیابی حاصل کرنا ان کی غیر معمولی محنت اور عزم کا مظہر ہے۔
ان کی کامیابی نے ایک مرتبہ پھر ثابت کیا ہے کہ صلاحیت کسی جغرافیائی حدود کی محتاج نہیں ہوتی اور نہ ہی دور دراز علاقوں سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے خواب کسی محدود ماحول کے پابند ہوتے ہیں۔ اگر انسان کے اندر کچھ کر گزرنے کا جذبہ، محنت کرنے کا حوصلہ اور اپنے مقصد کے حصول کے لیے مستقل مزاجی ہو تو کامیابی اس کے قدم چوم سکتی ہے۔
یو پی ایس سی کا امتحان ملک کے مشکل ترین مسابقتی امتحانات میں شمار ہوتا ہے، جس میں کامیابی حاصل کرنے کے لیے برسوں کی محنت، مسلسل مطالعہ، نظم و ضبط اور غیر معمولی ذہنی صلاحیت درکار ہوتی ہے۔ عمر پیرزادہ نے اپنی محنت اور عزم کے ذریعے اس مشکل مرحلے کو عبور کرکے نہ صرف اپنے مستقبل کو ایک نئی سمت دی بلکہ اپنے علاقے کے نوجوانوں کے لیے بھی ایک قابلِ تقلید مثال قائم کی ہے۔
اس کامیابی پر پیر خاندان کے رشتہ داروں، عزیز و اقارب، دوستوں اور علاقے کے لوگوں کی جانب سے خوشی اور مسرت کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ عمر پیرزادہ کی یہ کامیابی پورے کرنہ کے لیے باعثِ فخر ہے اور اس سے علاقے کے دیگر نوجوانوں کو بھی بڑے خواب دیکھنے اور انہیں حقیقت میں بدلنے کا حوصلہ ملے گا۔
تقریب کے دوران لیفٹیننٹ گورنر منوج سنہا نے کامیاب امیدواروں کو اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں دیانت داری، عاجزی، ہمدردی اور عوامی خدمت کے جذبے کو مقدم رکھنے کی تلقین کی۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ سول سروسز محض ایک اعلیٰ عہدہ یا منصب حاصل کرنے کا نام نہیں بلکہ یہ عوام کے اعتماد اور خدمت کی ایک بڑی ذمہ داری ہے۔ ایک اچھے افسر کی اصل کامیابی عوامی مسائل کو سمجھنے اور ان کے حل کے لیے عملی اقدامات کرنے میں مضمر ہوتی ہے۔
انہوں نے نوجوان افسران پر زور دیا کہ وہ انتظامی ذمہ داریاں سنبھالتے وقت زمینی حقائق کو سمجھیں، شفافیت اور جواب دہی کو یقینی بنائیں اور عوامی فلاح و بہبود کو اپنی اولین ترجیح بنائیں۔
اس موقع پر ایکسپشنل اکیڈمی کے ڈائریکٹر اویس علی بھٹ سمیت دیگر معزز شخصیات اور حکام بھی موجود تھے۔ اکیڈمی کی جانب سے منعقدہ اس تقریب کو سول سروسز میں کامیابی حاصل کرنے والے نوجوانوں کی حوصلہ افزائی اور مستقبل کے امیدواروں کے لیے تحریک کا ایک اہم ذریعہ قرار دیا جا رہا ہے۔
کرنہ جیسے سرحدی اور دور افتادہ علاقے کے لیے عمر پیرزادہ کی یہ کامیابی محض ایک فرد کی کامیابی نہیں بلکہ پورے علاقے کے لیے امید، حوصلے اور روشن مستقبل کی علامت ہے۔ ان کی کامیابی نے یہ پیغام دیا ہے کہ اگر نوجوانوں کو تعلیم، محنت اور اپنے مقصد پر یقین ہو تو وہ کسی بھی مقام سے اٹھ کر قومی سطح پر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوا سکتے ہیں۔
بلاشبہ عمر پیرزادہ کی لیفٹیننٹ گورنر کے ہاتھوں پذیرائی پیر خاندان، کنڈی کرنہ اور پورے علاقے کے لیے ایک ناقابلِ فراموش لمحہ ہے۔ ان کی یہ کامیابی آنے والی نسلوں کے لیے مشعلِ راہ ثابت ہوگی اور کرنہ کے نوجوانوں کو تعلیم، مقابلہ جاتی امتحانات اور قومی خدمات کے میدان میں آگے بڑھنے کی نئی تحریک فراہم کرے گی۔
عمر پیرزادہ کی کامیابی صرف ایک خاندان کا اعزاز نہیں بلکہ پورے کنڈی کرنہ کے اجتماعی فخر، عزت اور روشن مستقبل کی ایک خوبصورت داستان ہے۔

